واقعات سے بھرپور ہفتہ۔۔

سرل المیڈاcyril-almeida

کچھ نیا، کچھ پرانا اور کچھ حیرت انگیز، یہ سب چیزیں پچھلے ہفتے ہمارے ملک میں دیکھنے کو ملی ہیں۔ آپ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کونسی چیز کس کیٹیگری میں آ سکتی ہے۔ لیکن اس سب کا مطلب کیا ہے؟ پہلے اغوا کے واقعہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ایک پرانا اصول ہے ۔ دوسری طاقت کو کچھ ایسا  فراہم کر دو کہ وہ  ناراضگی بھول کر آپ کے بارے میں اچھی باتیں کرنے لگے۔ اس سے البتہ اغواہونے والے خاندان کو فائدہ پہنچا ہے۔ کیونکہ کسی بھی طاقت کے زیر اثر ایک مغوی کی زندگی گزارنا قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کے کچھ دوسرے پہلو بھی ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے بیچ اعتماد کا فقدان بہت زیادہ ہے۔ ایک خاندان کو رہا کر کے میڈیا اور حکومت کی توجہ کچھ وقت کے لیے اپنی طرف لگائی جا سکتی ہےلیکن  اس لیے پاک امریکہ تعلقات کی سوئی زیادہ ہلے گی ایسا سوچنا بے کار ہے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کس قدر خرابی آ چکی ہے۔ اگر کچھ عرصہ بعد کا معاملہ ہوتا تو شاید امریکہ ڈرون حملے کر کے ان مغویوں کو چھڑواتا۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ  اس کہانی نے فوج کو بہت زچ کیا ہے۔ چاہے مغوی خاندان اب پاکستان آیا ہو یا 2012 میں، خاندان کا پاکستان میں ملنا ایک ثبوت ہے جس کا ہم ہر بار انکار کر رہے ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ طالبان کے ٹھکانے ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ اس وقت سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب فیملی افغانستان میں تھی تب امریکہ کی ایجنیسوں نے کچھ کیوں نہ کیا؟ صاف نظر آتا ہے کہ وہ اس اقدام سے پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہ ہر ایسا طریقہ آزما رہے ہیں جس سے پاکستان کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا ہو۔

تیسرا پہلو حقانی نیٹ ورک کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک اب بھی موجود ہے۔ امریکہ کی حقانیوں سے نفرت دیکھ کراندازہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی فوج حقانی نیٹ ورک سے پاگل پن کی حد تک نفرت کرتی ہے۔ تھیوری یہ ہے کہ حقانی گروپ کے القاعدہ سے روابط ہیں اور یہ گروپ بہت سے امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہے۔اس کے ساتھ ساتھ قربانی کے بکرے کی تلاش نے بھی امریکی فوج کی حقانیوں سے نفرت بھڑا دی ہے۔

چونکہ معاملے میں حقانی نیٹ ورک کا ذکر ہے اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب بھی یقین ہے کہ پاکستان  دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔اب ہم وزیر اعظم کے داماد کیپٹن صفدر کے قادیانیوں پر حملے کا ذکر کرتے ہیں۔  یہ دفاعی اور حملہ  آورانہ کوشش تھی اور اس کے نتائج بہت بھیانک ہو سکت ہیں۔ جہاں تک اس میں حملے کے عنصر کا تعلق ہے تو  ان کا نشانہ فوج کی طرف تھا۔ اگرچہ کیپٹن صفدر کو عوامی حمایت ملی ہے لیکن انہیں ایک ایسا تاثر بھی ملا ہے کہ فوج کے ادارے سے چھیڑ چھاڑ کرنا کسی آوٹ سائیڈر کےلیے مناسب نہیں ہے۔ اس کے باجود کاونٹر انسرجینسی اور کاونٹر ٹیررزم مہمات کی وجہ سے نئی ارجنسی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب دونوں فریقین ایک ہی نعرہ لگا رہے ہوں  اور ایک سائیڈ کو آمادہ کرنا ہو کہ وہ صحیح راستے پر ہے تو آپ کوئی ایسی چیز نہیں دیکھنا چاہیں گے جو آپ کے راستے میں رکاوٹ بن سکے کا آپ کے مقصد پر ضرب کاری ثابت ہو۔صفدر کے قادیانیوں پر حملے خطرناک ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مذہبی بحث چھیڑ دی ہے  اور وہ بھی اسے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر جسے  ملیٹینسی کے خلاف جنگ کےلیے اکھٹے ہو کر کوشش کرنے کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ اس حملے کے بعد ان کے ساتھیوں نے جو رد عمل ظاہر کیا ا  س سے معاملہ اور بھی بگڑ گیا ہے۔ لیکن اس حملے کا ایک دفاعی نقطہ بھی ہے۔ این اے 120 اور حلف کا تنازعہ  دونوں چیزیں مل کر  ایسا فارمولا بن سکتی ہیں جو ن لیگ کو رائٹ ونگ کی سپورٹ سے محروم کر سکتا ہے۔ چونکہ شریف خاندان اداروں کے ساتھ نبرد آزما ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک تھکی نہیں ہے اسلیے ن لیگ کو یقین ہے کہ اگلے الیکشن میں انہیں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہو گا۔ ن لیگ کا پلان واضح ہے ۔ اگر لوگ آپ کو مذہبی طور پر متنازعہ بنا رہے ہیں تو آپ کو بھی چاہیے کہ آپ ایسا ہی کوئی مذہبی نتازعہ کھڑا کر دیں جو آپ کے لیے انسولین کا کام کر سکے۔ پارٹی لیڈر شپ بھی اس چیز سے واقف ہے۔ اگرچہ بہت سے حلقوں میں تشویش لاحق ہوئی لیکن انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ اس واقعہ سے پارٹی کے کچھ ووٹ محفوظ ہو چکے ہیں۔

سیاست اکثر برا چہرہ ہی رکھتی ہے۔اب آخری نکتہ پرع آتے ہیں۔ معیشت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ فوج کو اکانومی کا اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا کسی نو عمر کو جنگ کے بارے میں معلوم ہے۔ یعنی بہت معمولی علم۔  ٹیکس بیس کے بارے میں بات اس کی ایک واضح مثال ہے۔ فوج کو لگتا ہے کہ ان کے ادارے سے سالانہ کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ چونکہ ان کا یہ دعوی واضح بنیادوں پر قائم ہے اس لیے انہیں تنقید کا قانونی حق حاصل ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بلین کی تعداد میں موصول ہونے والا ٹیکس سیلز اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے آتا ہے ۔ یہ وہ ٹیکس ہوتا ہے جو کنزیومر ادا کرتا ہے  اور پروڈیوسر صارف کی طرف سے اسے قومی خزانے میں جمع کرتا ہے۔ اگر کوئی ان پردباو ڈالے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف آگاہی دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے ادارے آگاہی نہیں دیتے۔ اس لیے فوج کو لگتا ہے کہ وہ اس حیثیت سے مالک ہیں کہ معاشی صورتحال پر رائے زنی کر پائیں۔ لیکن اس سے بھی معاملہ حل نہیں ہوتا کیونکہ اگر فوج اقتدار پر قبضہ کر لےگی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جسے وہ اچھی پالیسی قرار دے رہے تھے اب پالیسی بن چکی ہے۔ اس میں ایک پرانی چال بھی  ہے ، یعنی عوامی سطح پر کسی معاملے پر بیان بازی کرکے اپنی طرف توجہ مبذول کرائی جائے۔ چونکہ ایکٹو سروس سٹیٹ فنڈنگ پر منحصر ہے اس لیے سٹیٹ فائنانس کا مسئلہ ملٹری بجٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چونکہ ملٹری بجٹ کو کسی طرح بھی کنٹرول کرنا فوج کے لیے اچھا شگون نہیں ہے اس لیے اسطرح کے بیانات دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ سویلین حکومت پر دباو ڈالنے سے فنڈز میں اپنی مرضی کا اضافہ کروایا جا سکتا ہے  کیونکہ رقم نہ تو سیاسی حکمرانوں کی جیب سے آتی ہے اور نہ ہی فوجی افسران کی جیب سے۔ کچھ نیا، کچھ پرانا، اور کچھ حیران کن دیکھنے کو ملا۔ اب آپ فیصلہ کر لیں کیا چیز کس نوعیت کی تھی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *