ہزارہ والے کہاں جائیں؟

m hanifبشکریہ: ڈان

محمد حنیف

2012 جنوبی پاکستان  میں ہزارہ کمیونٹی کے لیے ایک   برا سال ثابت ہوا۔ اس کمیونٹی کو ٹارگٹ کلنگ اور  خود کش  حملوں نے تباہ کیا ۔ حتیٰ کہ ان کہ مستقبل کے محافظ بھی محفوظ نہیں۔  یہاں کی کیڈٹ پولیس اور مڈ رینکنگ پولیس  اہلکار بھی ان چھپ کر کیے گئے حملوں میں مارے جا چکے ہیں ۔ اس سال میں نے کوئٹہ میں  ہزارہ شاہ کمیونٹی کے سردار کا ہزارہ کے مستقبل  کے بارے میں انٹر ویو کیا۔عبدالقیوم چنگیزی اپنے پیا روں کے جنازوں میں شرکت کر کر کے تھک چکے تھے۔ یہ کوئٹہ  کے  مختلف علاقوں میں بسی  چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ تو جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے یا تو وہ  اسے جانتے ہیں یا اس کی فیملی کو۔ ان کے پاس اپنے لوگوں کو بچانے کا کوئی طریقہ نہیں۔

"یہ تو ظاہر ہے کہ گورنمنٹ یا سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں محفوظ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں یا وہ  بے بس ہیں۔ " انہوں نے بڑے تحمل سے بات کی ۔"گورنمنٹ کو ہماراسب کچھ بیچ دینا چاہیے۔ ہمارے گھر، ہمارا بزنس، گھر کا سامان، برتن، ہر ایک چیز۔ ان پیسوں سے ایک بڑا بحری جہاز لینا چاہیے اور ہمیں سمندر میں چھوڑ دینا چاہیے۔یقینا کوئی ملک ہو گا دنیا میں جو ہمیں پناہ دے گا۔" چنگیزی کاتصوری بحری جہاز پہلے سے ہی موجود تھااور انڈونیشیاء اور آسٹریلیا کے بیچ وہ بے رحم سمندر میں   انسانی کارگو کا کھیل  کھیل رہا تھا۔

2008 میں جب ہزارہ پر حملے بڑھ گئے  تو وہاں کے لوگ  اپنے گھر بار اس تصوری بحری جہاز کے لیے بیچنے لگے ۔ بہت سے لوگ ملیشیاء اور انڈونیشیا سے 4 یا 6  ہزار ڈالر دے کر اس بحری جہاز پر آسٹریلیا یا  نیوزی لینڈ  جانے کی نیت سے سوار ہوئے۔ یہ سفر 50 سے 60 گھنٹوں کا ہوتا  اور ہزارہ  کے ایک باشندے کی زبانی جس نے 6 یا 6 سے زائد دفعہ یہ سفر کیا کے مطابق   یا تووہ بتائی گئی جگہ پہنچ جائے گا یا مچھلی خور بن جائےگا۔

اس سے بھی برا ابھی ہو نا تھا۔

اگر ہزارہ کے لوگ  سوچتے  کہ وہ 2012 جیسے ظالمانہ سال سے گزر رہے ہیں تو  آ نے والاوقت بھی  ڈراؤنے خواب  میں بدل جاتا۔ ہزارہ ہدف بنا کے قتل ہو رہے تھے ان کی عبادت گاہیں ان کے لیے موت کے جال بن گئیں تھیں اور ان کے بزرگ  ختم ہو رہے تھے۔  2013 میس  مرڈر کا سال ثابت ہوا۔ اس سال کے پہلے دو ماہ  میں 2 بڑے بم دھماکوں سے 200 سے زائد لوگ جاں بحق اور  ہزاروں زخمی ہوئے۔ اور  یہ وحشت زدہ میس مرڈر صرف ظالمانہ پاکستانی حکومت کے ردعمل کا نتیجہ تھا ۔

2013 کی فروری کو ہزارہ کمیونٹی  نے اپنے ہزاروں مُردوں کو دفنانے سے انکار کر دیا۔ سردی کی سخت مشکل راتوں میں  وہ گلیوں میں اپنے مردوں کو لے بیٹھتے  اور انصاف  اور حفاظت کا تقاضہ کرتے۔  ان کے اس  احتجاج سے  ملک کے کئی  بڑے شہروں کی سڑکیں  رک گئیں ۔   اور پاکستانی گورنمنٹ نے ان کو حفاظت  دینے کے جھوٹے وعدے کر کے لاشوں کو دفنانے پر منایا۔ لیکن ان احتجاجوں کے دوران ایک بات واضح ہو گئی کہ  ہزارہ اکیلے کھڑے تھے ۔ اور اگر ان کے ساتھ یکجہتی میں کوئی احتجاجن کھڑا ہو اتو وہ غیر ہزارہ شیعہ  کمیونٹی  تھی ۔کچھ پولیٹیشنز اور سول سوسائٹی کے کار کنان  آگے بڑھے لیکن بے حسی  کی سطح خون کی ہولی جتنی ہی گہری تھی۔

زیادہ تر بڑے شہر کے لوگوں کے لیے یہ احتجاج کرنے والے ہزارہ ان کے روز مرہ کے کاموں میں اور ٹریفک میں رکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھے۔ قتل کرنے کا یہ ہی عذر ان کے قاتلوں کے پاس بھی تھا  ۔ سارا شہر بس اس  جاری و ساری ظلم کا  خاموش تماشائی لگتا تھا ۔  جب یقین ہو گیا کہ پاکستان میں اس ظلم کا اختتام نہیں ہونے والا  اور یہاں بلکہ ان کے قاتلوں کو آسانیاں مہیا کی جا رہی ہیں تو  انہوں نے ہجرت شروع کر دی ۔ کچھ ہزارہ ملک کے دوسرے حصوں میں چلے گئے لیکن ان کی بد قسمتی ان کے چہروں پر صاف جھلکتی تھی اور پاکستان میں کہیں بھی ان کے چہروں سے ان کے مہاجر ہونے کا پتہ چلتا  تھا۔  انسانیت کے حقوق  کے کار کنان میں اس بات پر بحث ہوتی کہ ہزارہ کی نسل کشی  نسلی ہے یا فرقہ وارانہ۔ سینئر  پولیس آفیسر اکثر دعوی کرتے کے روزانہ ہزارہ کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ  اجنبی   نظر آتے ہیں۔زیادہ تر ہزارہ   وسطی ایشیائی لگتے ہیں اور تاریخ میں وہ قومیت کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان میں نشانہ بنتے رہے۔ 

کچھ تاریخ دانوں کے مطابق، 19 ویں صدی میں  افغانستان میں آدھی ہزارہ کی آبادی قتل عام میں ملوث ہے۔  قانون کے مطابق اگر وہ پہچانے جا تے تو وہ چھوٹ جاتے۔ لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ بہت سے ہزارہ مکسڈ میرج سے ہیں  جو بلکل مختلف نہیں لگتے اور وہ ابھی بھی  نشانہ بنتے ہیں۔ ان کے قاتل کراچی تک ان کا پیچھا کرتے اور انہیں مار ڈالتے ہیں۔  اگر آپ پاکستان میں ہزارہ ہیں تو  آپ خطرے میں  ہیں ۔ اگر موت آپ کو بم دھماکے میں  نہیں پکڑتی تو آپ کے سر سے گولی ضرور گزرے گی۔  اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ پولیس کے لیے کام کرتے ہیں یا سیکیورٹی ایجنسی میں ہیں ۔ آپ اولمپک باکسر ہوں یا ٹی- وی اداکار یا  قابل احترام سکول کے استاد سب   موت  کی قطار میں کھڑے  ہیں۔ہزارہ  کاروباریوں نے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں اور گھروں میں  بیٹھے ہیں  گورنمنٹ کو ہزارہ  ملازمین کو گھروں میں بیٹھے بیٹھے تنخواہ  ملتی ہے آفس آنے سے روک دیا ہے۔ ان کے بچوں کی پڑھائی روک دی اور وہ گلیوں میں آروارہ پھر رہے ہیں۔خوش قسمت لوگ گھربار بیچ کر ملیشیا یا انڈونیشیا اس امید سے روانہ ہو گئے کہ آسٹریلیا جا پائیں گے۔

 بے منزل بحری جہاز

میں انڈونیشیا  جو پاکستان کے ہزارہ مہاجروں کا مرکز ہے میں حاجی شبیر سے ملا۔ ہزاروں ہزارہ مہاجر یہاں  3،4 سال سے  ایک مغربی ملک میں سیاسی پناہ کی امید میں  رہ رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں  ۔ حاجی شبیر کچھ خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں ۔ انہوں نے بتایا:" ہم کشتی  پر بیٹھے اور 40 گھنٹوں کی مسافت کے بعد انجن میں کوئی خرابی آ گئی۔کشتی کے مالک نے ہمیں ایک سیٹلائیٹ فون دیا کہ ہم  بچاؤ کے لیے کسی کو  بلا سکیں وہ ہمیں جکارتہ میں واپس لائے اور ایک ہوٹل میں رکوایا ۔رات کو سب فرار ہو گئے۔ انڈونیشین پولیس نے بھی رشوت لی یا جو بھی تھا ان کو ہمیں رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ 16  گھنٹوں بعد ایک بار کشتی پر سوار ہوئے۔  مجھے اس کشتی کو پکڑنا تھا جس میں میں ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے نا کام رہا اور  کشتی مجھے چھوڑ گئی، میں نے اس کے بعد 6 دفعہ کوشش کی اور میں اب تک یہاں ہی ہوں۔"

جب ہزارہ کمیونٹی کے لوگ  پاکستان سے کشتی پر حفاظت کی تلاش میں آرہے تھے تب آسٹریلین گورنمنٹ نے اپنی پالیسی بدل دی اور اعلان کیا کہ کشتیوں سے آنے والے مسافروں کو ملک میں  داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ انہیں ساحل سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا۔ پاکستانی اخبارات میں آسٹریلین گورنمنٹ نے اس پالیسی کے  اشتہارات چھپ وائے  کہ انہوں نے کشتی مسافروں کو ڈی پوٹ کر دیا ہے اور وہ مزید کسی کو داخل نہ ہونے دیں گے۔ جکارتہ سے بایر بوگور ٹاؤن اور اس کے ارد گرد کا علاقہ  ایسے مسافر ہجرت کرنے والے  ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں    کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ وہ صرف اپنی سیاسی پناہ گاہ کی بات کر سکتے ہیں  اور ان کو اپنے  کیس کی  پیش رفت کا بھی کوئی اندازہ نہیں ۔وہ UN کےاہلکاروں  سے ملاقات پر ایک ہی بات سنتے ہیں کہ:"ہم منتظر ہیں تمہیں بھی انتظار کرنا چاہیے۔"

اس انتظار نے لوگوں کو تھکا دیا ہے۔ بوگور میں 3 سال گزارنے کے بعد حاجی  شبیر نے فیصلہ کیا کہ انہوں نے بہت انتظار کر لیا " اگر مجھے مرنا ہے تا  شاید  کوئٹۃ میں مرنا میرا نصیب ہو " انہوں نےUN نمائندے سے رابطہ کیا اور ان سے کیس واپس لینے کی اپیل کی تو جواب ملا:"اگر آپ واپس جانے کا فیصلہ کر لیں تو UN آپ کے واپسی کی ٹکٹ  کا خرچ اٹھائے گا"۔   لیکن جب میں نے اپنی فیملی کو بتایا تو وہ کہنے لگے محرم آ رہا ہے اور لوگ کوئٹہ  سے  بھاگ رہے ہیں تم کس قسم کے بد قسمت ہو جو واپسی کا سوچا"لیکن حاجی شبیر اپنے فیصلے پر قائم رہے ۔اور پھر محرم کے بیچ  کوئٹہ میں سیکیورٹی سخت ہوئی اور ہزارہ کمیونٹی کی 4 عورتوں بس  میں  گولی مار دی گئی  تو شبیر نے جانے کا ارادہ رد کر دیا اور مہاجر کے طور پر رکے رہنے کی ٹھانی۔

قاتل ہم ہیں

پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں کیا کرتی ہیں جب ہزارہ مارے جاتے ہیں؟ بوگور میں میں ایک ماموں  سے ملی جو 3 سال سے اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر تھے ۔وہ کوئٹہ کے سابق سکیورٹی افسر تھے جو گمنام رہنا چاہتے تھے  اور بے حدبے بس تھے  ۔  انہوں نے فرنٹئیر کانسٹیبل کی نوکری کی اور FC میں 4 سال کمپیوٹر آپریٹر رہے۔ بعد میں ان کی ڈیوٹی میں پیر املٹری فورس کے لیے میڈیا مینجمنٹ   میں بھی لگائی گئی۔ پولیس اور آرمی کے ساتھ  انہیں کوئٹہ  اور پورے بلوچستان میں قانون کے نفاذ کے معاملات دیکھنا تھے۔  انہوں نے کہا :" FCنے اتنے لوگوں کو مارا جتنے ہزارہ مرے ۔ ہم بلکل بے بس تھے۔ جب بھی ہزارہ مرتے  بجائے اصل گناہ گار کے FCاہلکار بلوچ  علیحدگی پسندوں کے پیچھے پڑجاتے   "

وہ بہت ساری میٹنگز اور  چھاپوں میں بھی شریک رہے جو کسی بھی بڑے حادثے کے بعد  کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا :" ان میٹنگز میں ہزارہ کو حفاظت دینے کے بجائے اس سب کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا۔ ان میٹنگز کے بعد ہم گاؤن میں چھاپہ مارتے اور درجنوں بلوچ جوانوں کودھر لیتے جن کا صاف کسی معاملے میں  کوئی ہاتھ نہ ہوتا۔"

یہ ایک شیطانی چکر تھا پہلے ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کرتے پھر بلوچ کمیونٹی  کو   ریڈ کرتے۔ حتیٰ کی جب کوئی اصل مجرم پکڑا جاتا تو اسے اینٹی دہشت گرد فورس  کے حوالے کر دیتے اور جیل میں قید کر دیتے جہاں سے وہ فرار ہو جاتے۔

ماما کی طرح  بہت سے مہاجر اور آزاد صحافی مانتے ہیں کہ پاکستانی  طاقت ور ایجنسیوں کاتعلق  فرقہ وارانہ ملیشیا ئی لوگوں سے ہے جن پر ہزارہ  کمیونٹی کی کلنگ کا الزام ہے۔ سول انٹیلی جینس سپیشل برانچ  کے سب انسپکٹر  جنہوں نے اپنی جاب چھوڑ دی جب ان کے کئی  کزن مارے گئے ، وہ دعوی  کرتے ہیں کہ "کوئٹہ کے ٹارگٹ حملے کے بعد ہم نے دو دہشت گردوں کا پیچھا کیا وہ موٹر سائیکل پر تھے وہ کینٹونمنٹ گیٹ پر آ کر غائب ہو گئے۔ ہم نے ملٹری  گارڈز کو بتایا کہ 2 دہشت گرد آپ کے علاقے میں آئے ہیں اور ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں تو انہوں نے ہمارے شناختی کارڈ چیک کیے اور حکم دیا کہ اس حادثے کا کسی سے ذکر نہ کیا جائے۔ " ماما سوچتے  ہیں کہ ایک معمولی فوجی اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا "قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں   مذہب میں نہیں پڑتیں ۔ معمولی فوجی کےپاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔  یہ انٹیلی جینس کا سیکشن ہے جو ان فرقہ وارانہ کاروئی کے ذہمہ داروں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ وہ اب قابو میں نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کے ان کو حکم کہاں سے جاری ہوتے ہیں۔ لیکن یہ شدت پسند لوگ شیعہ کے خلاف لوگوں کے گروہ سے پیسے لیتے ہیں۔   "

موت کے بعد کی پناہ گاہ

جب ملیحہ علی نے پاکستان چھوڑا  وہ اپنے او-لیول کے امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔  گزشتہ 3 سال  سے وہ اپنی فیملی کے ساتھ بوگور کے باہر رہ رہی تھیں اور اپنا امتحان کسی صورت نہیں دے سکتیں تھیں ۔ان کے والد لیاقت علی چنگیزی جو سابق ٹی- وی  اداکار اور ڈاکیومینٹری پروڈیوسر رہے ہیں نے کوئٹہ  چھوڑنے کا تب فیصلہ کیا جب ان کے بہت سے ساتھی مارے گئے۔ " اس وقت سکول   والوں نے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کو کہا تھا کیوں کہ ان کی وجہ سے باقی لوگ رسک میں تھے۔ "ان کو کوئٹہ  ٹی – وی مینیجر نے بھی  نہ آنے کا کہا تا کہ باقی سب کو خطرہ نہ ہو۔  اپنے  سیاسی پناہ گاہ کے کیس میں بوگور میں 3 سال انتظار کرنے کے بعد  چنگیزی اور  ان کی بیٹی کو لگا کہ ان کی زندگی کے سال ان سے چھین لیے گئے ہیں۔ملیحہ نے کہا: " یہ میری زندگی کے اہم سال تھے میں پڑھ رہی  ہوتی   مستقبل کی پلاننگ کر رہی ہوتی ، لیکن ہم یہاں بیٹھے ہیں ، اس انتظار میں کہ کوئی ملک ہمیں لے گا اور ہم نئی زندگی شروع کریں گے۔ " انڈ ونیشیا میں ان مہاجروں کو کام کرنے اور سکول جانے کی اجازت نہیں  ساری ہزارہ قوم  اور ان کا مستقبل رسک پر ہے۔ دوسرے مہاجروں کی مدد سے  چنگیزی نے ایک سنٹر کھولا ہے جہاں ہزارہ مہاجروں کے بچے ابتدائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور ایک دو  سینٹر اس کمیونٹی کا مرکز ہیں  جہاں لوگ آ کر  کونسلنگ لے سکتے ہیں۔ ملیحہ اس طرح کے ایک سینٹر کی ٹیچر ہیں " کبھی میں سوچتی ہوں کہ جہاں مجھے اپنےسکول جانا چاہیے میں خود پڑھا رہی ہوں۔  کم از کم ہم یہاں فٹ بال کھیل سکتی ہیں کوئٹہ میں نہیں کھیل سکتے تھے۔  "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *