کاہلی کا عالمی دن

کاہلی ایک عظیم نعمت ہے۔yasir pirzada کس کا دل کرتا ہے کہ علی الصباح بستر سے اسپرنگ لگا کر اٹھے، کسی پارک میں ایک گھنٹہ دوڑ لگائے اور اس کے بعد نہا دھو کر اپنے کام میں جُت جائے ۔ میرا بس چلے تو ایسی چوکس زندگی گزارنے والوں پر پابندی لگا دوں، اس قسم کے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ سُستی اور کاہلی میں کس قدر لطف ہے۔ بدنصیب ہیں وہ لوگ جو چھٹی کے دن بھی صبح چھ بجے اٹھ کر ورزش کرتے ہیں، مگرفی الحال میرا ہدف یہ چوکس لوگ نہیں بلکہ میری اپنی ذات ہے، کیونکہ چھٹی کے روز بھی مجھے صبح اٹھنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ یہ کالم ہے جو میری کاہلانہ زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ آج بھی میں صبح سے بیدار ہوں اور حسب عادت وقت ضائع کرنے کا لطف اٹھا رہا ہوں۔ صبح اٹھتے ہی میں نے اخبارات کا جائزہ لیا، چیدہ چیدہ مضامین پڑھے اور یہ دیکھ کر دل کو قدرے سکون ملا کہ ملک کے گمبھیر مسائل کے حل کے لئے اخبارات میں لکھنے والوں نے تجاویز کے ڈھیر لگا رکھے ہیں، دانش کے مینار اخباری صفحات پرجگمگ کر رہے ہیں، علم و آگہی کے موتی بکھیر رہے ہیں، کسی کے پاس پاک امریکہ تعلقات بہتر(یا بدتر) بنانے کا نسخہ موجود ہے تو کوئی دانشور افغان پالیسی پر اتھارٹی ہے، کوئی اپنے تئیں اسٹیبلشمنٹ کا رازدان بنا بیٹھا ہے تو کوئی مستقبل کے منظر نامے کا یوں نقشہ پیش کر رہا ہے جیسے تمام پالیسیاں اس سے پوچھ کر بنائی جاتی ہیں چاہے، وہ اپنے گھر کی پالیسی نہ بنا سکتا ہو۔ ایسے میں کاہلی کی ایک لہر اور اٹھتی ہے اور میں خود کو اس بات پر قائل کرتا ہوں کہ اس ماحول میں مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں، قوم کو جب ایسے نگینے دستیاب ہیں تو مزید رہنمائی کی کوشش محض وقت کا ضیاع ہے، مگر پھر خیال آتا ہے کہ وقت ضائع کرنا بھی چونکہ میرا محبوب مشغلہ ہے سو کسی ایسے موضوع پر لکھا جائے جس پر کوئی اور طبع آزمائی نہ کرتا ہو۔ اسی سوچ میں بچار میں دو کپ چائے پی، ایک دو سگریٹ پھونک دئیے، دو آملیٹ اور ایک پراٹھا کھا لیا، باغیچے کا معائنہ کرکے مالی کو چند بےمعنی ہدایات دے دیں، ٹویٹر ٹائم لائن دیکھ کر آدھا گھنٹا برباد کیا، نئے موبائل فون کی سیٹنگ چھیڑ کر خراب کی اور پھر اسے صحیح کرنے میں مزید آدھا گھنٹا ضائع کیا، فون کو ائیر پلین موڈ پر کیا کہ اب دوبارہ مخل نہ ہو، چند منٹ بعد یہ سوچ کر پھر اٹھایا کہ اس میں’’کچھ سمجھ نہ آنے کی صورت میں‘‘ موضوعات کی ایک فہرست محفوظ کر رکھی ہے جو ایسے وقت میں کام آتی ہے۔ اس فہرست کو دیکھنے میں مزید آدھا گھنٹا گزر گیا۔ اب میں کاہلی کی اس نہج پر ہوں کہ صبح سے بیدار بھی ہوں، ایک ڈھنگ کا کام بھی نہیں کیا، کالم کی ڈیڈ لائن تقریباً گزر چکی ہے اور کالم کا سر پیر بھی نہیں بن پایا۔
کاہلی کے فضائل بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ چوکس لوگوں پر مزید کچھ تبرا کرلیا جائے۔ بھرپور زندگی گزارنے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں، مگر بھرپور زندگی اور اذیت ناک زندگی میں فرق ہونا چاہئے، مثلاً سردیوں کی آمد ہے، جنوری کی یخ بستہ صبح کے چھ بجے الارم بجتا ہے، آپ رضائی اوڑھے سو رہے ہیں اور یہ الارم ہتھوڑے کی طرح آپ کے سر پر محض اس لئے بجتا ہے کہ آپ ایک چوکس اور الرٹ انسان ہیں اور وقت ضائع کرنے کے بالکل قائل نہیں، آپ نے کیلکولیٹر ہاتھ میں پکڑ کر روزانہ چھ گھنٹے کی نیند کا حساب لگا رکھا ہے جس کی رو سے اگر آپ چھ کی بجائے دس گھنٹے نیند میں برباد کریں تو گویا روز کے چار گھنٹے ضائع، ایک سال میں 1460گھنٹے کی اضافی نیند اور ساٹھ برسوں میں 87,600گھنٹے برباد یعنی زندگی کے دس برس محض چار گھنٹے کی اضافی نیند کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں، مگر ایک مرد عاقل کا کہنا ہے کہ اگر وقت ضائع کرنے میں لطف آئے تو سمجھئے کہ وہ وقت ضائع نہیں ہوا۔ ویسے کسی مرد عاقل نے یہ بات نہ کہی ہوتی تو میں نے کہہ دینی تھی کیونکہ زندگی ایسے کیلکولیٹر پکڑ کر نہیں گزاری جاتی اور جو لوگ ایسی کیلکولیٹڈ زندگی گزارتے ہیں وہ دس برس بچاتے بچاتے پوری زندگی برباد کر بیٹھتے ہیں۔
میری اپنی کاہلی کا یہ حال ہے کہ گیارہ برس ہونے کو آئے’’جنگ‘‘ میں ’’ذرا ہٹ کے‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہوئے، اس سے پہلے میں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں بھی اسی نام سے ایک اور معاصر اخبار میں کچھ عرصہ کالم لکھے تھے، مگر پھر بعد میں چھوڑ دئیے، اب 2006ء سے مسلسل (کاہلی کے باوجود) بغیر کسی تعطل کے لکھ رہا ہوں، مگر حال یہ ہے کہ دو برس پہلے جب ایک ٹی وی چینل نے’’ذرا ہٹ کے ‘‘ نام کا ایک پروگرام شروع کیا تو دوستوں نے توجہ دلائی کہ یہ تو میرے کالم کا عنوان ہے، کاپی رائٹ ہے،(اردو میں جسے حقوق دانش کہتے ہیں حالانکہ دانشمند ی کا اس سے دور تک کا بھی تعلق نہیں) سو بہتر ہوگا کہ میں اس کا نوٹس لوں اور چینل کی انتظامیہ کو کم ازکم ایک چھٹی ہی لکھ دوں کہ جناب ازراہ کرم پروگرام کا نام تبدیل کر لیجئے،مگر اپنی کاہل طبیعت کی بدولت یہ کام اب تک نہیں کیا، آج چونکہ کاہلی کی وجہ سے ہی یہ کالم لکھا گیا ہے سو اس میں یہ ذکر ضمناً آگیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پروگرام کے تینوں جید اینکر حضرات جو بےحد حساس موضوعات پر نہایت شگفتہ گفتگو کرتے ہیں اور قانون کی پاسداری، انسانی حقوق اور جمہوریت دوست ہیں، اگر خود اس بات کا ادراک کرلیں تو کاہلی کی فضیلت مزید بڑھ جائے گی۔
اگر آپ کاہل نہیں تو کم ازکم ظاہر یہی کریں کہ آپ ایک سست انسان ہیں، سرکار کی نوکری میں تو ویسے ہی اس کی بڑی قدر کی جاتی ہے، کاہل سرکاری ملازم تنخواہ پوری لیتا ہے اور اس سے کوئی کام کی امید بھی نہیں رکھتا، کسی بھی ہنگامی ڈیوٹی میں اس کا نام نہیں ڈالا جاتا، اسے کسی ایسی جگہ تعینات نہیں کیا جاتا جہاں اہم یا ضروری نوعیت کے کام نمٹائے جاتے ہوں۔ اس کے برعکس چوکس اور مستعد شخص کی ہر وقت شامت آئی رہتی ہے، چونکہ ایسا شخص کام کرتا ہے سو غلطی بھی ہوتی ہے لیکن غلطی کی معافی کم ہی ملتی ہے۔ کاہل اور چوکس لوگوں میں، بقول شخصے، ایک فرق یہ بھی ہے کہ چوکس آدمی ایک وقت میں کئی کام کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے جبکہ کاہل شخص ایک وقت میں ایک کام کرتا ہے۔ یہی دراصل نسخہ کیمیا ہے۔ ہم میں سے وہ لوگ جو اپنے تئیں بہت مستعد اور چوکس ہیں، روزانہ کئی کاموں میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور ایک بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ مجھ ایسے کاہل کا مشورہ ایسے لوگوں کے لئے یہ ہے کہ روزانہ صرف ایک ایسا کام کریں جس کی افادیت ہو، مہینے کے آخر میں اگر آپ نے چھٹیاں نکال کے بیس اہم کام بھی مکمل کر لئے تو سمجھئے کہ آپ سے زیادہ چوکس اور کوئی نہیں۔ فارمولا سادہ رکھیں، ایک دن ایک کام، مگر مکمل۔ میرا آج کا کام مکمل ہوا۔
نوٹ:یہ کالم کاہلی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ کسی سیمینار میں نہیں پڑھا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *