جوہری معاہدے کے باوجود امریکہ ایران تعلقات ابھی قربتوں سے بہت دور ہیں۔۔۔

Iran صدر اوباما اپنے آخری دو برس کے دوران امریکہ کو درپیش متعدد لاینحل تنازعات میں سے کم از کم ایک۔۔۔ ایران کا تنازعہ حل کرنے کے بہت زیادہ شوقین نظر آ رہے ہیں۔
صدر روحانی اور ان کی حکومت، بہت ممکن ہے کہ امریکہ اور مغرب سے سفارتی تعلقات کی کواہاں ہو، مگرایران کے سپریم رہنمااور ان کے حامی ان تعلقات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
لیکن یہ عامل دونوں جوانب کوعلاقائی تنازعات میں تعاون کے ٹھوس مواقع دریافت کرنے سے باز رہنے پر ہرگز مجبور نہیں کرتا۔
ہرچند کہ ایک بڑا نظریاتی اختلاف دونوں کو جدا کرتا ہے۔ دونوں کے مفادات افغانستان سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر عراق تک ، جگہ جگہ متصادم و مشترک ہیں، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے تاریخی سرد مہر تعلقات پر نئے سرے سے سوچنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔
بسااوقات، محنت طلب جوہری مذاکرات کی سائیڈلائنز پر، امریکہ ایران مذاکرات کا محور داعش کے ان جہادیوں کے خلاف لڑائی بھی رہی جو عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں۔
فروری میں، کیری نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران اگر باہمی تعاون کے خواہاں نہ ہوں تو بھی وہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔
افغانستان میں بھی، دونوں، طالبان کے خلاف لڑنے کا مشترکہ مفاد رکھتے ہیں کیونکہ طالبان ایران اور امریکہ دونوں کیلئے خطرہ ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے بھی کم و بیش کچھ ایساہی کہا کہ ’’دونوں ممالک تعاون جاری رکھیں گے، بالخصوص تب تک کہ جب ایران کے اندر کوئی بڑی تبدیلی آجائے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *