سکیورٹی پالیسی معاشی طاقت بننے میں حائل ہے

ایم ضیا الدینm zia uddin

چیف آف آرمی سٹاف کے مطابق پاکستان کو اپنا ٹیکس بیس بڑھانا ہو گا  اور فنانشل ڈسپلن اور مستحکم معاشی پالیسیوں کے ذریعے بھیک مانگنے کی عادت ترک کرنا ہو گی۔ انہوں نے یہ بیان 10 اکتوبر کو کراچی میں منعقدہ سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ ہماری منزلیں فطری طور پر جڑی ہوئی ہیں اس لیے ایک ملک کو عدم استحکام کا شکار کر کے دوسرا بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پائے گا۔ آرمی چیف کو ملک کے معاشی حالات سے اس قدر واقف پا کر بہت اچھا محسوس ہوا۔ انہوں نے معیشت کی بہتری کےلیے جو مشورے دئیے ان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں پاکستان کی  موجودہ صورتحال کے ہر پہلو کا علم ہے۔ سچ یہ ہے کہ کمزور سماجی و معاشی بیس والا کوئی بھی ملک  مکمل طور پرمحفوظ ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔

گلوبلائزیشن پراسس نے دنیا کو ایک دوسرے پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب کوئی قوم یا ملک معاشی یافوجی لحاظ سے مکمل خود مختاری کا دعوی نہیں کر سکتا ۔ البتہ معیشت، ثقافت اور ملٹری کی مضبوطی کے بغیر کوئی بھی ملک اپنی بقا کو بڑی طاقتوں کے اثر سے متاثر ہوئے بغیر قائم نہیں رکھ سکتا۔ معاشی طور پر غیر مستحکم ممالک سوویت  یونین جیسی حالت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

گلوبلائزیشن چونکہ ایک معاشی پراسس کا نام ہے  اس لیے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اب سکیورٹی  کا بنیادی ذریعہ ملٹری کو نہیں بلکہ معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔معاشی سکیورٹی ان تمام  خطرات کو مد نظر رکھتی ہے جو عالمی سطرح پر معیشت کے مقابلے اور بڑھتی ہوئی معلومات کی صورت میں وجود پذیر ہوتے ہیں مثال کے طور پر ڈیٹا چوری ہونے کے خطرات، پبلک ریسرچ سینٹر پر حملے، ریاستی کرنسی پر حملے، سٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش،  اور اپنے مقابل  ممالک کو تباہ کرنے کےلیے ایکسپورٹ  کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔   

جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو وہ ایٹمی طاقت پاکستان کی سیاسی تنہائی کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔ وہ سیاسی طور پر پاکستان کو کوشش کے باوجود تنہا نہیں کر سکتے ۔ اگر ہمیں عالمی تنہائی کا خطرہ ہے تو وہ جیو اکنامک پہلو سے ہے اور ہمیں اس حوالے سے ہوشیار رہنا ہو گا۔

یہاں یہ بتانا نا مناسب نہیں ہو گا کہ  حافظ سعید اور سمیع الحق کی دفاع پاکستان کاکونسل کے بنیادی مقاصد بھارت اور افغانستان پرقبضہ کرنا (کم از کم کشمیر آزاد کروانا اور وہاں سے 7 لاکھ بھارتی فوج کو نکال باہر کرنا) ہے  اور اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں کے بیچ بوتل میں بند کر دینا ہے۔ اس اپروچ کی وجہ سے ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے ہماری معیشت پر بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس طرح کے نظریات رکھنے والے لوگ افغانستان کو پاکستان کے راستے بھارت سے سامان کی ترسیل کی اجازت نہیں دے رہے  جب کہ یہی ٹرک افغانستان سے مال لا کر واہگہ بارڈر پر بھارت کے حوالے کرتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ تھامس سی شیلنگ کی  تحقیق  جس کا موضوع سٹریٹجی آف کانفلکٹ اور نیو کلیر گیم تھا  نے معیشت کو ایک نیا رخ دیا ہے  جس سے جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر  میں معیشت پر زیادہ توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے۔

چین میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سٹرٹیجک پالیسی میکرز کو زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا  جس کی وجہ ملک کی سٹریٹیجک اینڈ فارین پالیسی میں  ان کا پروفیشنل کردار تھا۔ چین کے ایک ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ تھنک ٹینک نے سی این پی (comprehensive national power) کا نظریہ پیش کیا جس میں معاشی اور سماجی  پہلووں کو ملکی سلامتی کے لیے  ملٹری کی نسبت زیادہ اہم قرار دیا گیا۔

سی این پی نیشن سٹیٹ کی جنرل پاور کا ایک معیار ہے ۔اسے نمبر کے لحاظ سے بھی جانچا جا سکتا ہے اور دوسرے طریقے سے بھی نیشن سٹیٹ کی طاقت کا اندازہ لگانے کےلیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔  یہ ملٹری ، معاشی اور ثقافتی تمام پہلووں کو دیکھتے ہوئے  ملکی صورتحال کو جاننے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *