نیازی صاحب کا سکون

gul

منیر نیازی صاحب سے میری بڑی محبت رہی ہے‘ ان کے ٹاؤن شپ والے گھرمیں اکثر عتیق رحمان کے ہمراہ قہقہوں کی منڈلی جما کرتی تھی۔ نیازی صاحب کے کرارے جملے ادبی حلقوں میں بہت مشہور ہیں اور یہ سچ ہے کہ نیازی صاحب جملے بازی میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آخری عمر میں وہ نہایت مختصر بات کرنے لگے تھے‘ کم بولتے تھے لیکن ایسی ایسی بات کہہ جاتے کہ سبحان اللہ!
لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل میں کوئی کانفرنس تھی‘منیر نیازی شرکت کے لیے آمادہ نہیں تھے لیکن منتظمین نے جیسے تیسے کرکے اُنہیں تقریب کی صدارت کے لیے راضی کر ہی لیا۔نیازی صاحب آتو گئے لیکن بیزاری ان کے انگ انگ سے پھوٹی پڑتی تھی۔بور تقریریں سن سن کر وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئے۔ اتنے میں میزبان نے خطاب کے لیے اُن کا نام پکارا۔ پاس بیٹھے ایک صاحب نے نیازی صاحب کو ہلکا سا ٹہوکا دیا‘ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ اب کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا بات ہوئی ہے اور کس موضوع پر ہوئی ہے۔کچھ دیر خود کوسنبھالا۔۔۔غور سے حاضرین کی طرف دیکھا اور بمشکل اٹھ کر سٹیج پر آکر بولے’’خواتین وحضرات! مجھ سے پہلے تمام مقررین نے جو کچھ کہا ہے میں اُس کی تائید کرتاہوں‘‘ ۔۔۔اور اطمینان سے واپس آکر بیٹھ گئے۔ایک دفعہ کسی نے نیازی صاحب کو چائے پلانے کی آفر کی توگھور کر بولے’’تمہیں پتا ہے میں چائے نہیں پیتا‘‘۔
’’چلیں چائے نہ سہی آپ کے پسندیدہ مشروب کا اہتمام کیے دیتے ہیں‘‘
’’وہ میں نے چھوڑ دی ہے‘‘۔۔۔نیازی صاحب سخت لہجے میں بولے
’’بڑا مشکل کام کردکھایا آپ نے‘ ویسے کبھی کبھار دل تو کرتا ہوگا پینے کو؟‘‘
’’ہاں ! کرتاہے‘‘۔۔۔
’’تو پھر کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’پی لیتا ہوں‘‘۔۔۔!!!
منیرنیازی ایک کھرے اور دبنگ انسان تھے۔میں نے کبھی انہیں کسی کو ’’آپ‘‘ کہہ کر بلاتے نہیں دیکھا۔ڈپٹی کمشنر بھی فون پر اپنا تعارف کراتا تو آگے سے سپاٹ لہجے میں جواب دیتے’’توں مشاعرہ کروانا ایں تے پہلے میرے کول آکے تفصیل دس‘‘۔میزبانی کے معاملے میں نیازی صاحب کنجوسوں کے شہنشاہ تھے۔کوئی کتنا بڑا اہم بندہ ہی کیوں نہ آجاتا‘ پانی تک نہیں پوچھتے تھے۔ایک دفعہ میں نے شکوہ ٰ کیا کہ اتنی گرمی ہے‘ آپ مہمانوں کو کم ازکم پانی تو پوچھ لیا کریں۔گھور کر بولے’’وہ سامنے فریج رکھا ہے‘ جس نے پینا ہے خود کیوں نہیں پی لیتا؟؟؟‘‘۔نیازی صاحب کو نت نئے راستے تلاشنے کا بہت شوق تھا‘ ایسے میں وہ بالکل بچے بن جاتے۔ عتیق رحمان ان کا واحد شاگرد تھااورہر وقت نیازی صاحب کے جملوں کے نشانے پر رہتا‘ اس کے باوجود اُسے نیازی صاحب سے بہت محبت تھی۔ نیازی صاحب اسے فون کر کے بلاتے اور وہ اپنی قبل از مسیح کی گاڑی میں دوڑا چلا آتا۔ نیازی صاحب اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے اور کہتے ’’چلو ، کسی نئی گلی میں گاڑی موڑ دو‘ دیکھتے ہیں راستہ کہاں نکلتاہے؟‘‘۔لاہور کے ایک شاعر کے بارے میں بات ہورہی تھی کہ موصوف بڑے گھمنڈی ہیں‘ ہر وقت اپنی تعریفوں کے پل باندھے رکھتے ہیں۔نیازی صاحب کچھ دیر تو یہ ساری گفتگو سنتے رہے‘ پھر ایک لازوال جملہ ارشاد فرمایا‘ کہنے لگے’’وہ تو اتنا فضول انسان ہے کہ اپنی عدم موجودگی میں بھی لوگوں کا وقت ضائع کرتا رہتا ہے‘‘۔
ایک دفعہ میں نے پشاور جانا تھا‘ نیازی صاحب کو پتا چلا تو پشاور کی ایک ایسی مردانہ سوغات کی فرمائش کردی جس کا نام شائد مجھے نہیں لکھنا چاہیے۔اللہ جانتا ہے میں نے پہلے یہ چیز کبھی نہیں خریدی تھی‘ تاہم پشاور میں یہ جگہ جگہ عام مل گئی۔ میں نے واپس پر نیازی صاحب کو پیش کردی۔نیازی صاحب نے پیکٹ الٹ پلٹ کر دیکھااور پوچھا’’اس کے خالص ہونے کی کیا پہچان ہے؟‘‘۔ میں نے سرکھجایا’’یہ تو مجھے نہیں پتا‘ البتہ دوکاندار کہہ رہا تھا کہ سو فیصد خالص ہے‘‘۔کچھ دیر پیکٹ کھول کر سونگھتے رہے‘ پھرڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے بولے’’اس عمر میں خالص چیزیں ری ایکٹ بھی کرجاتی ہیں‘‘۔
منیر نیازی بالکل ویسے تھے جیسا آپ نے سنا ہے‘ شاعر تو باکمال تھے ہی‘ خوبصورتی بھی ایسی تھی کہ لگتا تھا حسن و جمال کا کوئی آخری نمونہ سامنے ہے۔میں اور میرا دوست عتیق رحمان ایک واقعے پر اب تک انتہائی حیران ہیں۔ نیازی صاحب مفت مشاعرہ نہیں پڑھتے تھے بے شک کسی گہرے دوست نے ہی مشاعرہ کیوں نہ کروایا ہو۔خود میں نے ایک دفعہ الحمراء میں ایک تنظیم کے مشاعرے کے لیے ان سے درخواست کی تو پہلا سوال یہی کیا کہ ’’پیسے کتنے دو گے؟؟‘‘۔ اس حوالے سے وہ اپنے اصولوں کے پکے تھے۔میں نے انہیں جب بھی دیکھا ایک ململ ٹائپ کا مغزی والا سفید کرتا پہنے دیکھا۔ان کا کمرہ مین گیٹ سے بائیں طرف لان کے سامنے تہہ خانہ ٹائپ کمرے میں تھاجہاں دو سیڑھیاں اترنی پڑتی تھیں۔ میں او ر عتیق رحمان گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ان کے پاس بیٹھے تھے‘ اچانک نیازی صاحب کہنے لگے کہ سات بجے ایک مشاعرے میں چلنا ہے‘ تم دونوں بھی ساتھ چلنا۔ اب یہ ایک عجیب بات تھی کیونکہ اُن دنوں ہمیں ہر مشاعرے کی پکی مخبری ہوتی تھی لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق آج کوئی اہم مشاعرہ نہیں تھا۔ لیکن چونکہ نیازی صاحب نے کہہ دیا تھا لہذا سات بجے تو عتیق رحمان نے بمشکل اپنی گاڑی سٹارٹ کی۔ نیازی صاحب اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ نیازی صاحب راستہ بتاتے گئے اور عتیق گاڑی چلاتا رہا۔ تین چار تنگ سی گلیاں مڑ کر انہوں نے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور گاڑی رکوا دی۔میں اور عتیق دونوں حیران تھے کہ یہ کون سا مشاعرہ ہے ؟ بہرکیف ہم تینوں نیچے اترے اور ایک سیلن زدہ چوبارے کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک مختصر سے کمرے میں آگئے۔ یہاں فرش پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی اور آٹھ دس وہ غیر معروف شاعر موجود تھے جنہیں میں نے بہت کم کسی مشاعرے میں دیکھا تھا۔پتا چلا کہ یہ نعتیہ مشاعرہ ہے۔ اُس روز نیازی صاحب نے نہایت محبت کے ساتھ مشاعرے کے اختتام پر اپنا نعتیہ کلام پڑھا‘ نم آلود آنکھیں صاف کیں اور چپ چاپ ہمارے ساتھ واپس گھر آگئے۔ہم دونوں گواہ ہیں کہ اُنہیں اس مشاعرے میں سوائے لیموں والے شربت کے کچھ نہیں ملا۔ گھر پہنچ کرمیں نے تجسس سے بے چین ہو کر پوچھ ہی لیا’’نیازی صاحب! آج کے مشاعرے میں آپ کو کیا ملا ؟‘‘اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے نیازی صاحب یکدم رک گئے‘ میری طرف گھومے۔۔۔کچھ دیر گھورا اور پھر بے اختیار مسکراکربولے’’ کروڑوں روپے جتنا سکون۔۔۔‘‘

(گل نوخیزاختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *