یہ فیصلہ فوج کو کرنا ہے

Ayaz Amirایاز امیر
ہمیں اپنی بناوٹی کنفیوژن کو قدرے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان نے یمن کی دلدل میں قدم رکھنا ہے یا نہیں، کیا وہاں فوجی دستے بھیجنے ہیں ، کیا پاکستان نے فوجی کارروائی میں عملی حصہ لینا یا اس سے گریز کرنا ہے، ان امکانات کا فیصلہ تو دفاعی اداروں، نہ کہ نواز شریف، جو سعودی حکمرانوں کے ممنون و مشکور ہیں، نے کرنا ہے۔ سولین حکومت کو کچھ عرصہ پہلے اہم اداروں کے ہاتھوں بعض اوقات کمال عمدگی سے اور بعض اوقات قدرے سختی سے کچھ اسباق سکھائے گئے کہ وہ اپنی طاقت اور اختیار کی حدود کو پہنچانے اور ان کی پاسداری کرے، کہ اسی میں دانائی ہے۔ حکومت کوبتادیا کہ اس نے اس جگہ قدم رکھنا ہے اور اس جگہ سے گریز کرنا ہے۔ اس صورتِ حال کو ’’soft coup‘‘ کہنے والوں کی بھی کمی نہیں اور ان کے پاس ایسا کہنا کا بہرحال جواز موجود ہے۔ بات واضح کہ اہم معاملات پر فوج کا ہی حکم چلتا ہے۔ چنانچہ ان معروضات کے ہوتے ہوئے یہ کیسے فرض کرلیا گیا کہ سعودی خواہش پر فوج بھیجنے کا فیصلہ نواز شریف کریں گے؟
نواز شریف کا ذاتی جھکاؤ جو بھی ہو، وہ سعودی میزبانوں کے کتنے ہی مشکور کیوں نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ نہ تو وہ فوج پر حکم چلاتے ہیں اور نہ ہی فوج ان کے احکامات لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج اپنے، خاص طور پر اہم، فیصلے خود کرتی ہے۔ چنانچہ دیکھا جاسکتا ہے کہ دیگر معاملات میں آئی ایس پی آر ٹویٹ پیغامات نشر کرنے میں بے حد فعال ، لیکن یمن کے معاملے پر اس کی طرف سے تاحال مکمل خاموشی ہے۔ اس معاملے میں لگتا ہے کہ عقل و دانائی سے کام لینے کو بہترین دلیری سمجھا گیا ۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور مشیر برائے قومی سلامتی، سرتاج عزیز ، ریاض سے واپس آئے ہیں۔ کیا اسلام آباد میں ان دونوں حضرات کو کوئی سنجیدگی سے لیتا ہے؟جہاں تک خواجہ صاحب کا تعلق ہے تو انہیں دفاعی معاملات میں کتنی اتھارٹی ہوسکتی ہے، اس کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ۔ اب وہ اور سرتاج عزیز وزیرِ اعظم کو کیا رپورٹ پیش کریں گے اور وزیرِ اعظم کیا فیصلہ کریں گے؟آج کل وزیرِ ا عظم کو ’’اعلیٰ سطحی اجلاسوں‘‘ کی صدارت کرتے دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ سجے ہوئے دیوان خانے، ایرانی قالین، سولین چہرے سوچ سے عاری اور فوجی افسران پراعتماد اور یوں اجلاس کا تاثر ملتا ہے۔ میں مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہا، وزیرِ اعظم کی پریشانی ان کے چہرے سے ہویدا ہے۔ دراصل وہ سعودی عرب کا ہر حد تک ساتھ دینا چاہتے لیکن اس دوران اُنہیں اس عمل میں خطرات کا بھی احساس ہے۔ اس دوران فوج بھی کھل کر اپنا موقف پیش نہیں کررہی۔ ایسا تاثر ہے کہ وہ آخری فیصلے کی ذمہ دار سولین حکومت پر ڈالنا چاہتی ہو ، تاہم ایسا نہیں ہے۔
اب وزیرِ اعظم ترکی کی سمت محوِ پرواز ہیں۔ دراصل کچھ نہ کرتے ہوئے متحرک دکھائی دینے کا یہ ایک عمدہ طریقہ ہے۔ اُنھوں نے پہلی خلیجی جنگ (1990-91)کے دوران بھی یہی کچھ کیا تھا۔ جب تمام نظریں جنگ پر مرکوز تھیں تو وہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کررہے تھے، اور حیرت کی کوئی بات نہیں کہ کسی نے بھی ان پر توجہ نہیں دی تھی۔ اس مرتبہ بھی جب وہ دورے پر روانہ ہوئے ہیں تو کوئی بھی دم سادھے نہیں بیٹھا اور نہ ہی کسی کو توقع ہے کہ وہ کوئی بریک تھرو کرنے جارہے ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف، لیفٹیننٹ جنرل ندیم آصف اور ڈی جی ملٹری اپریشنز، میجر جنرل عامر ریاض بھی ریاض جانے والے وفد میں شامل تھے۔ فوجی حلقوں میں یہ دونوں افسران بہت بلند رائے رکھتے ہیں۔ درحقیقت انہیں موجودہ ہائی کمان کا ’’دماغ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی طرف سے آرمی چیف اور کورکمانڈروں کو پیش کی گئی رپورٹ کی اہمیت یقیناًہوگی اور اسی کے بنیاد پر پاکستان کو آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس دوران سولین حکمران مقاماتِ مقدسہ کو لاحق خطرات اور ان کی حفاظت پر نعرہ زنی کرتے رہیں گے تاکہ وہ اپنی اہمیت جتا سکیں۔
ایسا نہیں ہوسکتا کہ جنرل راحیل شریف وزیرستان سے لے کر کراچی تک، دھشت گردی پر قابو پانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دے رہے ہوں اور پھر یمن جیسے اہم معاملے پر سولین رہنماؤں کو آگے کردیں۔ اُن کی طرف سے درست طور پر کہا گیا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا، پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا۔ بنیادی سوال ... کیا پاکستان کرائے کے سپاہی کا کردار ادا کرے گا، جیسے جنرل ضیا اور پھر جنرل مشرف کے زمانے میں افغان جنگوں کے دوران اس نے خود کو غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ ایک کٹھ پتلی بنا دیا؟یا پھر اس نے زیادہ باعزت راستے کا انتخاب کرنا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ قومیں ایک دوسرے کی مشکور ہوتی ہیں نہ احسان مند...یہ جذبات افراد میں ہوتے ہیں۔ روس نے 1848ء میں ہنگری شورش کوکچلنے میں مدد کی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا وہ روس کے احسان مند ہیں، تو اسٹریا کے وزیرِ اعظم کاؤنٹ فلیکس شوارزنبرگ (Count Felix Schwarzenberg) نے جواب دیا...’’اسٹریادنیا کواپنی احسان فراموشی سے چونکا دے گا۔‘‘ تاہم ایسی عملی سوچ رکھنے کے لیے ذی فہم دماغوں کی ضرورت ہے۔
ایک اور مثال بھی یاد رکھنے کے لائق ہے۔ ہٹلر نے سپینش سول وار(1936-39) جیتنے میں جنرل فرانکو کی مدد کی۔ جب دوسری جنگِ عظیم چھڑی تو ہٹلرکو توقع تھی کہ جنرل فرانکو ان کاساتھ دیں گے۔ ہٹلر اور جنرل فرانکو کی فرانس کے سرحدی قصبے،Hendaye، میں ملاقات ہوئی تو ہٹلر کی بائیوگرافی لکھنے والے آئن کریشا لکھتے ہیں...’’ایک موقع پر ہٹلر اتنی جھنجلاہٹ کا شکارلگتے تھے کہ وہ میز سے اٹھے اور کہا کہ اب بات جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ‘‘جب وہ میٹنگ چھوڑ کر جارہے تھے تو کہتے سنائی دیے...’’اس شخص کے ساتھ کوئی معاملہ طے نہیں کیا جاسکتا۔‘‘بعد میں ہٹلر نے میسولینی سے کہا...’’فرانکو سے نو گھنٹے بحث کرنے سے تو بہتر تھا کہ وہ اپنے تین چار دانت نکلوا لیتا۔‘‘
ہم اپنے آزاد پریس پر اپنی قسمت کے مشکور ہیں۔ عرب سرزمین پر فوجی بھیجنے کے خطرات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ۔ اگرہم ایک مرتبہ پھر کرائے کے سپاہی کا کردار ادا کرنے جارہے ہیں تو ہماری عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں پہلے ہی پاکستان کو ’’مسکین‘‘ کہا جاتا ہے۔ امکان ہے کہ اگر ہم ان کی خاطر میں خطرے میں کود بھی پڑے تو وہ ہمارے مشکور نہیں ہوں گے بلکہ ہمارے اس تاثر(مسکینی) میں ہی اضافہ ہوگا۔ تاہم نواز شریف جنرل فرانکو نہیں۔ اگر وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہوتے تو اس وقت تک پاکستان اپنی نصف کے قریب ڈویژنز سعودی عرب بھیج چکا ہوتا، تاہم یہ فوج ہے جس نے آخری فیصلہ کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جب آسان فیصلے کرنے ہوں تو فوج آگے آجائے اور جب مشکل فیصلوں کا وقت ہو تو سولین کو آگے کردے۔یہاں وزیرِ اعظم کے غور وفکر اور فہم و تدبر سے کام لینے کے تردد کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ، اوّل تو وہ ایسے امور میں مہارت نہیں رکھتے ، اور پھر اہم بات یہ کہ فوج کیا سوچ رہی ہے۔ پاکستان میں سب جانتے ہیں کہ اصل طاقت کے حامل حلقے کون سے ہیں اور فیصلہ کس نے کرنا ہے۔ اس وقت عوامی موڈ بھی یہی ہے کہ فوج کو دیارِ غیر میں لڑنے کے لیے نہ بھیجا جائے۔
اس وقت سعودی عرب نے خود کو ایک سٹریٹیجک مسلے میں الجھا لیا ہے۔ یہ اس جنگ کو نہیں جیت سکے گا، اور نہ ہی منصور ہادی کو صدارت کے منصب پر بحال کراسکے گا۔ فضائی حملوں کے باوجود حوثی قبائل کی پیش قدمی جاری ہے ۔ دکھائی دیتا ہے کہ اُنہیں جنگ میں برتری حاصل ہے۔جہاں تک زمینی کارروائی کا تعلق ہے تو یہ حددرجے کی حماقت ہوگی کیونکہ سعودی فوج کسی بھی صورت زمینی جنگ کا دباؤ برداشت نہیں کرپائے گی۔ اُس صورت میں پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہوں گے ؟سوال یہ نہیں کہ اس وقت ہم فوج کیوں بھیجیں جبکہ ہم خود بھی ایک جنگ لڑرہے ہیں۔ حزب اﷲ اسرائیل کے ساتھ برسرِ پیکار رہتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے جنگجو بشار الااسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حزب اﷲ کا شام کے ساتھ مفاد وابستہ ہے۔ کیا ہمارا سعودی عرب کے ساتھ بھی اسی قسم کا مفاد ہے؟
درحقیقت یہ خالی جذباتیت کے اظہار کا موقع نہیں کہ ہم ہرقیمت پرمقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کریں گے۔ان مقامات کو کسی کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔ ہمارارویہ عملی اور معقول ہونا چاہیے اور ہمیں صورتِ حال کا ٹھنڈے دماغ، نہ کہ پرجوش دل، سے جائزہ لیناہوگا۔ دکھائی یہی دیتا ہے کہ ایسا جی ایچ کیو ، نہ کہ وزیرِ اعظم کے دفتر، میں کیا جارہا ہوگا۔ اب فیصلہ چاہے درست ہو یا غلط، کسی کو بھی ابہام نہیں کہ حقیقی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *