12 ربیع الاول کا سوال

naeem-baloch1
12ربیع الاوّل کا دِن ہمیشہ سے مجھے ایک عجیب کیفیت سے دوچار کرتا ہے۔ میں اس دن ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے نرغے میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پاتا ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سوالات میں اور ان کی معنویت میں شدت ہی پیدا ہوئی ہے۔ سب سے پہلا سوال جو مجھے بہت تنگ کرتا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضور کے اوّلین سیرت نگار ابن ہشام سے لے کر مصر کے عظیم ہیئت دان محمود پاشا تک، اور اردو میں "رحمت اللعالمین" جیسی انتہائی معتبر کتاب کے مصنف قاضی سلیمان منصور پوری سے لے کر "سیرت النبی" کے مصنف شبلی نعمانی تک اور جدید مصنّفین میں "الرحیق المختوم" کے مصنف مولانا صفی الرحمن مبارک پوری اور "حیاتِ رسولِ امی" کے مصنف علامہ خالد مسعود تک سب یہ مانتے ہیں کہ آپ کا یومِ ولادت 9 ربیع الاوّل ہے، تو ہم یہ دِن 12 ربیع الاوّل کو کیوں مناتے ہیں؟ اس دن عشق نبی میں ڈوب کر نکالے جانے والے جلوس دیکھ کر بے اختیار میرے دِل میں یہ حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش ان جلوسوں کے ساتھ ساتھ جہالت، بے کرداری، غفلت، منافقت اور کرپشن کا بھی جلوس نکال دیا جاتا لیکن جب یہ حسرت، تمنا ناتمام ہی ٹھہرتی ہے تو پھر یہ چبھتا ہوا سوال دماغ سے چپک کر رہ جاتا ہے کہ عشق میں ڈوب کر نکالے گئے ان جلوسوں اور سیاسی میلے ٹھیلوں میں ہائے ہو کرتے سیاسی کارکنان کے ریلوں میں آخر کیا فرق ہے؟ نہ ان سے کوئی تبدیلی آتی ہے، نہ میلاد کے جلوسوں سے کوئی فرق پڑتا ہے. یکم ریع الاول سے بارہ ربیع الاول تک جب مجھے درجنوں دفعہ گاڑی چلاتے یا پیدل چلتے روکا جاتا ہے، تو سوچتا ہوں کہ جس پیغمبر ﷺ نے راستے کی رکاوٹ دور کرنے کو نیکی قرار دیا ہو ،اسی کے نام پر بڑی بڑی سڑکوں سے لے کر گلی میں رکاوٹیں کھڑی کرنا آپ سے محبت و عشق کیسے قرار پائے گا؟کیا آپ سے عقیدت کا یہ اظہار صحابہ اکرام نے بھی اختیار کیا تھا؟اس دن پکنے والے طرح طرح کے پکوانوں اور ان کی تقسیم کا منظر دیکھ کر ذہن مساجد کے باہر، گلیوں بازاروں اور چوراہوں میں بھکاریوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور سوچتا ہوں کہ کاش یہ حلوے مانڈے کھانے اور کھلانے والے یہ عزم کر لیں کہ کم از کم اس دن امت محمدی کا کوئی فرد بھیک کے لئے ہاتھ پھیلاتا نظر نہ آئے، کاش اس دن ہر ہمسایہ نبی کا یہ فرمان یاد رکھے کہ "اس کا پڑوسی بھوکا سویا تو اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہو گی" ۔12 ربیع الاوّل کو جگمگ جگمگ کرتے شہر اور قصبے دیکھ کر اور مسلم معاشرے کے اندر بے کرداری کے گمبھیر اندھیرے دیکھ کر یہ خواہش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ کاش! کوئی ایک شمع، کوئی ایک قمقمہ، کوئی ایک مشعل ہمارے اندر کے اندھیروں کو بھی روشن کر دے۔ اس طرح کے لاتعداد سوالات کا جب میں کوئی جواب نہیں دے پاتا تو میرا ضمیر مجھے کوسنے اور طعنے دینے لگتا ہے۔ نبی کے ساتھ میری ساری محبتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے مجھے کہتا ہے کہ جس رسول اور جس نبی کو اللہ نے ہر آن محبت کرنے کا حکم دیا ہو، جس کے ہر فرمان کو برتر جاننا ایمان کی کسوٹی قرار دیا ہو، اسے ایک دِن کی شخصیت بنا دینا، سال کے 364 دِن غفلت میں گزار کر محض ایک دِن اس کے لئے مخصوص کرنا، عشق و محبت کا کون سا پیمانہ ہے؟ شاید اسی لیے خلافت راشدہ ہی نہیں خلافت معایہ و عباسیہ تک کسی نے اس دن کو نہیں منایا ۔ بھلا ابوبکر و عمر آپ کی یاد کو ایک دن تک کیسے محدود کر سکتے تھے ۔ شاید اسی لئے ہر سال یہ دِن منا کر بھی ہم مادی و روحانی ہر دو حوالوں سے زوال کی طرف اپنے جاری سفر کو روکنے میں ناکام نظر آتے ہیں.

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *