’’مہرانوں کے جنگل میں جھیل‘‘

مستنصر حسین تارڑMHT

 

یہ حیرتوں کی بے یقینی سے بھی پرے کا ایک منظر تھا۔۔۔ میں اپنے سفرناموں میں کبھی کبھار، کبھی فیئری میڈو کی سویر میں زرد رنگ میں رنگ جیسے اس نے بسنت کی آمد پر ایک پیلی اوڑھنی میں اپنے آپ کو ڈھانک لیا ہو۔ نانگا پربت کے اس روپ کی حیرت میں حیران ہو کر اظہار کرتا ہوں کہ ایسا منظر میں نے کبھی پہلے نہ دیکھا تھا۔۔۔ اور کبھی سنو لیک کی برفانی جھیل کی برف سطح پر برف میں ضووا تتلیوں کو دیکھ کر اور کبھی صحرائے تکلا مکان ریتلے انباروں کونظر کے سامنے پا کر۔۔۔ کہ ایسا منظر میں نے زندگی بھر کبھی دیکھا تو نہ تھا تو ایسانہیں کہ میں ہر منظر پرمر مٹتا ہوں۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ منظر ہوتا ہی ایسا ہے کہ میں اسے دیکھ کر مٹ جاتا ہوں تو اسی طور ٹاٹ کے پردوں میں سے دکھائی دینے والا یہ منظر تھا جو میں نے کبھی دیکھا نہ تھا۔۔۔ البتہ ایک فرق تھا۔۔۔ وہ سب منظر درجنوں کی تعداد میں خاموش تھے جبکہ یہ منظر چہکتا غل کرتازندہ ہوتاتھا۔
شاید یہ منظر مجھ پر ایک دیوانگی کی صورت اثرانداز اس لئے بھی ہوتاتھا اس ڈھلتی شام میں سرمئی پانیوں پر تیرتے ہوئے اپنے رنگ کھو کر سب سرمئی ہوئے جاتے تھے اور ان میں کچھ پرندے میری تحریروں میں سے نمودار ہو کریہاں اس جھیل میں اتر گئے تھے۔
ان میں یقیناً’’راکھ‘‘ کی وہ چار مرغیاں بھی تھیں جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔ وہ قادر آباد جھیلوں سے اڑان کرکے ادھر اتر آئی تھیں۔
اور وہاں کہیں پرندوں کے اس غول میں گم ایک ’’پکھیرو‘‘ بھی تو موجود ہوگا۔۔۔ ’’فاختہ‘‘ پانیوں میں کہاں اترتی ہوگی، جھیل کنارے سرکنڈو میں پوشیدہ کُوکتی ہوگی، مگر ہوگی ضرور!
’’خش و خاشاک زمانے‘‘ کا امیر بخش جو دریائے چناب کے کنارے ایک سدھارتھ کی مانند براجمان ایک پرندے کا روپ دھار گیاتھا۔ شاید اس جھیل پر آ اترا ہو۔۔۔ اور وہ جو فرید الدین عطار کے پرندے تھے جو میری بیشتر تحریروں میں ظاہر ہوتے رہتے تھے شاید انہوں نے سچ کی تلاش میں قاف کے پہاڑوں کی جانب پروازیں کرتے مہرانوں کی اس جھیل کو دیکھ کر اپنا سفر موقوف کردیا ہو کہ اتنی دور کیا جانا، سچ تو یہ سروٹوں میں گھری سحر بھری جھیل ہے تو یہیں ٹھہر جاؤ۔۔۔
یہاں ’’بہاؤ‘‘ کے پہلے باب کو وہ پرندہ بھی تو ہو سکتا ہے جس کے پروں تلے ریت تھی اور وہ اڑان میں تھا اور وہ اس جھیل میں جا گرا تھا جہاں پرندے مرنے کے لئے آجاتے تھے۔۔۔ اگرچہ پا روشنی نے جب اس کے مردہ بدن کو اٹھایا تھا تو وہ مر چکا تھا، پر کیا پتہ پاروشنی نے اسے اپنی بھاری دراوڑی چھاتیوں سے لگالیا ہو اور وہ ان کے الاؤ میں جل کر ایک قفس کی مانند پھر سے زندہ ہو گیا ہو، مہرانوں چلا آیا ہو۔
مجھے شک ہے کہ وہ سب پرندے جو میری تحریروں میں کُوکتے پھڑپھڑاتے میرے ناولوں کے اوراق کو زندہ کرتے ہیں انہیں بھی الہام ہو گیا تھا کہ جھیل سے ذرا بلندی پر وہ جو ایک پوشیدہ پناہ گاہ ہے جس کے آگے ٹاٹ کا ایک پردہ تنا ہے تو اس کے ایک چوکور روزن میں جو دو بجھتی ہوئی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن کی پتلیوں کے گرد ایک نیلاہٹ خبر دیتی ہے کہ وہ چوہدری رحمت خان تارڑ کا بیٹا ہے کہ اس کی آنکھوں میں بھی نیلاہٹ کے فسوں تھے۔۔۔ اس شخص کی ہیں جس کی تحریروں میں ہم اڑتے پھرتے ہیں۔
میں ایک گندمی رنگت کا انسان ہوں جس کی آنکھوں میں سیاہ ڈورے تو ہیں پر ان میں بھورے پن کے گمان زیادہ ہیں اور ان میں کبھی بھی ، نہ مجھے اورنہ کسی عشق خاص کو جو میری آنکھوں میں جھانکتا تھا کبھی یہ شائبہ نہ ہوا کہ ان میں کچھ نیلے پن کے آثار بھی ہیں، میں اپنے ایک بدنام زمانہ شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی ریکارڈنگ کے لئے دبئی گیا تو وہ جو میک اپ آرٹسٹ خاتون جو جانے کہاں کی تھی میرے چہرے کے قریب آئی اور کہنے لگی ’’سر، آپ کی آنکھوں میں ایک نیلاہٹ ہے‘‘ میں نے یقین کرنے سے انکار کردیا تو اس نے اپنے کیمرے کو قریب لا کر میری آنکھوں کا ایک کلوز اتارا۔۔۔ مجھے دکھایا۔۔۔ اور واقعی میری پتلیوں کے گرد نیلاہٹ کا ایک ہالہ تھا۔۔۔ اور میں اب تک بے خبر تھا۔۔۔ ویسے اب آئینے میں اپنے آپ کو دل پر جبر کرکے دیکھتا ہوں کہ جو کچھ دیکھتا ہوں وہ کچھ ایسا خوش نظرنہیں ہوتا تو مجھے وہ نیلاہٹ کا ہالہ نظر نہیں آتا کہ آنکھیں بے رنگ ہو چکی ہیں۔۔۔
جو کچھ میں دیکھ رہا تھا اس کا دکھانا مشکل ہے
خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اُس کا دکھانا مشکل ہے
آئینے میں پھول کھلا ہے، ہاتھ لگانا مشکل ہے
وہ بے شمار پرندے، مہرانوں جھیل کے آئینے میں کھلے تھے۔۔۔ ان کا لفظوں میں دکھانا مشکل ہے۔
اس اترتی شام میں کوئی سرمئی جادوگری تھی، نظر کے دھوکے تھے یا کیا تھا کہ یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ پرندوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، جیسے وہ پانیوں میں سے اگ رہے ہوں، ان میں سے پھوٹتے سطح پر آتے اپنے نوزائیدہ پروں کو جھٹکتے تھے تو چھینٹے شبنم کی بوندوں کی مانند ہوا میں دمکنے لگتے تھے۔
اتنے پرندے اس شام میری آنکھوں میں اترے کہ میں انہیں جھپکتا نہ تھا کہ کہیں کوئی پرندہ میری تحریر کا آنکھ کے پنجرے سے آزاد ہو کر گر نہ جائے۔
ہم اس مچان کی پناہ گاہ میں سے نیچے اترے، سرکنڈوں کے ہجوم میں سے سر جھکا کر چلے اور کھلی فضا میں آگئے لیکن وہ سب پرندے بھی میرے ساتھ چلے آئے، وہ سب میرے بدن کے ساتھ ایک لباس کی صورت چسپاں چلے آئے اور اگر کوئی مجھے دور سے دیکھے تو اسے یہی گمان ہو کہ ایک ایسا پھڑپھڑاتا وجود چلا آتاہے جسے ہزاروں پرندوں کے پیوندوں سے تخلیق کیا گیا ہے، جیسے ایک سندھی رَلی چادر بھانت بھانت کی چوکور دھجیوں سے بنائی جاتی ہے، جیسے کسی سچل سرمست ایسے فقیر کی گدڑی میں رنگ رنگ کے چیتھڑوں کے پیوند ہوتے ہیں۔۔۔ وہ سب پرندے میرے وجود کے ساتھ یوں چسپاں چلے آتے کہ مجھے بھی ایک پرندہ کردیا۔۔۔
سروٹوں، سرکنڈوں، صحرائی درختوں اور جھاڑیوں کا جنگل بولنے لگا تھا۔ شام گہری ہوئی تو جنگل جاگ اٹھا۔۔۔ بولنے لگا۔
اس جنگل کے بیچ ایک منگل نہیں بلکہ بدھ جمعرات بھی تھا، پیروں کا ایک مہمان خانہ تھا اور وہ بلند ہوتا چلا جاتا تھا اور اس کی چوٹی پرایک مچان تھا جہاں سے آپ مہرانوں کے جنگلوں کا نظارہ کر سکتے تھے، شب گزیدہ جنگل کی وسعت یوں نظر کے سامنے آتی تھی کہ آپ اس کے گھنے بھید کے اندر اتر سکتے تھے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *