اپوزیشن کا تعمیری رویہ

ڈاکٹر رسول بخش رئیسrasool

سات ماہ کی غیر حاضری کے بعد پاکستان تحریکِ ا نصاف کے اراکین کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جمہوریت، جو ہنوز توانا نہیں ہوئی، کے استحکام کی طرف ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جاناچاہیے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے بہت کم مواقع حاصل ہیں، تاہم اس وقت پی ٹی آئی کا اسمبلیوں میں واپس آنا ایک نایاب موقع ہے۔ اس کی وجہ سے گلیوں میں اور سڑکوں پر چلائی جانے والی احتجاجی تحریک ، جس نے گزشتہ سال حکومت کو تقریباً مفلوج کردیا تھا، کی اب کوئی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی سیاسی عمل میں مداخلت کا خدشہ باقی رہے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کا فیصلہ منصفانہ جوڈیشل کمیشن نے کرنا ہے نہ کہ متحارب سیاسی جماعتوں نے۔ اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس کمیشن کے قیام میں بہت وقت ضائع کردیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے ایسا کرتے ہوئے بہت بڑا خطرہ مول لیا کیونکہ آزاد کمیشن کا فیصلہ حکومت کے وجود کو خطرے سے دوچار بھی کرسکتا ہے۔تاہم اس پیش رفت سے ایک بات طے ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں سیاست بلوغت کے مراحل طے کررہی ہے۔ دراصل سیاست تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا نام ہے اور شاید آنے والے دنوں میں ہم ایسا ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا سب سے اہم کردار حکومت پر مثبت تنقید کرنااور عوام کے سامنے ایک متبادل سوچ رکھنا ہوتا ہے۔ ہماری اسمبلیوں میں سترکی دھائی کے بعد سے کوئی جاندار اپوزیشن دکھائی نہیں دی ۔ ہمارے ہاں تنقید کا مطلب ہر قیمت پر حکومت کی مخالفت سمجھا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ حکومت سے محاذآرائی اور مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی اپنائی۔ اس وقت ہم یہ فرض کر رہے ہیں(ابھی کمیشن کا فیصلہ آنا باقی ہے) کہ یہ ایک آئینی حکومت ہے کیونکہ یہ منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے، تاہم جب اس پر یہ شک کیا جاتا ہے کہ اس نے انتخابات چرائے تھے، تو پھر معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ اپوزیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ کمیشن کے قیام کے بعد رائے زنی سے گریز کرے۔
ہماری تاریخ میں اپوزیشن جماعتوں نے دو انتہاپسندانہ کردار ادا کیے ہیں... یا تو مکمل طور پر حکومت کے ساتھ محاذآرائی اور تصادم پر کمر بستہ ، یا حکومت کے ساتھ مکمل طور پر شیر و شکر۔ عملی اور مثالی طور پر ایک جاندار اور متحرک اپوزیشن کے بغیر جمہوریت کا کوئی تصور نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ یہ کہ صدارتی نظام کے برعکس پارلیمانی نظام میں طاقت کا ارتکاز قانون سازاسمبلی کے پاس ہوتا ہے۔ پارلیمانی روایت میں داخلی طور پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہت کمزور، بلکہ نہ ہونے کے برابر، ہوتا ہے۔پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کوچھے عشروں کے باوجود ’’نوخیز‘‘قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر پارٹی رہنماؤں کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ پارٹیوں میں داخلی طور پر جمہوری تصورات تاحال نہیں پنپ پائے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات سے کچھ اشارہ ملتا ہے کہ طاقتور شخصیات کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے اور لوگ پالیسی کو دیکھ رہے ہیں۔
پاکستانی سیاست کو درپیش موجودہ مسائل اپوزیشن کے طاقتور، جاندار اور مثبت کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ اپوزیشن مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی ترک کرتے ہوئے حکومت کے سامنے مثبت تجاویز رکھے۔ یمن کے مسلے پر آخری فیصلہ تو اہم حلقوں نے ہی کرنا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک الجھن میں ہے۔یہ الجھن اپوزیشن کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ایک واضح موقف کے ساتھ سامنے آئے اور حکومت کی رہنمائی کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ اپنی پالیسی میں متبادل امکانات کو حکومت اور اہم حلقوں کے سامنے رکھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی پالیسی ملک کے مفاد میں تو نہ ہو تو اس صورت میں اپوزیشن کا فرض بن جاتا ہے کہ متبادل سوچ کو سامنے لاتے ہوئے حکومت کو اُس اقدام سے روکے۔
ماضی میں اپوزیشن کا کام صرف بیانات دینا، حکومت پر تنقید کرنا اور اس کے منصوبوں اور پالیسیوں میں نقص تلاش کرنا ہوتا تھا۔ یہ عملی اور معقول آپشن پیش کرنے سے قاصر تھی۔ ضروری ہے کہ ہر جماعت میں ایک تھنک ٹینک ہو جو پارٹی ک لیے پالیسی سازی کرے۔ یہ مرحلہ پارٹیوں کو شخصیت پرستی کے گرداب سے نکال کرجمہوری سیاست کی روایت کو مضبوط بنائے گا۔ تاہم آج سیاسی جماعتوں پر نظر دوڑانے سے اس حقیقت کی غمازی ہوتی ہے کہ وہ سوچ بچار کرتے ہوئے پالیسی وضع کرنے سے قاصر ہیں۔ کسی سیاسی جماعت میں ایسا تھنک ٹینک نہیں، اس لیے اُنھوں نے کچھ افراد کی بصیرت پر کلی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے سیاسی منظر پر ابھرنے سے تاثر پیدا ہوچلاتھا کہ یہ نسبتاً نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد کی جماعت ہے،چنانچہ اس میں سوچ بچار کا عمل مرکزمائل نہیں ہوگا۔ کافی عرصہ احتجاج کرنے اور اسمبلیوں سے باہر رہنے کے بعد اس کا دوبارہ رجوع کرناخوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔ گو پہلے دن اجلاس میں کچھ ناروا واقعات پیش آئے جن سے احتراز کیا جاسکتا تھا، تاہم امید ہے کہ اُنہیں بھلا کر آگے قدم بڑھایا جائے گا۔ ایک اور بات، ایوان میں ہونے والی بیان بازی اپنی جگہ پر لیکن فریقین کے پا س اس وقت محاذآرائی کا آپشن نہ ہونے کے برا بر ہے۔ امید ہے کہ اہم ملکی معاملات پر پارلیمانی اپوزیشن کا ردِ عمل مثبت اور ذاتی عناد سے بالا تر اور ملکی مفاد کے مطابق ہوگا۔ کسی بھی پالیسی یا قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کو اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے ۔ اس کا حکومت کے ساتھ تعاون اس حد تک ضرور ہونا چاہیے کہ عوامی مفاد کے معاملات سیاسی کشمکش کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ ایسے مواقع پر جب سیاسی جماعتیں، حکومت اور اپوزیشن، مل کر کام کرتی دکھائی دیں تو عوام کا سیاسی اور جمہوری عمل پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ اس وقت ہمیں کسی بھی چیز سے زیادہ اس اعتماد کی ضرورت ہے۔ آخری بات یہ کہ اپوزیشن بھی ’’منتظر حکومت‘‘ ہوتی ہے۔ اس کا عوامی رویہ اس کے لیے آنے والے انتخابات میں بہتر امکانات کی راہ ہموار کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *