یونیورسٹیوں سے دہشت گردی کیسے ختم ہو؟

pervaiz hood bhoy

پچھلے ہفتے کراچی یونیورسٹی سے دہشت گرد گروپ کے انکشاف کے بعد ایچ ای سی کے چئیر مین کو کچھ نئی تجاویز سامنے لانے کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے اس کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر والدین رات کو جلدی ٹی وی اور انٹرنیٹ بند کر کے بچوں کو سونے پر مجبور کریں تو ا س سے بہت فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور یونیورسٹی کے طلبا کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی طلبا کو بچے قرار دیا جو ایک عجیب چیز ہے۔

اگر اصل حقیقت کو دیکھا جائے تو یہ عمل دہشت گردی سے روکنے کے بجائے خوفناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ایچ ای سی نے کاونٹر ٹیررازم حکمت عملی کے حل کے طور پر ایک تجویز پیش کی ہے کہ طلبا کا ایک ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے جس کے ذریعے یونیورسٹی کے طلبا اور سٹاف کے مسائل پر قابو پایا جائے۔ ان کے مطابق ہم نصابی سرگرمیاں جیسا کہ کرکٹ اور فٹ بال کے کھیل ہیں کے ذریعے طلبا کو بندوق سے دور رکھا جا سکتا ہے۔ اب اس تجویز پر ہنسا جائے یا رویا جائے؟ کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے باجوود اس کے کہ ثبوت کے ساتھ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ انصار الشریعہ گروپ کراچی یونیورسٹی سے چلایا جار ہا ہے۔

انصار الشریعہ سے جڑے دہشت گردوں نے بہت سے پولیس افسران اور ایک آرمی افسر کو قتل کیا ہے۔ لیکن وائس چانسلر اور کے یو فیکلٹی کے مطابق یہ سکیورٹی ایجنسیوں کا سردرد ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ کیونکہ پچھلے چند سال سے انہیں بہت سے تعلیم یافتہ دہشت گردوں کا سامنا رہا ہے۔ پولیس چیف کے مطابق اے ایس پی کے سربراہ اور ساتھی نے اس یونیورسٹی سے اپلائیڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ سے بی ایس سی اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ دوسرے کارکنان کا تعلق کراچی اور بلوچستان کی دوسری یونیورسٹیوں سے ہے۔ سندھ اسمبلی کے سیاسی لیڈ ر اظہار الحسن پر ناکام قاتلانہ حملہ جس حملہ آور کے قتل کا باعث بنا وہ حملہ آور پی ایچ ڈی سکالر تھا۔

جی ایچ کیو پریشان ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی گنوا چکا ہے۔ اسی لیے پچھلے سال آئی ایس پی آر نے ایک میٹنگ منعقد کی جس کا عنوان تھا: دہشت گردی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کا کردار۔ اس میٹنگ میں چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے خطاب کیا۔ آرمی چیف نے ان دہشت گردون کو ان کے بلوں سے نکال کر مارنے کا عزم ظاہر کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ کچھ باعزت لبر لوگوں نے بھی آرمی نوجوانوں سے خطاب کا اعزاز حاصل کیا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ سب سے اہم نکات کسی لبرل شخصیت یا فوجی رہنما نے نہیں بلکہ ایک طالبہ نے پیش کیے جس کا ذکر میں آگے کروں گا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں اور کالجز میں دہشت گردی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ عام فہم زبان میں اس کا جواب آسان نہیں ہے۔ اس معاملے میں جو اقدامات کرنےچاہییں وہ البتہ بہت واضح ہیں۔

سب سے پہلے تبلیغی ذہن کے کارکن پروفیسرز کو نکالا جائے کیونکہ وہ اپنے محصور سامعین پر اتھارٹی کا حامل ہے اور کلاس کے اندر اور باہر اپنا پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سی یونیورسٹیوں کے طلبا شکایت کرتے ہیں کہ ٹیکنیکل مضامین کے لیکچر بھی اسلامی دعاوں سے شروع کیے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی ریڈیکل ویب سائیٹس اور فیس بک پیجز کے ذریعے بھی ریڈیکلائزیشن کے عمل کو جاری رکھا جاتا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے۔ اس کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ مجھے بھی اس طرح کے حالات کا سامنا 80 کی دہائی میں کرنا پڑا جب ایک کولمبیا یورنیورسٹی کا استاد میرے ساتھ قائد اعظم یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ میں اس استاد کو بہت قابل احترام سمجھتا تھا۔ وہ جماعت اسلامی کا ممبر تھا جوبعد میں افغانستان جہاد میں شامل ہو گیا۔ اس کےبعد 2009 میں اس کی گرفتاری کی خبر سنی۔

اسی طرح احسان اللہ احسان کو دیکھ لیں جس نے آرمی پبلک سکول پر حملے کی نگرانی کی لیکن اس کے خلاف سرکاری ذرائع کی طرف سے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے جس کا واضح مطلب یہ بنتا ہے کہ اس کو کھلی آزادی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ موٹیویشنل سپیکر حضرات بھی کم خطرنا ک نہیں ہیں۔ ان مہمان مقررین کو جہادی پروفیسر ہفتہ وار خطاب کے لیے یونیورسٹیوں میں مدعو کرتے ہیں۔ وہ طلبا کو سازش کی کہانیاں سنا کر ان کے اندر جنگوازم پیدا کرتے ہیں۔ کچھ دل قبل ایک لال ٹوپی والے مولوی صاحب نے ہندوں کو پلید قرار دیا اور 9/11 کو یہودیون کی ایک سازش قرار دیا اور مغرب کے ساتھ ہمیشہ کی جنگ پر سامعین کو ابھارتے نظر آئے۔ آج کل زیادہ تر سپیکر اپنی ملی ٹینسی کو چھپائے رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹرز خود ان ڈی ریڈیکلائزیشن کے عمل کے سامنے مزاحمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری چیز یہ ہے کہ مذہبی عقیدت اور مذہبی شدت پسندی کے بیچ کی حد واضح نہیں ہے جسے کھولنے اور واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جہاں ایک طرف مذہبی معاملات پر لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ایسا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو جائے گا۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ بندوق کی بجائے بحث اور دلائل کے ذریعے ان معاملات سے نمٹا جائے۔ انصار الشریعہ کی مثال لے لیں۔ تنظیم کے نام سے ہی اس کے مقصد کا پتہ چلتا ہے کہ یہ پاکستان کو ایک شرعی نفاذ کا ملک بنانا چاہتی ہے۔

اگرچہ اس جماعت کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور اے ایس پی اس جماعت کے مقاصد کو ٹی ٹی پی، القاعدہ، اور دوسرے شدت پسند گروپوں کے جیسا قرار دیتی ہے لیکن بہت سی قانونی پارلیمانی پارٹیاں جیسا کے جے یو آئی ایف اور جماعت اسلامی اس گروپ کے مقاصد کی حمایت کرتی ہیں۔ پی ای ڈبلیو کے ایک سروے کے مطابق 86 فیصد نوجوان پاکستانی ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ جمہوری گراونڈز پر انصار الشریعہ کس غلطی کے ارتکاب کی مجرم ہے؟ جب تک ایسے سوالات پر بحث نہین کی جاتی، نوجوان پاکستانی ذہنوں کو ورغلانے کا عمل جاری رہے گا۔ اس طرح کے مباحث یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے منعقد ہونے چاہییں۔ کنفیوژن کو کم کرنے کے لیے کھلے ذہن سے بحث و تکرار بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کےلیے سٹوڈینٹ یونینز پر سے کچھ شرائط کے ساتھ پابندی اٹھائی جانی چاہیے۔

سیاسی سرگرمیوں پر پابندی یا کسی معاملے پر گفتگو پر پابندی لگا دینا اس معاملے کا حل نہیں ہے۔ جیسا کہ مشال خان کی لنچنگ کے بارے میں تمام یونیورسٹیوں میں کھل کر گفتگو کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اگرچہ یہ پابندی قائد اعظم یونیورسٹی میں لاگو نہیں کی گئی۔ اب قائد اعظم یونیورسٹی ہر طالب علم کے داخلے سے قبل اس کی پولیس سرٹیفیکیشن کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب اندازہ لگائیں کہ ایک طالب علم سے اس کی سیاسی رائے جاننے کے لیے انٹرویو لیا جاتا ہے۔ اسے پہلے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر اس نے کہا کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہونی چاہیے تو یہ اس کےلیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اب اے ایس پی کریک ڈاون کے بعد اگر وہ کہتا ہے کہ ملک میں شریعت کا نفاذ ہونا چاہیے تو بھی اس کے لیے زیادہ بڑی مشکل کھڑی ہو جائے گی۔ اس کے لیے بہترین حل یہ ہے کہ وہ دوسرو کی ہاں میں ہاں ملاتا رہے۔ کیا یہ کسی بھی طرح فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

تیسری چیز یہ ہے کہ ثقافتی طور پر محروم نوجوان پاکستانی آزادی اور خوشی کے لیے ترس رہے ہیں۔ جس طالب علم کو جی ایچ کیو میں بلایا گیا تھا وہ بہت زہین طالبہ تھیں ۔ حجاب میں ملبوس اس طالبہ نے جو اسلامیہ کالج پشاور سے تھی نے پشاور کی ان ضرورتوں کا ذکر کیا جو اس شہر کے طلبا کو کبھی میسر نہیں رہیں، سینما، سپورٹس گالا، فن فئیر، اور تقریر مقابلے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے والد نے اسے بتایا کہ خیبر میڈیکل کالج کے ڈاکٹر کبھی ماضی میں فن فئیر میں حصہ لیا کرتے تھے۔ وہاں موسیقی کے پروگرام، تھیٹر، کلر اور شاعری کے مقابلے ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ڈانس کے بھی پروگرام منعقد ہوتے تھے۔ اب اس کالج میں ثقافت کو اس قدر نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ کوئی غیر ملکی اس کالج میں داخل تک نہیں ہونا چاہتا۔ کہا جاتا ہے کہ فطرت کو ویکیوم سے نفرت ہے طالبان، القاعدہ اور داعش اپنے کزن جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایس کے زریعے کیمپسز میں ثقافتی ویکیوم کو بھر رہے ہیں۔ ایچ ای سی کے چئیر مین کو فوری طورپر بیدار ہونا ہو گا۔ ان کے پاس سونے کی آپشن موجود ہی نہیں ہے۔ انہیں حقیقی طور پر اس خطرے سے نمٹنے کےلیے کام کرنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *