گولڈن ٹیمپل سانحے میں برطانوی کمانڈوز بھی شامل تھے

برطانوی حکومت jamieپر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے  1984 میں ہونے والے سکھوں کے خلاف آپریشن میں بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے تفصیلات کو کور اپ کرنے کی حماقت میں کردار ادا کیا تھا۔ ایک نئی رپورٹ میں مارگیرٹ تھیچر کی حکومت کے خلاف نئے سرے سے انکوائری کا  مطالبہ کیا گیا ہے جس میں ہزاروں سکھوں کے قتل عام کی ساز باز میں برطانوی حکومت کے حقیقی کردار کے سراغ لگانے کی اپیل کی گئی ہے ۔ 2014 میں ڈیوڈ کیمران نے کچھ بھارتی فوج کی طرف سے سکھوں کے خلاف آپریشن کی  خفیہ دستاویزات کے حادثاتی طور پر افشا ہونے کے بعد  رپورٹ پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا تھا کہ آپریشن بلیو سٹار کے بارے میں برطانوی حکومت کو پورا علم تھا۔ سکھ فیڈریشن یو کے کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ بعنوان 'سکھوں کی قربانی' میں بتایا گیا ہے کہ کیمرون کی طرف سے نظر ثانی کا حکم اور اس کا عملدرآمددھوکے کے سوا کچھ نہ تھا۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے بھدے اصولوں اور ذاتی دلچسپیوں کی خاطر حقائق کو چھپایا گیا ہے۔ بھارت کے آپریشن بلیو سٹار سے متعلقہ نصف سے زیادہ فائلز کو سینسر کیا گیا ہے۔ کچھ دستاویزات کے مطابق برطانیہ کے دفتر خارجہ سے جب بھارت نے مدد کی اپیل کی تو خارجہ آفس کو آپریشن اور اس کے نتائج کا پورا علم تھا۔ گولڈن ٹیمپل پر حملے سے ایک ہفتہ قبل بروس کلیگ ہارن نامی ڈپلومیٹ نے لکھا کہ اگر امرتسر آپریشن میں برطانوی حکومت کے ہاتھ کا راز کھل گیا تو یہ برطانوی حکومت کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ 2015 میں کلیگ ہارن خارجہ آفس کے ریویور بن گئے اور انہیں امرتسر قتل عام سے متعلقہ دستاویزات کو سینسر کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔

سر جان سامسڈن  جو نیشنل ریکارڈز اینڈ آرکائیوز کی ایڈوائزری کونسل کے ممبر ہیں  1984 میں فارین آفس  کے ساوتھ ایشیا ڈیپارٹمنٹ میں تعینات تھے۔ بلیو سٹار آپریشن کے بعد سامسڈن نے بھارت کے لیے اے ایس  اسسٹنس کی اپیل کا خط لکھا تا کہ بھارتی فوج کو آپرین میں استعمال کے لیے اسلحہ فراہم کیا جا سکے۔ آپریشن بلیو سٹار میں ایس اے ایس آفیسر ز کے کردار پر پردہ ڈالتے ہوئے آپریشن میں ضائع ہونے والے اصل جانی نقصان سے دنیا کو بے خبر رکھا گیا۔ بھارتی حکومت کے مطابق اس آپریشن میں صرف 400 سکھوں کو قتل کیا گیا جب کہ سکھوں کے مطابق قتل ہونے والے سکھ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔

سکھ فیڈریشن کی رپورٹ کے مطابق ایس اے ایس آفیسر  کی انڈین سپیشل فورسز یونٹ سے ملاقات کے بعد سکھوں نے مذاکرات سے انکار اس لیے کر دیا تھا  کیونکہ انہیں یقین تھا کہ انہوں نے ایک کمانڈو کو شہر میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔اس کے بعد مذاکرات دوبارہ کبھی شروع نہ ہو پائے اور انڈین آرمی نے 1984 میں سکھ ٹیمپل پر حملہ کر دیا۔ چار ماہ بعد بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی  کو ایک سکھ باڈی گاڈ نے قتل کر دیا اور اس نتیجہ میں ہونے والے فساد میں 3000 سکھوں کاقتل عام کیا گیا۔  رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ اس معاملے میں بھارت کی مدد کرنا چاہتا تھا کیونکہ  بھارت 1980 سے 1990 تک برطانیہ سے فوجی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو خوش کرنے کےلیے برطانیہ میں سکھوں پر مظالم ڈھائے گئے تا کہ بھارت زیادہ اسلحہ خرید نے میں دلچسپی کا اظہا رکرے۔

فل ملر نے کہا: حکومت کو  بھارت میں سکھوں کے قتل عام کے واقعہ میں تھیچر کے کردار کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنا چاہیے ۔ وائٹ ہال جس طرح تاریخی دستاویزات کو سینر شپ کے تحت لاتا ہے وہ بلکل ا بچوں کے کلب جیسا ہے جو عوام کو اپنی رقم کے بارے میں جانکاری کے حق سے محروم کرتا ہے۔ برطانیہ کی سپیشل فورسز اور خفیہ ایجنسیوں  کا معاملات مخفی رکھنے کا طریقہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ جمہوریت مخالف قوتیں ہیں۔

بھائی امرک سنگھ جو یو کے سکھ فیڈریشن کے چئیر مین ہیں انہوں نے کہا: اس رپورٹ نے کیمرون کی طرف سے پیش کیے گئے ہے وُڈ ریویو پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔  ایک بہت بڑا کور اپ دیکھنے کو ملا ہے اور پارلیمنٹ اور عوام  کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سچ تک پہنچنے کےلیے معاملے کی آزادانہ انکوائری بہت ضروری ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *