فیصلے اس صورت میں صرف ”ادارے“ کریں گے

photo-nusrat-javed-sb-6-2

کینیڈا سے وقتاً فوقتاً پاکستان آکر ”انقلابی سرکس“ لگانے والے ”شیخ السلام“ کا لاہور والا شو پھپھسا رہا۔ شہباز شریف نے شاید اس کے اختتام کے بعد شکرانے کے نوافل بھی ادا کر دئیے ہوں گے۔ مجھے اگرچہ پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔

پیغام میری دانست میں یہ ملا کہ قادری کے لگائے منڈپ پر تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی کا ملاپ بھی”گلے سڑے نظام“ کو آخری دھکا دے کر تاریخ کے کوڑے دان میں نہیں پھینک سکتا۔ یہ قوت فی الوقت اس ملک میں صرف علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے پاس ہے۔ راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے چوک فیض آباد پر 22 دن تک ڈٹے رہنے کی قوت جس کے آگے حکومتِ وقت ریاست کے ایک دائمی ادارے کی وساطت سے سرنگوں ہوئی اور زاہد حامد کی بَلی دے کر خود کو بچایا۔
شریف خاندان اور نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کو ہمیشہ کے لئے غیر مو¿ثر بنانا ہے تو ان دونوں کی اندھی نفرت میں مبتلا عناصر کو رضوی صاحب سے رجوع کرنا ہوگا۔ ان کے علاوہ کوئی وسیلہ موجود نہیں۔
عصرِ حاضر کے واحد ”انقلابی“ بنائے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط نے قومی اسمبلی کو لعنت بھیجتے ہوئے اس کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا جو اعلان کیا ہے وہ درحقیقت قادری، عمران خان اور آصف علی زرداری کی اجتماعی طاقت کی نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے مقابلے میں کمزوری کا اثبات ہے۔ ٹی وی Ratings کے شیر بنے بقراطِ عصر کی مگر رضوی صاحب کی تحریک میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اپنے جلال کے لمحات میں رضوی صاحب موصوف کا ذکر تحقیر بھرے الفاظ سے کرتے ہیں۔ کینیڈا سے آئے قادری کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار وہ جس انداز میں کرتے ہیں اسے اخبار میں لکھنا ممکن نہیں۔ آپا دھاپی کا ماحول بناکر شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا ہے تو اس خواہش کے حصول کے لئے فقط رضوی صاحب سے رابطہ کرنا ہوگا۔
فی الوقت تو دیہاتی والا لطیفہ ہوگیا ہے۔ وہ ایک میلے میں گیا تو اس کا ”پرنا“ چوری ہوگیا۔ اسے گماں ہوا کہ شہر والوں نے میلہ درحقیقت اس کا رومال چرانے کے لئے رچایا تھا۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔ لاہور وہ شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کا استعفیٰ لینے گئے تھے مگر فرطِ جذبات میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کرکے راولپنڈی لوٹ گئے۔
رضوی صاحب کی اہمیت کے برملا اعتراف کے بعد مجھے صدقِ دل سے یہ بات بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ سیاست کو اگر کسی حد تک اس ملک میں سیاسی ہی رہنا ہے تو اس ضمن میں گیم ان دنوں فقط عمران خان کے پاس ہے۔ قادری کے سٹیج پر نمودار ہونے سے قبل انہوں نے یقینی بنایا کہ ان کی آمد سے قبل آصف علی زرداری مجمعے سے خطاب کے بعد وہاں سے روانہ ہو جائیں گے۔ آصف علی زرداری نے ان کے بنائے ہوئے سکرپٹ پر ہوبہو عمل کیا۔ قمر زمان کائرہ اور چودھری اعتزاز احسن کو البتہ سٹیج پر موجود رہنے کی اجازت مل گئی۔ خاں صاحب کی موجودگی میں ان دو زعما نے تقاریر بھی کیں۔ خان صاحب نے ان کی تقاریر کو مناسب شفقت کے ساتھ اگرچہ نہیں سراہا۔
پیپلز پارٹی کے چودھری منظور کے بار ے میں مجھے کئی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور تواتر سے بتاتے رہے ہیں کہ قصور سے اٹھا یہ جیالا انقلابی حرکیات کو مستقل انقلاب کے داعی، لینن کے حریف مگر سٹالن کے شریک ٹراٹسکی کی طرح سمجھتا ہے۔ خبر نہیں کہ ”قصوری ٹراٹسکی“ بدھ کے روز لاہور میں ہوئے شو کے بارے میں کیا فرمائیں گے۔ رزق کا محتاج میرا کند ذہن تو Status Quo کا عادی ہو چکا ہے۔ غالب کی طرح موت سے نہیں بلکہ فقدانِ راحت کے خوف سے گھبرایا ہوا۔ اس ذہن کو پیغام تو فقط یہ ملا کہ اگر سیاست کو سیاست ہی رہنا ہے، آئندہ انتخابات ہر صورت ہونا ہیں اور وہ بھی بروقت تو مقابلہ پاکستان کے آبادی کے حوالے سے سب سے بڑے صوبے میں صرف نون کے لاحقے والی مسلم لیگ اور عمران خان کی تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔
پیپلز پارٹی کا ”پاکستان کھپے“ والا نعرہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد انتہائی قابلِ ستائش تھا۔ یہ نعرہ مگر 2008کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کے لئے پنجاب میں فیصلہ کن انداز میں کام نہیں آیا تھا۔ وہاں کی صوبائی حکومت شہباز شریف کے حوالے کرنا پڑی تھی۔ 2018ءمیں آصف علی زرداری کا لاہور میں کھڑے ہوکر ”جاتی امراءکے شیخ مجیب الرحمن“ کو للکارنا بھی شاید ویسا ہی اثر دکھائے۔
پیپلز پارٹی کو یقیناً ایک نیا بیانیہ درکار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بہت احتیاط مگر لگن کے ساتھ کچھ ایسا ہی کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ”انکلز“ کے پاس مگر طویل المدتی گیم لگانے کا وقت باقی نہیں رہا۔ ان میں سے چند ایک کو ہر صورت نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کا خاتمہ چاہئے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہر صورت ”شریک (دشمن)“ کی دیوار گری ہوئی دیکھنا چاہتا ہے خواہ اس کی خواہش کرنے والا بذاتِ خود اس کے ملبے تلے دب جائے۔
نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کی دیوار ابھی گری نہیں ہے مگر قمر زمان کائرہ، چودھری اعتزاز احسن اور چودھری منظور قادری کے سٹیج پر بیٹھے اس دیوار سے پھسلتی اینٹوں کی زد میں آئے ضرور نظر آئے۔ ربّ کریم انہیں مزید نقصان سے بچائے۔
مزید نقصان سے بچت کی خاطر ہی شاید بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کے جلسے کے اختتام کے بعد ایک ٹویٹ لکھ کر اس بات پر اصرار کیا کہ جمہوریت اور پارلیمانی اداروں کی لعنت ملامت ان کی جماعت شیوہ نہیں۔ ان کا ٹویٹ مگر بہت دیر میں آیا۔ انگریزی والا Damage ہو جانے کے بعد۔
دیکھنا اب صرف یہ ہے کہ تحریک انصاف کے جلسوں میں حرارت بھرنے والے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط کی تقلید میں عمران خان اور ان کے حامی بھی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیتے ہیں یا نہیں۔ پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اس کے بعد کیا رویہ اختیار کریں گے۔ ان دونوں جماعتوں نے اگرچہ اب قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تو پیش قدمی کا سارا کریڈٹ بقراطِ عصر کو مل جائے گا۔ موصوف کی بلّے بلّے ہو جائے گی۔
اہم بات مگر قومی اسمبلی سے استعفے دینا نہیں ہے، سینٹ میں روایت اور ضوابط کے مطابق آئندہ ماہ خالی ہونے والی نشستوں پر انتخاب روکنا ہے تو خیبرپختونخواہ اور سندھ کی اسمبلیوں کو پرویز خٹک اور مراد علی شاہ کے ہاتھوں تحلیل ہونا ہوگا۔ یہ تحلیل مگر صرف سینٹ کی خالی نشستوں کا ا نتخاب ہی نہیں روکے گی، انتخابات کا بروقت ہونا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اس کے بعد والا منظر X-Factor ہے جسے ترتیب دینا سیاست دانوں کے بس میں نہیں رہے گا، فیصلے اس صورت میں صرف ”ادارے“ کریں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *