آہٹ

M tahir

ہائے ! بلوچ کہاو ت غضب ڈھاتی ہے: آنکھ اپنے عیب دیکھنے میں اندھی ہوتی ہے ۔“مگر الطاف حسین کی متنوع گفتگو کے متفرق پہلوو¿ں نے وکٹورین عہد میں سب سے زیادہ احترام پانے والے ناول نگار انتھونی ٹرولپ (Anthony Trollope) کو بھی یادداشت میں اجاگر کیا ۔وہ بھی اِسی سماجی اور نفسیاتی گتھی کو سلجھا رہا ہو گا جب اُس نے کہا:

No man thinks there is much ado when ado about him self.

( کوئی آدمی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خواہ مخواہ ایک بکھیڑا کھڑا کر رہا ہے جب وہ بکھیڑا خود اُس کے اپنے متعلق ہو۔)

اپنے پریشان اور عالیشان دونوں ہی لمحات میں انسان غافل ہو جاتا ہے تب ایک لمحہ¿ سفاک اُسے تاک لیتا ہے۔ روبوٹ کی طرح حرکت کرتے اور ٹیپ کے بند کی طرح بولتے کارکنان کو چھوڑیئے ، الطاف حسین اب ایک ایسی کیفیت میں جارہے ہیں جہاں وہ خود کے لئے ہی نقصان دہ ہونے لگے ہیں۔ وہ اِس وقت مختلف مسائل کے شکار ہیں ۔ ایک طرف خود اُن کے ہی بقول اُنہیں عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں ”پھنسایا“ جارہا ہے۔ دوسری طرف اُنہیں منی لانڈرنگ ایسے قبیح الزامات کا سامنا ہے ۔ خود الطاف حسین نے اپنے ہی خطاب میں اِن دونوں معاملات کی نشان دہی کردی ہے۔مثلاً جب اُنہوں نے کہا کہ ” میرے لئے پیسہ میری عوام دیتی ہے ،کئی سیاست دانوں کی بڑی بڑی جائیدادیں ہیں ،اُن کے خلاف ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس کچھ نہیں کرتیں ۔“اِس مقام پر دراصل الطاف حسین اُسی دباو¿ کی نشان دہی کر رہے تھے جس کا اُنہیں منی لانڈرنگ کے حوالے سے سامنا ہے۔اُن کے خلاف برطانوی حکومت کے پاس متفرق درخواستیں موجود ہیں ۔ جن میں کراچی میں منظم طور پر بھتوں کی وصولی سے لے کر رقوم کی غیر قانونی طور پر دنیا بھر میں ترسیل کے معاملات بھی شامل ہیں ۔ بہت جلد اِس کی آنچ پاکستان کے ایک منی چینجر تک بھی پہنچنے والی ہے ،جو دبئی میں اب ایک بڑے انتظام کے ساتھ بروئے کار ہے۔بس دیکھتے جائیے۔لندن کا ایک ذریعہ ابھی یہ منکشف کر رہا ہے کہ الطاف حسین کے گھر کی تلاشی کے دوران اُنہیں وہاں سے ایک ملین پاو¿نڈ سے زیادہ بڑی رقم ملی ہے اور یہ بیس بیس پاو¿نڈ کی کاغذی کرنسی میں تھی۔ برطانیہ میں بیس پاو¿نڈ کی رقم جب خرچ کرنے کی نوبت آتی ہے تو عام طور پر ”کارڈ“ کا استعمال ہوتا ہے۔ اُنہیں اِس رقم کے حوالے سے تین بڑے سوالات کا سامنا ہے ۔

یہ رقم کہاں سے آئی؟اتنی بڑی رقم اُنہیں گھر پر رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ وہ اِس رقم کا استعمال کیا اور کہاں کرتے ہیں؟جب وہ اِن سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں گے تو پھر اُنہیں پہلے سے موجود الزامات کی درخواستوں کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جائے گا۔لندن کا یہی ذریعہ اصرار کرتا ہے کہ اگلے چندروز میں ہی الطاف حسین کو ایک تفصیلی تفتیش کے لئے طلب کئے جانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔اسکاٹ لینڈ یارڈ کے طریقہ کار کے تحت یہ تفتیش بصری فیتوں میں محفوظ کی جاتی ہے۔مگر الطاف حسین پر عائد یہ دونوں الزامات یعنی منی لانڈرنگ اور عمران فاروق کے قتل کی چونکا دینے والی تفصیلات سے یہاں گریز کرتے ہیں۔

درحقیقت تازہ مسئلہ یہ ہے کہ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کچھ مزید مسائل کو اپنے لئے مدعو کر لیا ہے۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ اُن کے خلاف جارج گیلوے ،لارڈ نذیر اور عمران خان کو استعمال کیا گیا ۔اطلاعات یہ ہیں کہ جارج گیلوے اس پر قانونی چارہ جوئی کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں ۔ مگر زیادہ خطرناک معاملہ کچھ اور ہے ۔الطاف حسین کی جانب سے برطانوی حکومت پر الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اُس پر کسی بھی وقت سنجیدہ اقدامات اُٹھائے جاسکتے ہیں ۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ” برطانوی اسٹیبلشمنٹ بڑی صفائی سے میری جان لے سکتی ہے “ ایک اور موقع پر اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ”برطانوی حکومت اس خوب صورتی سے میری جان لے سکتی ہے کہ کسی کوپتہ نہیں چلے گا۔“ یہ پاکستان یا پاکستانی حکومت کے بارے میں کہے ہوئے الفاظ نہیں ہیں جو ہوا میں تحلیل ہو جائیں ۔برطانیہ میں کہے ہوئے الفاظ کی اہمیت بھی ہوتی ہیں اور غلط کہے ہوئے الفاظ کی ایک قیمت بھی ہوتی ہیں ۔ برطانیہ میں آزادی¿ اظہار کی حدود بھی واضح ہیں اور خالی خولی الزامات کے خلاف قانون کی اُبھرنے والی موسیقی کی ہنگامہ خیزی بھی اجنبی نہیں ۔

برطانیا میں الطاف حسین کے اِن الزامات کو ولیم جوائیس کی مانند لیا گیا ہے ۔ ولیم جوائس کے مسئلے پر فرانسس سیلون (Francis Selwyn)کی کتاب ”Hitlers englishman“روشنی ڈالتی ہے ۔ ولیم جوائس نے برطانیہ سے بھاگ کر جرمنی میں پناہ لی اورجرمن ریڈیو کے ذریعے برطانیہ کے خلاف تبصرے اور الزام تراشی کرتا رہا۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد اُسے گرفتار کیا گیا اور اُسے مقدمے کا سامناکرنا پڑا تھا ۔ برطانیہ میں موجود ایک پاکستانی نژاد جو الطاف حسین سے متعلق اِن تمام معاملات سے کماحقہ آگاہ ہیں اور اُس پیشرفت کے حوالے سے بھی باخبر جو الطاف حسین کے حوالے سے مختلف سمتوں میں ہو رہی ہیں ،الطاف حسین کے برطانوی حکومت پر الزامات کو ولیم جوائس کے اقدام کی طرح دیکھتے ہیں ۔اس ضمن میں برطانوی وزیر اعظم کومختلف خطوط لکھے جانے کی تیاریاں بھی ہیں ۔اور اس پر قانون لازماً حرکت میں آئے گا۔الطاف حسین کے اِن الزامات کا جائزہ اُن کی برطانوی شہریت کے بنیادی عہد کے تناظر میں بھی لیا جائے گا۔تمام آزاد ذرائع اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ الطاف حسین نے اپنے خطاب کے ذریعے خو د کو ہی نقصان پہنچایا ہے ۔ اگر الطاف حسین کی جانب سے یہ برطانوی حکومت پر دباو¿بڑھانے کی کوشش تھی تو یہ ایک خراب حکمتِ عملی تھی اور اگر یہ بے پناہ دباو¿ میں اُن کی اب تک کی تشکیل شدہ شخصیت کا بے ساختہ اظہار تھا تو یہ صرف اُن کے لئے ہی نہیں بلکہ اُن کی جماعت کے لئے بھی مستقبل میں نہایت ضرررساں ثابت ہونے والا ہے۔ مگر الطاف حسین جب اِس کیفیت میں نہیں تھے تب بھی اُن کا معاملہ بلوچ کہاوت سے مختلف نہیں تھا ۔ اب تو وہ ایک دباو¿ میںبھی ہے ۔لہذا اُن سے اِس سے بڑھ کر کچھ اُمید کی بھی نہیں جاسکتی۔ کیا تقدیر کی آہٹیں الطاف حسین تک پہنچنے والی ہیں ؟ کچھ دن گزریں گے کہ اس کا جواب سامنے آجائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *