اگر یہ چلن عام ہوگیا

gul

میں اور فراست صاحب 200 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے تھے‘ پکی سڑک ختم ہوئی اور گائوں کی کچی پگڈنڈی شروع ہوگئی۔ سفر کے آغاز میں ہم گاڑی سروس کروا کے نکلے تھے تاہم اب لگ رہا تھا جیسے گاڑی پانی کی بجائے مٹی سے سروس کروائی تھی۔ ہم دونوں راستے سے لاعلم تھے‘ بس اِدھر اُدھر لوگوں سے پوچھ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ اِس سفر کا محرک خود فراست صاحب تھے۔ عرصہ دوسال سے اُنہیں وہم ہوگیا تھا کہ اُن کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کئی نفسیات دانوں سے بھی رابطہ کیا لیکن تشفی نہ ہوسکی۔ بالآخر کسی نے بتایا کہ ساہیوال کے قریب کسی گائوں میں ایک بابا جی رہتے ہیں‘ بڑے پہنچے ہوئے ہیں اور پریشانیوں سے نجات دلانے میں ماہر ہیں۔ فراست صاحب نے مجھ سے فرمائش کی کہ وہ میرے ساتھ اُس بابے کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ دو سال میںپہلی بار مجھے احساس ہوا کہ اپنے دماغ کے بارے میں وہ بالکل بھی وہم کے شکار نہیں۔ میرے لیے اُن کی بات ردّ کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا گاڑی میں بٹھایا اور بابے کے گائوں چل دیئے۔ اڑھائی گھنٹے کی مشقت کے بعد ہمیں بالآخر بابا جی کا ڈیرہ مل ہی گیا۔ وہاں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا اور لوگوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ہماری باری اگلے دو ہفتوں تک بھی نہیں آئے گی۔ لیکن پھر ایک چمتکار ہوگیا۔ بابا جی کے ایک مرید خاص میرے فین نکل آئے‘ انہوں نے نہ صرف مجھے پہچان لیا بلکہ بڑی خوشی سے بتایا کہ انہوں نے کبھی میرا کوئی کالم نہیں پڑھا لیکن تصویر ضرور دیکھی ہے۔ اتنا ہی کافی تھا۔ میں نے اُن سے درخواست کی کہ ہم نے چونکہ آج ہی کی تاریخ میں واپس لاہور بھی پہنچنا ہے، لہٰذا بابا جی سے ٹائم لے دیں۔ انہوں نے ایک منٹ نہیں لگایا اور ہمارا بلاوا آ گیا۔ میں اور فراست صاحب بابا جی کے حجرے میں داخل ہوئے تو بابا جی ایک تخت پوش پر بیٹھے تھے‘ ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ٹوپی۔ ہمیں دیکھ کر مسکرائے ‘ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مسئلہ پوچھا۔ فراست صاحب نے تفصیلاً اپنی پریشانی بتا دی۔ اس دوران بابا جی کے ہاتھ مسلسل تسبیح کرتے رہے۔ اچانک انہوں نے فراست صاحب کی طرف دیکھا اور باآواز بلند دو تین موٹی موٹی گالیاں نکال دیں۔ ہم ہکا بکا رہ گئے۔ فراست صاحب نہایت شریف انسان ہیں‘ اتنی گندی گالیاں سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوگیا لیکن بمشکل خود پر کنٹرول کر کے بیٹھے رہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بابا جی نے ایسی زبان کیوں استعمال کی۔ اس سے پہلے کہ میں اُن سے کچھ پوچھتا‘ انہوں نے فراست صاحب کی طرف منہ کرکے ''د‘ ک‘ گ‘ ب‘ م‘‘ سے شروع ہونے والی تمام گالیاں بہترین تلفظ کے ساتھ پھر اُگل دیں۔ سخت سردی میں بھی فراست صاحب کے چہرے پر پسینے کے قطرات نمودار ہوگئے۔ وہاں ہمارے علاوہ باباجی کے کچھ اور مریدیں اور میرا ''اَن پڑھ فین‘‘ بھی موجود تھا۔ اس نے جلدی سے فراست صاحب کو اشارہ کیا کہ گالیوںکے جواب میں خاموش رہیں۔ کچھ دیر سکوت رہا۔ پھر بابا جی نے فراست صاحب کو اشارہ کیا‘ اپنے پاس بلایا اور بڑے پیار سے بولے ''یہ جو ہم نے تمہیں گالیاں دی ہیں‘ ان سے تمہارے اندر کاسارا غصہ‘ سارا میل‘ ساری کدورت ختم... جائو اب تمہارا ذہن اور من بھی صاف ہوگیا ہے‘‘۔ یہ سن کرفراست صاحب کی آنکھیں بھر آئیں‘ انہوں نے انتہائی عقیدت سے بابا جی کے پیر چھوئے اور بھرائی ہوئی آواز میں بولے''میں آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں بابا جی‘ آپ نے گالیوں کے ذریعے میری پریشانی دور کردی‘ میں آپ کی شان میں صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ...‘‘ اور اس کے بعد خالص پنجابی گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ بابا جی کو ایک کرنٹ سا لگا‘ مریدین میں بھگدڑ مچ گئی۔ میرے ہوش اڑ گئے۔ فراست صاحب انتہائی دلجمعی سے تابڑ توڑ گالیاں دیئے جا رہے تھے اور بابا جی غصے سے مٹھیاں بھینچ رہے تھے۔ فراست صاحب کی گالیوں نے ریڈ لائن کراس کی تو بابا جی کا حوصلہ جواب دے گیا۔ وہ پوری قوت سے گالیاں دیتے ہوئے چلائے''دفع ہو جائو... نکل جائو یہاں سے...‘‘ یہ سنتے ہی فراست صاحب یکدم چپ کر گئے‘ آہستہ سے بابا جی کے پاس آئے اور دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھ کر مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولے''کیوں بابا جی! آپ کو کیوں غصہ آ گیا‘ کیا آپ کا ذہن اور مَن صاف نہیں؟...!!!‘‘
واپسی پر ہم کافی دیر ڈسکس کرتے رہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بظاہر اکثر نیک دکھائی دینے والے بعض لوگوں کی زبانوں میں اتنی سختی کیوں ہوتی ہے۔ اِنہیں ہر چیز کے بارے میں علم ہوتاہے‘ سوائے غصے کے... جس کے بارے میں صریحاً حرام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ایک ہی زبان پر ذکر اذکار بھی ہوں اور غلط الفاظ بھی؟ یہ کیسا رویہ ہے؟ یہ کون سی سنت پر عمل ہے؟ ہاتھ میں تسبیح اور زبان میں کڑواہٹ ... ثابت کیجئے کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ اسوۂ حسنہﷺ میں تو حلاوت نظر آتی ہے‘ مٹھاس نظر آتی ہے۔ کوڑا پھینکنے والی عورت سے زیادہ کون لعن طعن کا مستحق تھا‘ لیکن زبان اقدس کے ذخیرہ میں تو وہ الفاظ موجود ہی نہیں تھے جو اخلاق سے گرے ہوئے ہوں۔ تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو اسلام کو اس طریقے سے پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ڈر لگنے لگتاہے کہ کیا میرے اور آپ جیسے لوگ عاشق رسولﷺ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے ؟ کیا کوئی ایسا مسلمان بھی ہے جو عاشق رسولﷺ نہ ہو؟ ہمارے تو ایمان اور عقیدے کی ابتداء ہی اِس عشق سے ہوتی ہے۔ ہمارے لیے تو یہ بظاہر نیک لوگ ہی آئیڈیل ہیں جو مبلغ بھی ہیں اور اسلام کے داعی بھی۔ لیکن کیا ان کے حلق سے نکلنے والے ایسے الفاظ کا ہمارے دین سے کوئی تعلق ہے؟ ایک عام سادہ سا نیم خواندہ مسلمان بھی ایسے رویے کا مظاہرہ نہیں کرتا جتنا مذہب کے قریب ہونے کے بعض دعوے دار کرتے ہیں۔ ان کے یہی رویے مہذب لوگوں کو اسلام کے قریب اور اِن سے دور کر رہے ہیں۔ یہ حق پر بھی ہوں تو اظہار ایسے طریقے سے کرتے ہیں کہ بندہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کیا بات کرنے کا یہی ایک طریقہ رہ گیا تھا۔ اِنہیں شاید اندازہ نہیں کہ جب یہ بولتے ہیں تو لوگ ان کی بات کتنے غور سے سنتے ہیں... اور جب یہ اپنی گفتگو اخلاق کے دائرے میں نہیں کرتے ہیں تو اس کا کیا اثر پڑتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر یہ جتنا مرضی بڑا ہجوم اکٹھا کر لیں‘ الیکشن میں مذہبی لوگوں کی اکثریت اِن کے خلاف فیصلہ سنا دیتی ہے۔ اِنہیں شاید اندازہ نہیں کہ آس پاس کے جن گھروں میں جب اِن کی کبھی ایسی گفتگو پہنچ رہی ہوتی ہے وہاں کے مکین کس قدر کوفت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مخالف کو برا بھلا کہنا بڑا آسان ہے‘ گلیوں‘ محلوں‘ بازاروںمیں ایسے لوگ بھرے پڑے ہیں جو دوسروں کو بات بات پر گالی نکالتے ہیں۔ لیکن اِن لوگوں کو بھی جب احساس ہو کہ قرب و جوار میں کوئی خاتون گزر رہی ہے یا کسی کا گھر ہے تو یہ خود روک لیتے ہیں یا کم ازکم آواز دھیمی کر لیتے ہیں۔ یہ چلن عام ہوگیا تو کہیں ایسا نہ ہوکہ جو جتنی اخلاق سے عاری گفتگو کرے اُسے اُتنا ہی مہذب یا نیک انسان سمجھا جانے لگے...!!!!
یہ حق پر بھی ہوں تو اظہار ایسے طریقے سے کرتے ہیں کہ بندہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کیا بات کرنے کا یہی ایک طریقہ رہ گیا تھا۔ اِنہیں شاید اندازہ نہیں کہ جب یہ بولتے ہیں تو لوگ ان کی بات کتنے غور سے سنتے ہیں... اور جب یہ اپنی گفتگو اخلاق کے دائرے میں نہیں کرتے ہیں تو اس کا کیا اثر پڑتاہے۔

( گل نوخیزاختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *