اگر ہم سپرپاورہوتے

احمد نواز اسحاق

Ahmed nawaz ishaq

موجود ہ سپرپاور ہونے کے امکان کو بھی چھوڑیں اگر مستقبل قریب میں بھی اس سپر گدی کی بھاگ دوڑ ہمارے سپر ہاتھوں میں لگنے کا تھوڑا سا بھی اندیشہ ہوتا توآج اس نام نہاد مہذب دنیاکو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے ۔اور کچھ نہیں تو کم از کم اس دنیاکے عالمی نظام پر کسی ڈھنگ کے بندے کی حکمرانی ہوتی۔اس تلخ حقیقت کے باوجود کہ خود ہمارا اپنا ہاتھ بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے اس حوالے کافی تنگ چلا آرہا ہے ۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس معاملے میں ہمارے حالات کبھی اتنی خراب نہیں ہوئے جتنے آج کل بے چاری اکلوتی سپر پاور کے نظر آتے ہیں۔برحال اس ضمن میں سنہری بالوں والے بابا جی کی ذہنی حالت دیکھ کر امریکہ کے لیے دعاہی ہی کی جاسکتی ہے ۔رہی بات اس کرہ ارض پر بسنے والے سات ارب سے زائد انسانوں کے پرامن حال اور مستقبل کی تو اینگری اولڈی مین کی سلامتی کونسل کی تقریر کے بعد اس کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر رضائے الہی اور عوام کی دعاووں سے( محنت سے اور کوششوں چونکہ ایسا ہونا فی الحال تقریبا ناممکن ہے) آج ہم سپر پاور ہوتے تو دنیا میں امن و امان کی صورت حال ، او ر خصوصا مسلمانوں (جس میں ہم خود بھی شامل ہیں) کے حالات اس قدردل شکستہ نہ ہوتے۔ دنیا میں امن و امان ،اور خوشحالی یوں ناپید نہ ہوتے ۔ عالمی طاقتیں اور انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیدار اپنی پراکسی جنگوں میں ہمارے جیسے ملکوں کو مس یوز کرکے موجیں نہ مان رہے ہوتے۔ برما، کشمیر ،شام ، عراق، یمن ،فلسطین اور دنیا بھر کے بے گناہ انسا ن خصوصا کمزورمسلما ن شیطان اور اس کے چیلوں کے ہر شر سے محفوظ ہوتے ۔نفرت ، تعصب اور نسل پرستی کے فرعون اور ان کے سپانسرڈ دہشت گرد اس قدر بے لگام نہ ہوتے ۔دنیا کا امن اور مستقبل ٹرمپ ، مودی ، اس طرح کے دوسرے متعصب، جنونی اور حواس باختہ مسخروں کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوتا ۔ آشن وارتھو اور آن سانگ سوچی جیسے درندوں کے ہاتھوں ، عالمی ضمیر کا منہ یوں باربار کالا نہ ہوتا۔ بلکہ کیا آشن وارتھو، کیا داعش، کیاٹرمپ ، کیا مودی اور اس طرح کے تمام چھوٹے موٹے تمام سیلف میڈ اور ریڈی میڈ فرعون اب تک باقاعدہ بندے کے پتر ہوتے۔
اگر ہم سپر پاور ہوتے تو آج امریکہ ہمارے ہر معاملے میں یوں سرعام اور کھلم کھلا ٹانگیں اڑانے میں اس قدر فراخ دل نہ ہوتا ۔ٹرمپ اینڈ کمپنی اس وقت ہمیں ڈرانے دھمکانے اور الزامات لگانے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانک کر شرم سے پانی پانی ہو رہے ہوتے۔ ان حالات میں ہم اپنے دیرنیہ اتحادی کو اپنی شرانگیز پالیسوں پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ ساتھ شرم سے ڈوب مرنے جیسے مفید مشوروں سے بھی نوازتے۔آج ساری دنیا نے ڈو مور کے نام پر ہمیں نہیں بلکہ ہم نے ساری دنیا کو آگے لگایا ہوتا۔ڈو مور امریکہ کرتا اور ہم اور ہم ڈونتھنگ ۔ کیا ابامہ ، کیاجارج بش، اور کیا ٹرمپ سبھی ہمارے وژنری اور عظیم لیڈر وں کے سامنے تابع دار درباریوں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے نظرآتے ۔آج امریکہ ہمارا دست نگر ہوتا اور ہم اس کے مالی ، سیاسی اور اقتصادی مربی اور سرپرست۔ ہم بوڑھے ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے اور وہ آنکھیں جکا کر۔ پوری دنیا میں کامیابی سے فساد اور لڑائی جھگڑے کروانے پر ہم امریکہ کو دہشت گردی کے نوبل انعام سے نواز نے کی سفارش کرتے ۔
صرف یہ ہی نہیں اگر ہم سپر پاور ہوتے تو عالمی معاملات میں ہمارا رول بھی بڑا منصفانہ اور بڑا غیر ت مندانہ ہوتا ۔ہم دنیا کو امن اور جمہوریت کے نام پر اس قدر ذلیل و خوار نہ کرتے جتنا اس وقت اس کو کیا جارہا ہے ۔ہم عالمی امن کو اتنا ہی سیریس لیتے جتنا غیر سیریس امریکہ (اپنے ملک کے علاوہ) بدامنی اور انتشار کو لیتا ہے۔حتی کہ ہم عالمی امن کے لئے وہ دو چار ضروری کام بھی کرگزرتے جنہیں سوچ کر ہی امریکہ اور دوسری طاقتوں کے ڈھیلے باہر آجاتے ہیں ۔ جن میں ایک کومہ میں پڑے ہوئے عالمی ضمیر کو زندہ کرنے، دوسرامسلمانوں کے معاملے میں بھنگ پی کر سوئی اقوام متحدہ کو ہوش میں لانے اور تیسرا کام آپس میں برسر پیکارمسلم امہ کو خواب غفلت سے جگانے کا اورا س ضمن میں ہم خاص طور پر ان مسلم ممالک کی سوئی غیرت کو جگانے کا خصوصی اہتمام کرتے جو مشکل وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کے حق میں بیان دینا تو دور کی بات ہے واش روم میں جانے سے پہلے بھی اپنے ولایتی آقاووں سے اجازت لینا نہیں بھولتے۔ان حالات میں ایسے عالمی بے ضمیروں کو اچھی طرح جنجھوڑنے اور کلمہ حق کہنے کی اخلاقی جرت وہی ملک کرسکتا ہے جس کا اپنا ضمیر انسانیت کے لیے پہلے سے ہی زندہ ہو ۔جو اپنے شہریوں کے علاوہ باقی دنیا کے لوگوں کو بھی انسان سمجھتا ہو۔جو محض اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے دنیا میں نئے نئے تنازعات کے لیے باقاعدہ متحرک ، دعاگو اور متمنی نہ رہتا ہو، جو صرف اپنی دادگیری کو برقرار رکھنے کے لیے دنیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈال دیتا ہو، اور جوافغاستان اور عراق جیسے ملکوں پر صرف وسائل کی لوٹ مار کے لیے حملہ آوار نہ جو جاتا ہو، جو مسلمانوں کے لئے بے تحاشا تعصب نہ رکھتا ہو۔اور جس کا اپنا وجود پوری دنیا کے مجموعہ شر اور مجموعہ تباہی نہ ہو۔
ہمارے علاوہ اس میرٹ پر اور کونسا ملک پورا اترتا ہے یہ تو ہم نہیں جانتے مگر ا تنا ضرور جانتے ہیں کہ عالمی سپر پاور کے درجے پر فائز ہونے کے لئے اور بھی بے شمار خوبیوں اور قابلیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔کاش ہمارے اب تک آنے والے تمام مسیحاووں نے پاکستان کو اسلام اور انسانیت کا قلعہ کہنے کے علاوہ ، وطن عزیز کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ ، دولت مند اور طاقت ور بنانے پر بھی توجہ دی ہوتی ۔ کسی اللہ کے بندے نے دو چار عالمی میعارکی یونیورسٹیاں بنائی ہوہتیں ،خلوص نیت سے سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہوتی ،اقتصادی طور پر ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے جان ماری ہوتی اور اس طرح چند اور اچھے کام کئے ہوتے تو آج ہم بغیر کسی اگر مگر کے اصلی والی سپر پاور ہوتے ۔ اور اگرآج ہم واقعی سپر پاور ہوتے تو امریکہ کے دل پہ کیا گزرتی اس کا تو نہیں پتہ، مگر اتنا پتہ ضرور ہے کہ یہ دنیا کرہ ارض کے باقی تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ خو د امریکیوں کے لیے ایک پرامن پلیس ہوتی ۔ لہذا دنیا والوں ابھی وقت ہے سوچ لو ہماری جیسی قیادت تمہیں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *