لائل پور کا افضل احسن رندھاوا

asghar

اب ہم فیصل آباد کہیں یا لائل پور بات تو ایک ہی ہے لیکن امرتسر میں پیدا ہونے والا افضل احسن رندھاوا جب ہجرت کرکے آیا تو لائل پور کے پاس آباد ہو گیا ۔ امرتسر سے جو بھی آیا کچھ لے کر آیا ۔ وہ بھی اپنے ساتھ انسانی آزادی کا شعور لے کر آیا ، آتے ہی ادب شاعری اور سیاسی تحریکوں کا حصہ بن گیا ۔ افضل احسن رندھاوا کی زندگی کے اوراق پلٹنے سے پہلے لائل پور اور پھر فیصل آباد کے شاندار سماجی کردار کا ذکر کر لیا جائے ۔ عام تاثر ہے کہ یہ شہر صنعت و حرفت اور سوتر کا کاروبار کرنے والوں کا شہر ہے ۔ یہ سچ ہے مگر اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ یہ شہر سیاسی کارکنوں ، مزدوروں ، کسانوں ، سماجی کارکنوں ، ادیبوں اور شاعروں کا گھر بھی ہے اور کئی زمانوں سے سیاسی تحریکوں اور انسانی قدروں کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی امید رہا ہے ۔ فیض احمد فیض ، حیبیب جالب ، ، میجر اسحق ، مولانا بھاشانی اور دوسرے رہنماؤں نے یہاں سے اپنے قافلوں کے لئے کمک حاصل کی اور اس شہر نے کسی کو مایوس نہیں کیا ۔ بہت سے نامور استادوں نے اپنے سفر کا آغاز اس لائل پور سے کیا ۔ میں نے طالب علمی کے زمانے میں کالج کے مشاعروں میں حصہ لینے کا آغاز یہاں سے کیا ۔ ایک مشاعرے کے جج جواں سال پروفیسر سلیم بیتاب تھے ۔ میں نے دیکھا وہ میری غزل پر داد دے رہے ہیں اور پھر ٹرافی بھی ہمیں ملی افسوس سلیم بیتاب ایک حادثے میں ہم سے بچھڑ گئے ۔

اب ایک واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ میں پہلی بار چندی گڑھ گیا تو ایک دن ہوٹل میں ایک سکھ بابا میرا پوچھتے ہوئے کمرے میں آ گیا ۔ اس کا نام شمشیر سنگھ تھا ۔ عمر اسی پچاسی سال کے آس پاس ہوگی ۔ اس نے مجھے اپنی کتابیں دیں جو گور مکھی میں چھپی تھیں ۔ کہنے لگا میں اپنے لائل پور کو یاد کرنے آیا ہوں ۔ شمشیر سنگھ ہر بات میں لائل پور کی باتیں شامل کرتا جا رہا تھا ۔ کہنے لگا جس طرح سنا ہے نواز شریف اپنے ساتھ یہاں سے جاتی عمرا ساتھ لے گیا ہے آپاں بھی اپنا لائل پور ساتھ لے آئے ہاں ۔ شمشیر سنگھ کمرے سے اٹھنے پر راضی نہیں تھا کہ میرا دوست سکھی سنگھ آ گیا ۔ وہ مجھے اپنے گاؤں لے جانا چاہتا تھا ۔ جاتے جاتے شمشیر سنگھ نے بِنتی کی کہ جب دن کے بارہ بجیں تو لائل پور کے گھنٹہ گھر کی طرف دیکھ کر مجھے یاد کر لینا ۔ میں جب بھی فیصل آباد جاتا ہوں لائل پور کے گھنٹی گھر کو بارہ بجے شمشیر سنگھ کی طرف سے سلام ضرور کرتا ہوں ۔ اب سکھی سنگھ کی بھی سن لیں ۔ اس کے دادا کی عمر سو سال کے پاس تھی اور اسے کسی پاکستانی سے اپنی زندگی کا راز کہنا تھا تاکہ وہ اطمینان سے آخری سانس لے سکے ۔ میں بھینسوں کے طویلے میں گیا تو ایک چارپائی کا گٹھڑی کی طرح کوئی بابا لیٹا تھا ۔ سکھی سنگھ نے اس کے کان میں بتایا کہ پاکستان سے مہمان آیا ہے اسے بجلی کا جھٹکا لگا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ مجھے ہاتھ پکڑ کے کہنے لگا ایک بات میں پاکستانی کو بتانے کے لئے زندہ ہوں ۔ اگر سن لو گے تو میں فوراٍ سور گباشی ہو جاؤں گا وہ بات یہ تھی جو اس نے کہی۔

جب 1947 کا بٹوارہ ہوا تھا میں نے اپنے گاؤں کے تمام مسلمان خاندانوں کو خود اپنے ہاتھ سے گاڑی میں بٹھایا ۔ کسی کو ذرا سی تکلیف نہیں ہونے دی تھی ۔ کئی جوان بھی ساتھ حفاظت کے لئے بھیجے ۔ اب آگے ان کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں ۔ یہ بات کہنے کے لئے وہ زندہ تھا ۔ پھر اگلے دن وہ سور گباشی ہو گیا ۔

Image result for afzal ahsan randhawa

اب ہم لائل پور کے سچے سپوت افضل احسن رندھاوا کو یاد کرتے ہیں جو چند دن پہلے ہم سے بچھڑ گئے ہیں ۔ انہوں نے ایسی پنجابی زبان میں ناول کہانیاں اور ادب لکھا کہ جس کو پڑھ کر سرحد پار اور اپنے ملک کے لکھنے والوں نے پنجابی زبان میں تخلیق کرنا سیکھا ۔ صوفیاء کرام کے بعد پنجابی زبان کی تخلیقی طاقت کو جس لکھنے والے نے دریافت کیا اس کا نام افضل رندھاوا ہے ۔ ان کے ناول "دو آبہ" نے پنجابی زبان کی رسوعت کا احساس دلایا ۔ کیا کردار اور کیا کہانی اور کیا اسلوب کہ پڑھنے والے کے اندر زندگی کا رس بھر جائے ۔ دو آبے کی ساری رہتل ناول میں سمیٹ لینے والے افضل رنداھاوا سے جب میں پہلی بار ملا اور میں نے ہاتھ ملانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو انہوں نے بھی ہاتھ آگے بڑھایا ۔ مگر یہ کیا لکڑی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں آ گیا ۔ معلوم ہوا کہ کسی حادثے میں بازو نہیں رہا لیکن سچ بتاؤں اس لکڑی کے ہاتھ میں بھی وہی گرمائش تھی جو کسی محبت کرنے والے کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ جانتے بوجھتے ہوئے میں لکڑی کے ہاتھ سے ہر مرتبہ ہاتھ ملاتا تھا ۔ افضل احسن رندھاوا نے اردو میں لکھنے سے آغاز کیا ۔

زمان خانی بھی لائل پور کی دیگ کا پکا چاول ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں اردو میں افسانے لکھے ۔ ایک دن منیر نیازی اور رندھاوا کو مشروب مغرب کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑی تو افضل اندھاوا نے ایک افسانہ لکھا اور ایک اخبار می جا کر بیچنے کے لئے ایڈیٹر کو دکھایا ۔ اس نے افسانہ پڑھ کر فوراً اتنے پیسے دے دئیے کہ دونوں سیدھے ولائیتی خریدنے جا پہنچے ۔ ابھی پچھلے سال میری دعوت پر فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں آئے تو کہا سن میں صرف تمہارے لئے آیا ہوں ۔ میں نے کہا اس سے زیادہ میرے لئے فخر کی کیا بات ہے کہ آپ میرے لئے آئے ہیں اور پھر ان سے جب گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ایک وقت آیا کہ میرے سب بھائی قتل کے الزام میں اندر ہو گئے اکیلا میں بھاگ گیا اور پھر اس جھوٹے الزام سے کیسے رہائی ملی ۔ الگ کہانی ہے ۔ کہنے لگے ہم دشمن دار لوگ تھے لیکن میں نے آہستہ آہستہ محبت اور انسانی قدروں کے ذریعے یہ دشمنی مٹائی ۔ وکالت کا پیشہ اسی لئے اپنایا کہ آئے روز کی مقدمہ بازی نے ہلکان کر دیا تھا اور پھر تو ایسا وقت آیا کہ مظلوموں کے لئے عدالت میں خود بلا معاوضہ پیش ہونے لگے ۔ سیاست میں قدم رکھا تو وہاں بھی عوام کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ۔ ہارتے اور جیتتے رہے ۔ اسی طرح کی زندگی کے ماحول کو افضل احسن رندھاوا نے اپنے مشہور افسانے " رن ۔ تلوار تے گھوڑا" میں پیش کیا ۔ اس کہانی نے پڑھنے والوں کو حیران کر دیا ۔ حیران تو وہ اپنی ہر تحریر سے کر دیتے تھے ۔ مجلسی آدمی تھے لائل پور کے بعد فیصل آباد کی زندگی میں ہر جگہ مخصوص کیپ پہنے اپنی تلوار سے تیز مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بھاری آواز میں اپنا پتہ دیتے ۔ لاہور سے دور ہوتے ہوئے بھی انکے فن کی گونج ہر جگہ پہنچی اور اکادمی ادبیات نے انہیں کمال فن ایوارڈ سے نوازا اور چئیرمین قاسم بگھیو پانچ لاکھ کا ایوارڈ لے کر ان کے گھر پہنچے اور انہیں راضی کیا کہ وہ یہ ایوارڈ رکھ لیں کہ اس سے ایوارڈ کی عزت بڑھے گی ۔

افضل احسن رندھاوا نے کبھی خواہش نہیں کی تھی کہ ان کی حیثیت کو تسلیم کیا جائے ہمیشہ ایک ورکر کی طرح کام کرتے رہے ۔ سوچتا ہوں ایسے لوگ کہاں ملیں گے ایک زمانہ اپنے ساتھ لے کر افضل احسن رندھاوا ہماری مجلسی اور ادبی زندگی سے چلا گیا ۔ وہ لائل پور کے گھنٹہ گھر کی طرح تھا جس کے چاروں طرف راستے نکلتے تھے اور وہ راستے ہماری قومی زندگی کی شریانیں تھیں ۔ ابھی ان شریانوں میں اس کی تخلیقی طاقت دوڑ رہی ہے ۔ معلوم نہیں لکڑی کا ہاتھ ان کے ساتھ دفنا دیا گیا ہے یا نہیں ۔ کاش وہ ہاتھ رہ جاتا کہ اس میں جو گرمائش مجھے محسوس ہوتی تھی وہ اب بھی محسوس کی جا سکتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *