شریف فیملی میں تقسیم؟

ihtasham ul haqueاحتشام الحق
حکومتی اور سیاسی پیچیدگیوں نے اسوقت اسلام آباد کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔جیسے جیسے سیاسی بے یقینی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے لگ رہا ہے کہ وزیرِ اعظم خاقان حاحب کی کارکردگی بہتر ہوتی جارہی ہے جو کہ پہلے پایہِ زنجیر نظر آتے تھے اور اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں لے پا رہے تھے۔ابھی بھی فیصلوں کا اختیار پارٹی کے نا اہل ہونیولے وزیرِ اعظم نوواز شریف ہی کے پاس ہے جو اپنے ہی لوگوں پر روزمرہ کے کاموں کے لئے بھی بھروسہ نہیں کر پا رہے۔
شہریوں اور اداروں کے درمیان محاز آرائی کے وقتی خاتمے کے باوجودحکمران جماعت ابھی بھی ایک پاسے لگی ہوئی نظر آ رہی ہے۔اسوقت حکمران جماعت کی ساری توجہ اپنی سیاسی بقاء اور اگلے الیکشن جیتنے پر ہے۔
اسی بے ترتیب صورتحال ایک بات جو یقینی طور پر نظر آرہی ہے وہ یہ کہ پی ایم ایل (ن) کے اہم کردار جیسے وزیرِ اعظم خاقان عباسی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، چودھری نثار ، خواجہ آصف اور راجا ظفر الحق نے ن لیگ کی مرکزی قیادت یعنی نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز ، جن کے اپنی نا اہلی کے بارے میں الزامات دن بدن خون خار ہوتے جا رہے ہیں، کے ساتھ فاصلے بنانے شروع کر دئیے ہیں۔پارٹی کے اندر موجود کچھ اندرونی آوازیں مسلسل باپ بیٹی کو سمجھا رہی ہیں کہ آرمی اور عدلیہ کے مدِ مقابل آکر دوبارہ پرانی غلطی مت دہرائیں ۔حمزہ شہباز شریف نے بھی ایک چینل پر انٹرویو کے درمیان انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ آرمی کے خلاف لڑاکا بیان بازی سے پر ہیز کریں اور فی الوقت اپنی ساری توجہ اگلے الیکشن کو دانائی کے ساتھ جیتنے پر مرکوز کریں۔صاف لگ رہا ہے کہ دونوں دھڑمعاملات کو ایک نظر سے نہیں دیکھ رہے اسلئے دونوں کا ملاپ ہونا مشکل ہی لگ رہا ہے۔
موجودہ حکومت کی کارکردگی کا بہتر اندازہ لگانے کے لئے آئیے پانامہ لیک آنے سے پہلے اور بعد میں سیکریٹیریٹ میں وفاقی وزراء، ارکان اور پرائیوٹ سیکٹر کے ارکان کی بھی حاضری پر نظر ڈالتے ہیں، چاہے وہ تعداد کے حساب سے ہو یا معیار کے حساب سے۔وہ دن اب چلے گئے جب سیکریٹیریٹ لوگوں کی گہماگہمی اور میٹنگز کے شور سے گونجتا رہتا تھا۔اسوقت موجودہ وزیرِاعظم کی ساری توجہ اس بات پر ہے کہ کس طرح اگلے مئی میں ہونیوالے سینیٹ کے انتخابات میں نواز شریف کو بچایا جا سکے اور اگلے عام انتخابات مین اُن کو جتایا جا سکے۔
جو اسلام آباد کی صورتحال نظر آرہی ہے وہ تو مایوس کن ہے۔ایک وزیرِ خزانہ ہے جو کسی طرح مستعفیٰ نہیں ہو رہا اور وزیرِ اعظم کی بھی اُس سے استعفیٰ مانگنے کی ہمت نہیں ہو رہی،ہاں یہ ضرور کیا جا رہا ہے کہ بڑے بڑے قلمدانوں سے اُس کو ہٹایا جا رہا ہے لیکن یہ بھی موجودہ وزیرِ اعظم کی بوکھلاہٹ ہی کی نشانی ہے کہ وزیرِ خزانہ کو economin cocordination committeمیں جگہ نہیں دی گئی۔
اب اندرونی طور پر تو اداروں کے ساتھ روابط اطوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ابھی وزیرِ داخلہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو ملک کی خراب معاشی حالت پر بات کرنے کی وجہ سے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔اب صحیح بات تو یہ ہے کہ ملک کی حفاظت کو ملک کے سیاسی حالات، معاشی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی اگر جنرل نے ملک کی خراب ہوتی معاشی صورتحال پر بات کی۔اصل بات تو یہ ہے کہ حکومت ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ملک کی معاشی صورتحال خراب ہے بلکہ وہ ادھر اُدھر کے اعداد و شمار دکھا کر اصل چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بڑھتے ہوے قرضوں اور حد سے زیادہ کرپشن سے صرف ملک کی معاشی حالت کو ہی خطرہ نہیں بلکہ یہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی برے اثرات ڈال رہی ہے۔
اگر ہم مان بھی لیں کہ آرمی اپنے مینڈیٹ سے ایک قدم آگے بڑھ رہی ہے تو یہ بات بھی ماننے والی ہے کہ یہ پچھلی دو جمہوری حکومتوں کی ہی نااہلی اور آرام طلبی ہے جس نے آرمی کو اُکسایا کہ ہے وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال لے اور اس ناکام حکمرانی سے پیدا ہونیوالے خلاء کو پُر کر سکے۔
آنے والا وقت اپنے ساتھ مزید سیاسی ہلچل اور فساد لے کر آئے گا۔ایک کے بعد ایک سماعت، بڑھتے ہوے گھریلو فسادات اور پارٹی کی باگ ڈور کا بڑوں کے ہاتھ سے اولاد کے ہاتھ میں چلے جانے کے درمیان تو ن لیگ کہیں سے ہمارے دعاؤں کا ثمر نظر نہیں آتی۔پارٹی کے جیالے ا بھی بھی بہتر دنوں کے آنے کی اُمید لگائے ہوے ہیں اب اُمید کا تو وجوہات سے کو ئی تعلق نہیں ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *