پارلیمنٹ میں مینڈیٹ کی تلاش میں نہیں مشورہ لینے آئے ہیں :نوازشریف

nawazوزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ پارلیمنٹ میں مینڈیٹ کی تلاش میں نہیں بلکہ مشورہ لینے آئے ہیں اور یمن کے معاملے پر ارکان پارلیمنٹ کے مشوروں کو نیک نیتی کے ساتھ پالیسی کاحصہ بنانا چاہتے ہیں ،اس لیے ایوان رہنمائی کرے کہ کون سی پالیس اپنائی جائے ۔وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جتنی وضاح ت کر دی ہے اس سے زیادہ وضاحت مناسب نہیں تھی اورابھی کوئی ایسی چیزنہیں ہے جسے چھپا کر رکھا گیاہے ،سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ ہوا تو بھرپورساتھ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ جو فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا اسی پالیسی پر عمل کیا جائے گا ، سعودی عرب نے ضروریات پوری کرنے کا مطالبہ کیاہے اس لیے آپ بتائیں کہ کیا کیاجائے ۔
نواز شریف نے کہاکہ وہ ترکی گئے تھے وہاں سے کسی چیز کا اتنظار ہے جو کل تک معلوم ہو جائے گی ،ترکی کے صدر طیب اردگان ایرانی صدر سے ملنے کے بعد اپنی تجاویز دیں گے اور یمن کے معاملے پر ایران بھی اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہیے ۔نواز شریف نے کہاکہ اگر باقی ممالک سے ملناہوا تو ترکی کے ساتھ مل کر معاملے طے کر سکتے ہیں ،پاکستان اور ترکی کی رائے یمن کے معاملے پر کافی حد تک ملتی ہے ۔نوازشریف نے کہاکہ پوری گفتگو ملک سے باہر جا رہی ہے اس لیے احتیاط سے بات کرنی ہو گی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *