ٹرپل زیرو بریگیڈ

2

عنبر خیری

پیارے دوستو !پاکستانی سیاست میں طاقت کے حصول کی جنگ کے دوران ہمیں بہت سے حیرت انگیز واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ختم ہونے والے دھرنے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ لوگوں نے آرمی کی طرف سے اس دھرنے کے خاتمے کے معاہدے میں جو کردار ادا کیا اس پر بھی بے شمار تبصرے کیے گئے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی معاملے کو ہینڈل کرنے میں ناکامی پر بھی بہت گفتگو ہوئی ہے  اور فوج کو حکومت کا ساتھ نہ دینے پر بھی بہت تجزیات سننا پڑے ہیں۔ اسلام اور ملک کو بچانے کےلیے ملک میں توہین مذہب کے قوانین پر بھی گرما گرم بحث ہو چکی ہے۔ لیکن کالم اور میڈیا ٹالک شوز کی بہتات کے باوجود بہت سی اہم باتیں نظر انداز کی گئی ہیں  اور فوج کے غنڈوں کا ساتھ دینے کے معاملے میں بھی بہت خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔ فوج نے واضح طور پر یہ دکھایا کہ وہ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ نہیں تھی۔ پہلا ثبوت آئی ایس پی آر کا ٹویٹ تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ چیف نے وزیر اعظم کو فون کر کے ہدایت کی ہے کہ طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آرمی کے مطابق حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے غنڈے ایک جیسے تھے جو سکول کے بچوں کی طرح آپس میں گتھم گھتا تھے۔ اس کے بعد فوج نے حکومت کی مدد کی اپیل پر انکار کر کے واضح طور پر یہ ثبوت دیا کہ وہ کسی بھی طرح حکومت سے اتفاق نہیں رکھتی تھی۔ باجود اس کے کہ حکومت نے آفیشل طور پر آرمی کو دھرنا مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے کردار ادا کرنے کاحکم دیا تھا۔ اس کی بجائے فوج نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ دھرنا بریگیڈ کے مطالبے کو مانے ۔ اس معاہ دے میں سب سے اہم کردار فوج نے ادا کیا اور ضامن کا بھی کردار ادا کیا۔ سب سے خطرناک نکتہ جس پر اس معاہدے میں اتفاق کیا گیا وہ یہ تھا کہ دھرنے کے دوران تشدد کی راہ اپنانے والے تمام شدت پسند مظاہرین پر کوئی کیس نہیں کیا جائے گا  اور اس گروپ کے ہاتھوں ملک کو جو بھی مالی اور جانی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی حکومت کرے گی۔ ایک اور خطرناک چیز وہ ویڈیو تھی جس میں رینجرز کمانڈر ان مظاہرین کو رقم دیتے دکھائی دیتے ہیں اور جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی رہی ہے۔ ویڈیو میں جنرل کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: یہ ہماری طرف سے ہے۔ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں؟ انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ دل پر رکھا اور پھر مظاہرین کر لفافے تھمانا شروع ہو گئے جن میں 1000 روپے ہر شخص کو دینے کےلیے رکھے گئے تھے۔ کچھ لوگوں نے فوج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسے ایسے لوگوں کو دیے گئے جو اتنے غریب تھے کہ ان کے پاس واپس جانے کا کرایہ بھی نہیں تھا۔ البتہ اسلام آباد کے آس پاس کے کچھ غریب لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں روزانہ کے حساب سے 1000 روپے ملتے تھے۔اس طرح آرمی اہلکاروں نے اپنے آپ کو دھرنے والوں کا ساتھی دکھایا، جو ایسا بریگیڈ تھا جس نے توہین مذہب کے نام پر ایک پولیس افسر کا قتل کیا، ایک شخص کواندھا کیا  ، ایک بچے کی موت کاباعث بنے جب ایمبولینس کو راستہ نہیں دیا گیا ، پولیس کی گاڑیاں توڑیں، اور قانون دانوں کے گھر پر حملے کیے۔ جس انداز سے ڈی جی رینجرز رقم تقسیم کر رہے تھے ان کا لہجہ بھی سخت نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا وہ دھرنا مظاہرین کے درمیان انعام تقسیم کرتے ہوئے کہہ رہے ہوں، شاباش بیٹا، تم نے بہت اچھا کام کیا۔ ہم نے ٹرپل 1 بریگیڈ کا بہت نام سنا ہے  لیکن اب نئی چیز 1000 بریگیڈ ہے۔ یہ ایسا بریگیڈ ہے جسے سویلین حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا کردار بھی بہت شرمناک رہا۔ حکومت کی ناکامی پر سخت تنقید کی گئی لیکن دھرنا مظاہرین کی غنڈہ گردی اور تشدد پر آواز نہیں اٹھائی گئی۔ قومی اسمبلی ممبران کے گھروں پر حملوں کے واقعات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ زیادہ تر میڈیا ہاوسز کو اس بات کا افسوس تھا کہ کچھ دیر کے لیے ان کی ٹرانسمیشن بن کی گئی لیکن اس بات پر ان کی کوئی توجہ نہ تھی کہ اس غنڈہ گردی گروپ نے ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا تھا۔ یہ دھرنا طاقت کا مظاہرہ تھا جو اگلے الیکشن کےلیے بلکل مناسب نہیں تھا۔ ملٹری کو کسی صورت اس ٹرپل زیرو بریگیڈ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا۔ ایسا کر کے انہوں نے ایک طاقتور غنڈہ گینگ کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی شہہ دی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ وہ پبلک پراپرٹی  کو نقصان پہنچانے اور پولیس افسران کے قتل کرنے کے بعد بھی آزاد گھوم سکتے ہیں۔ اتنے پریشر اور دھوکہ بازی کے باوجود ن لیگ حکومت سے چمٹی ہوئی ہے اور کوئی مزاحمت کرنے میں بھی ناکام ہے۔ لیکن جیسا کہ ایک وزیر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ کسی بھی پروگریسو لیڈر سے جان چھڑانے کےلیے پاکستان میں دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یا تو اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے یا اس توہین مذہب کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ کوارٹرز کے لیے ٹرپل 1 بریگیڈ ہر حال میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ انہیں ٹی اے ڈے اے دو اور جہاں چاہے بٹھا دو:۔

بشکریہ : http://tns.thenews.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *