ڈکٹیٹر اور اُن کے قابلِ نفرت معاون

ڈاکٹر اکرام الحقDr. Ikram ul haq

جب عوام الیکشن میں کسی سیاسی پارٹی کو مینڈیٹ دیتے ہیں تو ڈکٹیٹروں کی وراثت ابھی تک پاکستان میں ختم کیوں نہیں ہو پا رہی؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر ڈکٹیٹر کے جانے کے بعد کوئی سویلین لیڈر اپنے آپ کو ملک کا سب سے طاقتور حکمران بنانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے  اور تمام اداروں کو اپنے ماتحت لا کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان سوالوں کو جواب حاصل کرنے کےلیے گہرائی میں جانا پڑے گا اور 3 مارچ 2009 کو لکھی گئی تحریر  'پولیٹیکل امپاس، مسائل اور حل' جو بزنس ریکارڈرنامی میگزین میں شائع ہوا تھا کا بغور مطالعہ کرناہو گا ۔

 1992 میں ہیرالڈ  (کراچی) نے بہت بڑے دانشور ایڈورڈ سعید سے انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا: ہم لوگ ضیا جیسے لوگوں سے کیوں امید لگاتے ہیں؟  پروفیسر صاحب نے جواب دیا: جب تک یہ لوگ حکومت کرتے رہیں گے تب تک ' جس کی لاٹھی اس کی بھینس ' والی کہاوت پر یقین کرنا لازم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے عناصر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کےلیے اپنے معاون اور کارندوں کے ذریعے اقتدار کو طور دیتے رہتے ہیں۔ 2017 میں مشرف کی بغاوت کے 18 سال بعد اور ضیا کے اقتدار پر جبری قبضے کے 40 سال بعد ہم اب بھی ان ڈکٹیٹرز کی وراثت سے جان نہیں چھڑا پائے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اصل حکومت ابھی بھی فوج کے ہاتھ  میں ہے ، صرف حکومت کا طریقہ بدل دیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیوں پاکستان جیسے ممالک میں ڈکٹیٹروں کی وراثت سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوتا ہے ، چاہے سیاسی جماعت کو عوامی حمایت سے ہی اقتدار کیوں نہ ملا ہو۔جن لوگوں کو ووٹ کے ذریعے اقتدار ملتا ہے  وہ  عوام کو گلے لگانے کے بجائے غیر جمہوری طاقتوں کے سامنے جھک جاتے ہیں۔  5 جولائی 77ء سے 12 اکتوبر 99ء  کے بعد آج تک ملک میں ادارے اپنی دھونس جمانے کی کوشش میں لگے دکھائی دیتے ہیں۔ طاقت کے بل پر ریاست پر حکومت مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ عوام کی محرومی کو جوڈیشل ایکٹوازم  اور غیر منتخب نمائندوں کے اقتدار سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔

پاکستان میں بدلتے سیاسی صورتحال کو دیکھ کر مؤرخ حضرات انگشت بدنداں ہیں۔ پاکستان میں منتخب سیاستدان حکمران ڈکٹیٹروں کی وراثت سے جان چھڑانا نہیں چاہتے جس میں ضیا اور مشرف نے ملک کے اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔اداروں کو مضبوط کرنا اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا پارلیمنٹیرین کی ذمہ داری ہوتی ہے  لیکن سیاستدان چاہے اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں ، اداروں کی بہتری  میں وہ کوئی لگاو نہیں رکھتے۔  ایوب، یحیی، ضیا اور مشرف نے اپنے آپ کو مسیحا قرار دے کر اقتدار پر قبضہ کیا لیکن پوری قومی ساخت کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ 2008 کے بعد اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی  کوئی تسلی بخش تبدیلی لانے میں کردار ادا نہیں کیا۔

2008 کے الیکشن قریب آئے تو عوام کو لگا کہ ملک مین جمہوریت آنے سے معاشی اور سماجی انصاف کی راہ ہموار ہو گی  لیکن مارچ 2013 میں جب پہلی جمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہوئے تو ملک کی حالت اور بھی خراب ہو چکی تھی۔ یہی حالت موجودہ حکومت کی 2013 کے بعد سے ہے۔ تقریبا 6 کروڑ پاکستانی  اس وقت خط غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوئر مڈل کلاس کےلیے خوشحالی لفظ ہی بے معنی ہو چکا ہے۔

 غریب  زیادہ غریب ہوتے جا رہے ہیں  اور امیروں کے خزانے پھیل رہےہیں۔ عوامی فنڈز ، قرضے اور ٹیکس کی رقم ملک پر خرچ کرنے کی بجائے سیاسی نمائندوں کے ذاتی اکاونٹس کی نظر ہو رہی ہے۔ پاکستان کی اس سوشو اکنامک اور سیاسی صورتحال کے پیچھے  سب سے اہم کردار حکمران، ملٹری، عدلیہ اور سیاستدانوں کا اتحاد  ہے۔ ارسطو نے اپنی کتاب 'دی پولیٹکس' میں لکھا ہے کہ جب قانون کی حکمرانی نہ ہو تو آئین کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہ بات ہمارے آئین اور آئینی تاریخ پر صادق آتی ہے۔

ہمارے فوجی اور سویلین حکمران  ہمیشہ قانون کو ہاتھ میں لیتے آئے ہیں۔ ہر حکمران نے آئین کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی کوشش کی  اور اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش میں رہا۔ عدلیہ نے بھی اس معاملے میں جو کردار ادا کیا وہ نا قابل تلافی نقصان ملک کو پہنچا چکا ہے اور ہماری تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کر چکا ہے۔

مشرف نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اپنے آپ کو قوم کا سب سےبڑا محسن قرار دیا ہے  جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دور اقتدار میں امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس ملک کے عوام کو صحت، تعلیم اور انصاف جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رکھا گیا۔  ان سب مسائل سے نجات کا راستہ کانسٹیٹیوشنلازم میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کا آئین ایسا مضبوط اور محرک ہونا چاہیے جو قوم کے مستقبل کا تعین کر سکے ، بشرطیکہ یہاں کے شہری آئین اور قانون کا احترام کرنے والے بنیں۔ جس ملک میں سپریم کورٹ مشرف جیسے شخص کو آئین کو ثبوتاژ کرنے کی جازت دے وہاں جمہوریت اور آئین کے وجود کو بھی مستحکم نہیں کیا جا سکتا اور ڈکٹیٹروں کی وراثت جاری رہتی ہے۔

ہمارے آج کے حالات کا ذمہ دار ناقابل، کرپٹ، ظالم اور جابرانہ ادارے ہیں جنہیں عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔حکومتوں کی اپنےآپ کو طاقت اور طول دینے کی پالیسیوں نے پاکستان کو ایک حقیر اور غیر مستحکم ریاست بنا دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی  ملی ٹینسی اور گرتی ہوئی معاشی صورتحال اس بات کی گواہ ہے کہ ظالمانہ اور جارحانہ  پالیسیاں اختیار کرنے سے ملک میں ترقی اور امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔  

ذمہ ادار حکومت اور مستحکم جمہوریت کا قیام تبھی ممکن ہے جب عوام کو لوکل گورنمنٹ کے تحت با اختیار بنایا جائے جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے میں درج ہے۔  حکمران مالی طور پر عوام کا استحصال کرتے ہیں جب کہ مذہبی دانشور  عوام کی طاقت کو اپنے کیتھارسز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو عوام کی صرف اقتدار کے حصول کے وقت ضرور ت پڑتی ہے۔ کسی کو عوامی اقتدار یا عوام کی ترقی اور خوشحالی سے کوئی لگاو نہیں ہے ۔ جب تک اس طرح کا ایجنڈا متعارف اور نافذ نہیں ہوتا تب تک  موجودہ بے یقینی کی صورتحال بار بار آتی رہے گی اور ڈکٹیٹروں کی وراثت کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *