’بچے کی آنکھوں میں وہ نظر آتا ہے جس نے مجھے ریپ کیا‘

کیتھرین (فرضی نام) ایک شخص کےrape ریپ کرنے کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی تھیں۔ اس شخص کو وہ اپنا دوست سمجھتی تھیں۔ وہ یہاں بیان کر رہی ہیں کہ انھوں نے اس بچے کو جنم دینے کا فیصلہ کیوں کیا، اور ان کے لیے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھنا کیوں مشکل ہوتا ہے۔

میں دو بچوں کی ماں تھی جو شوہر کے بغیر رہ رہی تھی۔ میں اسے جانتی تھی۔ ہم دو برسوں سے دوست تھے۔ ہمارے درمیان عام سی دوستی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میں اس سے زیادہ کسی قسم کا تعلق نہیں چاہتی، اور صرف دوستی پر ہی خوش ہوں۔

میں اس کے گھر پر تھی۔ میں نے اسے خود سے اتنا قریب محسوس کیا جس سے مجھے الجھن ہونے لگی۔ میں نے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ سب کچھ بہت تیزی سے اور زبردستی ہوا۔

میں جیسے بالکل جم کر رہ گئی۔ میں نے مزید لڑنے کی کوشش نہیں کی۔ میرا ردعمل لڑنے کی بجائے منجمد ہونے کے برابر تھا۔

وہ کچھ نہیں بولا۔ بس اٹھا، اپنے گھر سے باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔

میں پیدل گھر گئی۔ میں زخمی تھی لیکن زخموں کی شدت کا احساس مجھے بعد میں ہوا۔

ایسے موقع پر بس آپ ایک ایسی جگہ پہنچنا چاہتے ہیں جہاں اپنایت کا احساس ہو۔

میں نے اپنے بچے ایک پڑوسی کے گھر میں چھوڑے تھے۔ جب میں گھر پہنچی تو گھر خالی تھا اور میرے بچے ساتھ والے گھر میں سو رہے تھے اور یہ اس صورتحال میں ایک حد تک ۔۔۔ باعثِ سکون تھا۔ میں نے کسی سے بات نہیں کی۔ مجھے احساس تھا کہ لوگ الٹا مجھے الزام دیں گے، کہیں گے کہ میں جان بوجھ کر خود کو ایسی جگہ پر لے آئی تھی یا پھر یہ کہ یہ میرا ہی قصور تھا۔

مکان

مجھے یہ بھی احساس تھا کہ میں اسے جانتی تھی۔ اس لیے یہ اس طرح کا ریپ نہیں تھا جیسے کسی اجنبی کی طرف سے کیے جانے والا حملہ۔ اسی لیے میں نے پولیس کو نہیں بتایا۔

اگلے دن میں اس سے پوچھنا چاہتی تھی، کیوں؟ اس کا کہنا تھا کہ اس کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا۔ اس نے اس واقعے سے انکار نہیں کیا اور کہا کہ اس کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا اور اسے کوئی بات یاد نہیں ہے۔ لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سچ نہیں ہے۔

میں نے اس پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی پوری طرح سے پتہ نہیں ہے کہ میں نے کوئی ردِ عمل کیوں نہیں دکھایا۔ میری توجہ ہمیشہ سے بچوں پر مرکوز رہی ہے، اور میں نے اپنی توجہ دوبارہ انھی پر مرکوز کر دی۔

جب کیتھرین کو پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہیں تو انھوں نے ریپ کرنے والے کو بتا دیا۔۔۔

میں نے کہا کہ میں حاملہ ہوں اور یہ تمھارا بچہ ہے۔ مجھے توقع تھی کہ وہ کہے گا، 'نہیں، یہ میرا نہیں ہے‘۔ لیکن اس نے تسلیم کر لیا۔ اس نے اس حمل کے حالات کو تسلیم نہیں کیا، لیکن اس نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ بچہ اس کا ہے۔

میں نے ابورشن کے بارے میں نہیں سوچا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں اسقاطِ حمل کے خلاف نہیں ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔ لیکن ذاتی طور پر میں نے سوچا کہ بچے کو پیدا ہونے سے پہلے مار دینے سے بات مزید بگڑ جائے گی اور اس سوچ کے ساتھ میرے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی، بہ نسبت اس کے کہ ایک بچہ نہ چاہتے ہوئے پیدا ہو جائے۔ میرے پہلے ہی سے دو بچے تھے۔

میں خاصی خود غرض ہوں۔ میں بچے کی زندگی کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ میں بچے کو قتل کرنے کے معاملے کو اخلاقی لحاظ سے نہیں پرکھ رہی تھی۔ میں اسے اس نقطۂ نظر سے دیکھ رہی تھی کہ ایک طرف تو میرے لیے ریپ اور پھر بچے کے قتل کے بعد زندگی گزارنا ہے، اور دوسری طرف ریپ اور پھر بچے کے ساتھ ۔ ان میں سے پہلی بات زیادہ مشکل تھی۔

میرے اردگرد میرے خاندان والے نہیں تھے۔ آس پاس کے لوگوں کو جب پتہ چلا کہ میں اکیلی ہونے کے باوجود حاملہ ہو گئی ہوں تو انھوں نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے حمل کی کوئی وجہ پیش نہیں کی۔

میں نے لوگوں کو گھورتے ہوئے دیکھا، اور مجھے پتہ تھا کہ لوگ پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں۔ میری ایک دوست کے بچے اسی سکول میں پڑھتے تھے اور وہ لوگوں کو مختلف باتیں کرتے سنتی تھی۔ یہ بہت مشکل تھا کیوں کہ میں لوگوں کو یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ مجھے ریپ کیا گیا ہے۔ لوگ جو کہتے ہیں میں نے انھیں کہنے دیا۔

میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ لوگ بچے پر کوئی لیبل لگا دیں۔ جس چیز نے مجھے اس کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا وہ یہ تھی کہ میں نے ہمیشہ اپنے بچے کا تحفظ کیا ہے۔ کیوں کہ وہی اس تمام معاملے کے اندر سے نکلنے والی ایک مثبت چیز تھی۔

جب میں نے پہلی بار اسے ہاتھوں میں لیا تو جس چیز نے مجھے چونکا دیا وہ اس کی آنکھیں تھیں جو ہو بہو اپنے باپ پر گئی تھیں۔ اس وقت جیسے پہلی بار میں نے حقیقت کا سامنا کیا تھا۔

بچے کے کپڑے

جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اس کی آنکھیں اور بھی زیادہ اپنے باپ کی طرح ہوتی گئیں۔ مجھے ریپ کے بارے میں جو چیز سب سے زیادہ یاد ہے، وہ ہے اس کی آنکھیں۔ اس کی آنکھیں بےحد غیر معمولی ہیں۔

میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتی ہوں کہ میں نہیں سمجھتی کہ میرے اور بچے کے تعلق میں اس کے وجود میں آنے کے طریقے کا کوئی عمل دخل ہے۔ کم از کم شعوری طور پر نہیں۔ صرف یہ کہ جب میں اس کی کوئی ادا دیکھتی ہوں ۔۔۔ اور ادائیں بچوں کو ورثے میں ملتی ہیں ۔۔۔ تو مجھے خود کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں ہے۔

کیتھرین کہتی ہیں کہ انھیں کبھی بچے کو رکھنے کا پچھتاوا نہیں ہوا

میں نے صرف پچھلے چند برسوں میں لوگوں کو بتانا شروع کیا ہے۔ میں بہت عرصہ چپ رہی ہوں۔ اور جن کو بتایا ہے وہ وہی لوگ ہیں جو میرے بیٹے کو جانتے ہیں، تاکہ ان کا میرے بیٹے کے بارے میں تاثر خراب نہ ہو۔

ان حالات میں جو بھی کیا جائے اس کے اثرات ہوں گے۔ اگر بچے کو کسی کو گود دے دیا جائے، یا بچہ ضائع کر دیا جائے، یا اسے پالا جائے۔۔۔ آپ کی زندگی ہر حال میں ہمیشہ کے لیے متاثر ہو گی۔ نقصان ہر صورت میں ہو گا۔ بڑا نقصان۔ اس نقصان کو کیسے کم کیا جائے؟

بچے کی آنکھیں

یہ میرے بارے میں ہے اور بچے کے بارے میں بھی۔ اگر اس بچے کی پیدائش کے بعد میں اسے برداشت نہ کر پاتی اور اسے پیار اور لگاؤ نہ دے پاتی تو یہ ایک اور بری بات ہوتی۔

بعض اوقات میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتی ہوں۔ لیکن میرے نقطۂ نظر سے اہم بات یہ ہے کہ نقصان کرنے والی چیز ریپ ہے، اور مثبت چیز میرا بیٹا ہے۔

لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ تمام ہی راستے مشکل تھے، لیکن کم از کم اس معاملے میں سے مجھے کچھ نہ کچھ مل گیا ہے۔ میرے لیے اس انتخاب نے کام کیا ہے، لیکن ہر کسی کے لیے شاید یہ کام نہ کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *