کیا پچاس فیصد پاکستانی ورکنگ ویمن کو جنسی حملوں کا سامنا ہے؟

بینا شاہbina shah

تازہ ترین سکینڈل میں ہالی وڈ کے مشہور ڈائریکٹر ہاورے وین سٹین کے جنسی حملوں، خواتین پر تشدد اور انہیں زبردستی اپنی خواہشات پر مجبور کرنے کا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ سکینڈل کی سٹوری پہلی بار نیو یارک ٹائمز نے شائع کی  اور اس کے بعد رونان فیرو نے بھی دی نیو یارکر کے ذریعے ہاروے کے جرائم کا ریکارڈ کھول کر پیش کیا۔ اب تک تقریبا 30 ایکٹریسز، ماڈلز اور دوسری ملازمین خواتین وین سٹین کے خلاف اپنی آواز بلند کر چکی ہیں  جنہیں ہاروی ، فلم پروڈیوسر' نے ترقی کا لالچ دے کر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ کے بعد وین سٹین کو کمپنی سے نکال دیا گیا ہے اور وہ ہالی وڈ چھوڑ کر غائب ہو گئے ہیں جب کہ فلم انڈسٹری میں چہ میگوئیاں چل رہی ہیں کہ اتنا بڑا مجرم کیسے اتنی خواتین پر حملوں کے بعد بھی محفوظ رہا اور مجبور خواتین نے ان کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھائی۔ بہت سی  مظلوم خواتین مشہور اداکارائیں ہیں لیکن جب وین سٹین نے ان  کی عصمت سے کھیلا تب وہ عمر میں چھوٹی اور کمزور تھیں ۔ بہت سی ایسی خواتین بھی ہیں جن کا ہالی وڈ سے کوئی کنیکشن نہیں ہے ۔ انہیں وین سٹین نے ان کے کام کی تعریف کر کے اپنے جال میں پھنسا لیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں یہ عام سی بات ہے ۔ ہالی وڈ میں رتبہ پانے کےلیے خواتین کو قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہالی وڈ کے ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، ایجنٹس مردوں کےلیے  'Casting Couch' کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن وین سٹین نے ایک درجہ آگے جانے کا سوچا ۔ انہوں نے نہ صرف خواتین پر جنسی حملے کیے بلکہ انہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور بھی کیا۔ اسی طرح کے سکینڈل امریکی کامیڈین بل کاسبی، فاکس نیوز اینکر بل اوریلی، اور فاکس ایگزیکٹو راجر ایلز کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے  خلاف بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر خواتین ایسےحملوں کا سامنا کرنے کے بعد خاموش کیوں رہنا چاہتی ہیں؟  خواتین کو بہت کم انصاف ملتا ہے  ۔ الٹا انہیں ہی اس ظلم کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ خواتین کو جھوٹا قرار دیتے ہیں  اور اسے خواتین کی طرف سے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش گردان لیتے ہیں۔

لیکن اب خواتین ایسے تجربات کو برداشت کر کے تنگ آ چکی ہیں۔ اب وہ سچ بولنے لگی ہیں  اور اب ان میں ہمت اور حوصلہ ہے کہ وہ اپنے برے تجربات کو سامنے لا سکیں۔ہالی وڈ پاکستان سے کہیں آگے ہے لیکن دفاتر میں  خواتین کو  حملوں کا نشانہ بنانے کی روایت دنیا بھر کے ہر ملک میں موجود ہے۔ یو این آئی ایس او این کے مطابق جو کہ برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ہے، پاکستان کی 50 فیصد  کام کرنے والی خواتین کو جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کارپوریٹ آفسز تک محدود نہیں ہے ۔ کھیتوں میں کام کرنے والی لڑکیوں کو بھی زمیندار وڈیرے اغوا کر کے عصمت دری کا نشانہ بناتے ہیں ، فیکٹری ورکر اپنے اوپر نگرانی کرنے والی خاتون پر جنسی حملے کرتا ہے ، یونیورسٹی انسٹرکٹر  کو سپروائزر کی گندی نظروں اور فحش حملوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے ، فلائیٹ اٹینڈینٹ کو مسافر گھور گھو ر کر دیکھتے اور بدھے طریقے سے چھونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا تمام پاکستانی خواتین کو  ان کے دفاتر اور جہاں جہاں وہ کام کرتی ہیں انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ہم اب بھی اس بات پر مصر ہیں کہ جنسی حملوں سے بچنے کے لیے خواتین کو ہی دفاتر سے دور رکھنا ہو گا یا پھر خواتین کو صرف ایسے دفاتر میں کام کرنے دیا جائے جہاں صرف خواتین ملازمین ہوں۔ لیکن ایسا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں جہاں خواتین پر سب سے زیادہ قدغنیں ہیں وہاں بھی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ملک کے ترقی پسند حکمرانوں نے یہ دیکھ لیا ہے کہ دفاتر میں خواتین کی موجودگی معیشت کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ  کام کرنے والی خواتین کے خلاف ہمارا سیکسٹ رویہ  اب بھی ہمارے دفاتر کے ماحول کو زہر آلود کر رہا ہے۔ خوفناک ارادوں والے مرد خواتین کو محض ایک جنسی لذت کی شے کے طور پر دیکھتے ہیں  اور وین سٹین کی طرح جس نے بہت سی خواتین پر جنسی حملے کیے، اپنے ماتحت خواتین کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر وہ ان کی مرضی کے مطابق چلیں گی تو ان کی ترقی ممکن ہو گی۔

پاکستان میں بہت سے خواتین جو دفاتر میں اپنی معاشی حالت کی بہتری کےلیے کام کرنے پر مجبور ہیں  انہیں ہمیشہ ایک اچھے دفتری  ماحول کی امید رہتی ہے جہاں انہیں تحفظ اور احترام مل سکے۔ لیکن کسی دفتر میں اس چیز کی گارنٹی نہیں ہے۔ اگر کوئی خاتون جنسی حملہ آور کے خلاف اٹھ کھڑی ہونے کی ہمت کرے تو اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔اس سال مارچ میں تنزیلہ مظہر کو ایک کرنٹ افئیرز ڈائریکٹر کی طرف سے جنسی حملوں کا سامنا کرنا پرا۔ ان کی شکایت کا نتیجہ ان کی نوکری سے محرومی کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے اپنا مقدمہ عوامی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا  لیکن انہیں بہت زیادہ نفسیاتی ٹارچر کے عمل سے گزرنا پڑا۔ ان کی ساتھی یشفین جمال نے جب ان کا ساتھ دیا تو انہیں بھی اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا  لیکن حملہ کرنے والے ڈائریکٹر کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔  

اس حقیقت کے باوجود کہ جنسی حملے قانون کے خلاف ہیں  اور ایسے حملوں کے خلاف شکایت درج کرنے کا ایک واضح میکنزم ہے، بہت سی خواتین  ان حملوں کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کوترجیح دیتی ہیں ۔ پاکستانی خواتین کو ایک دوسرے کی مدد کر کے ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھانے کےلیے وینسٹین کے واقعہ سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔پاکستانی کمپنیوں کو بھی جنسی حملے کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی بنانا ہو گی تا کہ دفاتر میں خواتین کو ایسے حملوں سے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ پاکستانی معاشرے کو بھی اصل  جڑ کو ٹارگٹ کرنا ہو گا نہ کہ مظلوم کو۔  

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *