باغی‘‘… نوازشریف نے کیا غلط کہا؟

rauf tahir

ہاہاکار مچ گئی، ''نوازشریف نے ایک غدار کو محب وطن قرار دیدیا۔‘‘ وکلاء سے گفتگو میں معزول وزیراعظم نے یہی تو کہا تھا‘ ''مجیب باغی نہیں تھا‘ وہ محب وطن تھا‘ اسے باغی بنایا گیا‘‘۔ تحریکِ پاکستان میں اپنے کردار کا فخریہ اظہار خود شیخ مجیب اپنی یادداشتوں ''Unfinished Memories‘‘ میں کر چکے۔ قیام پاکستان کے بعد کی سیاسی تحریکوں میں ان کا حصہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ یہی بات کیا کم فخر کا باعث تھی کہ ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں وہ مشرقی پاکستان میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے۔
1970ء (7 دسمبر) کا الیکشن انہوں نے ''6 نکات‘‘ پر لڑا اور مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے 160 جیت لیں۔ انہوں نے مغربی پاکستان میں بھی (علامتی طور پر سہی) امیدوار کھڑے کئے تھے۔ وہ ان کی انتخابی مہم کے لئے اِدھر بھی آئے۔ سندھ میں پیر صاحب پگارا (مرحوم) بھی ان کی عوامی لیگ کا حصہ تھے۔ گول باغ لاہور میں ان کا جلسہ کچھ ''محبِ وطن‘‘ نوجوانوں نے الٹ دیا تھا۔ مغربی پاکستان کی 138 نشستوں میں سے 81 بھٹو کے ہاتھ آئیں‘ 57 نشستیں بھٹو کی مخالف جماعتوں نے جیت لی تھیں (مشرقی پاکستان میں پیپلزپارٹی کا کوئی امیدوار نہ تھا۔)
انتخابات کے بعد‘ انتقالِ اقتدار سے پہلے‘ آئین سازی کا مرحلہ طے ہونا تھا۔ اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر مشرقی پاکستان میں شکوک و شبہات کا باعث بن رہی تھی۔ مجیب کے چھ نکات میں پاکستان پارلیمانی نظام کا حامل ایک وفاق تھا جس میں دفاع اور امور خارجہ وفاق کے پاس ہوتے‘ کرنسی بھی وفاقی حکومت کو دی جا سکتی تھی‘ اس اہتمام کے ساتھ کہ صوبوں کے مالی وسائل پر پہلا حق ان ہی کا ہوگا۔ صوبوں کو بیرونی تجارت کا حق حاصل تھااس شرط کے ساتھ کہ وہ وفاقی حکومت کی خارجہ پالیسی کے پابند ہوں گے۔ صوبائی حکومتیں اپنی پیراملٹری فورسز بھی تشکیل دے سکتی تھیں تاکہ قومی سلامتی کے معاملے میں اپنا موثر حصہ ڈال سکیں۔ یہ آخری نکتہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں پیدا ہونے والے شدید احساس عدم تحفظ کا نتیجہ تھا‘ جب اس کا دفاع ''اللہ کے سپرد‘‘ تھا۔ تب قومی سلامتی کے ذمہ داروں کا فلسفہ تھا کہ
"Defence of East Pakistan lies in west Pakistan"
یعنی ہم مغربی پاکستان سے انڈیا پر اتنا دبائو ڈالیں گے کہ اسے مشرقی پاکستان کی طرف بری نظر ڈالنے کی ہمت ہی نہ ہو۔ پاکستان کے موجودہ آئین میں 18ویں ترمیم کے مقابلے میں 6 نکات تو بڑے ''معصوم‘‘ سے نظر آتے ہیں۔
انتخابات کے ایک ہفتے بعد (14دسمبر) جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کے امیر پروفیسر غلام اعظم ڈھاکا سے لاہور تشریف لائے‘ مغربی پاکستان والوں سے ان کا کہنا تھا کہ شیخ مجیب کو سپورٹ کریں‘ جس نے کبھی پاکستان سے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا اور نہ وہ مستقبل میں ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔ ادھر بھٹو نے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ پیپلزپارٹی کی شمولیت کے بغیر وفاقی حکومت چل سکتی ہے‘ نہ آئین بن سکتا ہے۔ پاکستان جمہوری پارٹی کے نائب صدر (اور ممتاز بنگالی رہنما) مولوی فرید احمد فکرمند تھے کہ بھٹو کا رویہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ جنرل یحییٰ خان 14 جنوری کو ڈھاکا گئے۔ مجیب کو ''مستقبل کا وزیراعظم‘‘ قرار دیتے ہوئے وہ اپنے لیے ''مستقبل کے صدر‘‘ کا وعدہ حاصل نہ کر سکے کہ شیخ انتقالِ اقتدار کے بعد یہ عہدہ مغربی پاکستان کے کسی سیاسی رہنما کو دینا چاہتے تھے۔ واپسی پر جنرل یحییٰ خان ''شکار کھیلنے‘‘ لاڑکانہ تشریف لے گئے اور بھٹو صاحب کی میزبانی سے لطف اندوز ہوئے۔
اسمبلی کے اجلاس کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا تھا۔ یحییٰ نے 5 فروری کو اجلاس کے لیے 3 مارچ کی تاریخ دے دی۔ (یہ ڈھاکا میں منعقد ہونا تھا) بھٹو اس روز پشاور میں تھے‘ وہیں سے اس اجلاس میں عدم شرکت کا اعلان کردیا‘ 28 فروری کو مینار پاکستان پر ''اُدھرتم‘ اِدھر ہم‘‘ کا اعلان اور ڈھاکا جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی کھلی دھمکی دے دی۔ انہوں نے خیبر سے کراچی تک ہڑتال کی ''اپیل‘‘ بھی کردی تھی۔ جنرل یحییٰ نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔ مشرقی پاکستان کے شکوک و شبہات شدید غم و غصے میں تبدیل ہوگئے تھے۔
سات مارچ کو ریس کورس ڈھاکا میں لاکھوں کا ہجوم تھا۔ جذبات کے طوفان میں شیخ نے خود کو قابو میں رکھا‘ ''میں یہاں بوجھل دل کے ساتھ آیا ہوں۔ ڈھاکا‘ چٹاگانگ‘ کھلنا‘ رنگ پور اور راجشاہی لہولہان ہیں‘‘۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کی دس سالہ آمریت سمیت‘ وہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کر رہے تھے۔ ''تین مارچ کے اجلاس کے التوا پر میں نے پرامن ہڑتال کی کال دی لیکن نہتے لوگوں پر بندوقیں تان لی گئیں‘ وہی بندوقیں جو دشمن انڈیا سے ہمارے تحفظ کے لیے ہمارے پیسوں سے خریدی گئی تھیں (انڈیا کے لیے دشمن کا لفظ )۔''آپ اپنے ہی بھائیوں کو گولیوں کا نشانہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہ بحران بھٹو نے پیدا کیا لیکن گولیاں بنگالیوں پر چلائی جا رہی ہیں۔ میںکہتا ہوں‘ تم میرے بھائی ہو۔ بیرکوں میں واپس چلے جائو (جہاں تمہیں ہونا چاہیے) ...تقریر کے اختتام پر وہ خود کو دہرا رہے تھے‘ ''میں پھر کہتا ہوں‘ تم ہمارے بھائی ہو۔ ہمارے پاکستان کو ہمارے لیے جہنم نہ بنائو۔ ہم اپنے اختلافات پرامن طریقے سے حل کر لیں‘ تو اب بھی ہم حقیقی بھائیوں کی طرح اکٹھے رہ سکتے ہیں‘ جس طرح ہم نے اکٹھے پاکستان بنایا تھا‘‘۔ آخر میں شیخ نے ''جوائے بنگلہ‘‘ کے ساتھ ''پاکستان زندہ باد‘‘کا نعرہ بھی اسی زور سے لگایاتھا۔ ادھر بھٹو صاحب کا اصرار جاری تھا‘ مشرقی پاکستان میں وہاں کی اور مغربی پاکستان میں یہاں کی اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔ حیرت تھی‘ بھٹو صاحب ایک ملک میں دو اکثریتی پارٹیوں پر اصرار کر رہے تھے۔ مزید حیرت یہ کہ وہ پورے مغربی پاکستان پر اپنا حقِ اقتدار جتا رہے تھے‘ جبکہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد اب یہاں چار صوبے (پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور سرحد )تھے۔ بھٹو کی اکثریت صرف پنجاب میں تھی۔ سندھ اسمبلی کی ساٹھ نشستوں میں صرف اٹھائیس ان کی تھیں‘ سرحد میں پیپلزپارٹی کی حیثیت ''مونگ پھلی‘‘ سے زیادہ نہ تھی اور بلوچستان میں صفر۔
14 مارچ کو یحییٰ خان ڈھاکا پہنچا۔ 16 مارچ کو یحییٰ اور مجیب کی اڑھائی گھنٹے ملاقات ہوئی۔ 19 مارچ کو مجیب مفاہمت کے حوالے سے پُرامید تھے۔ 20 مارچ کو یحییٰ سے ایک اور ملاقات کے بعد وہ کہہ رہے تھے ''ہم آگے بڑھ رہے ہیں‘‘۔ اور 21 مارچ کو بھٹو صاحب بھی ڈھاکا پہنچ گئے۔ 22 مارچ کو ڈھاکا ریڈیو کی خبر تھی ''صدر یحییٰ اور شیخ مجیب الرحمن سیاسی بحران کے حل کے لیے کمپرومائز فارمولے پر پہنچ گئے ہیں‘‘۔ 24 مارچ کو بھٹو نے ڈھاکا سے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ''نان کوآپریشن موومنٹ‘‘ شروع کرنے کی ہدایت کی۔ لاہور میں پیپلزپارٹی کہہ رہی تھی‘مجیب کو اقتدار منتقل کرنے والی حکومت کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ 25 مارچ کو جنرل یحییٰ نے ڈھاکا سے واپسی کا رخ کیا‘فوجی آپریشن شروع ہوگیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے مسلمہ لیڈر کو (جو خود کو پورے پاکستان کا لیڈر قرار دے رہا تھا) گرفتار کرکے مغربی پاکستان پہنچا دیا گیا۔ بھٹو ان الفاظ کے ساتھ تاریخ میں امر ہو گیا، ''خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا‘‘۔ انتہاپسندوں نے انڈیا جا کر بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت قائم کر لی۔ 24 مئی کو ''جلاوطن وزیراعظم‘‘ تاج الدین کلکتہ میں کہہ رہا تھا‘ ''ہم پاکستان کو ایک رکھنا چاہتے تھے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ 25 مارچ کے آپریشن سے پہلے وہاں علیحدگی کا کوئی خیال نہ تھا۔‘‘آپریشن سے سرنڈر تک مجیب 1200میل دور مغربی پاکستان میں زیر حراست تھا اور مشرقی پاکستان میں ہونے والے المناک واقعات سے بری الذمہ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *