بنگلہ دیش کی تخلیق اور بدلتے بیانیے

1

ندیم ایف پراچا

جولائی 1971 میں جب پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر تھی تب سابق مشرقی پاکستان میں عسکری بنگالی قوم پرستوں اور پاکستانی آرمی کے بیچ خانہ جنگی نے جڑیں بنانا شروع کر دیں۔ یہ علاقہ طوفان کے باعث سیلاب زدہ تھا۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے مشرقی سیلاب زدگان کی امداد کے ارادے سے ایک پاکستانی اور انگلینڈ کی ٹیموں کے دستخط کیے ہویے بلے کی نیلامی کا پروگرام بنایا۔ مگر کچھ پاکستانی ٹیم کے ممبرز نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ سب سے زیادہ احتجاج بیٹسمین آفتاب گل نے کیا جن کا کہنا تھا کہ پیسے عسکری بنگالی قوم پرستوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ پھر پاکستان کے کرکٹ ٹیم کے کیپٹن انتخاب عالم نے ناراض کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ سیاست اور کرکٹ کو مکس نہ کریں اور بلے پر دستخط کر دیں۔ ان کا انکار پاکستان اوربرطانوی حکومت کے بیچ شرمناک سفارتی خلا پیدا کر رہا تھا۔ جب جنرل یحیی خان نے ٹیم پر دستخط کرنے کا دباؤ ڈالا تب بھی گل نے انکار کیا لیکن آخر کار وہ مان گئے اور سب سے آخر میں انہوں نے دستخط کیے۔ 1969 میں جب ایوب کو استعفی دینے پر مجبور کیا گیا اور یحیی خان کو لایا گیا تب گل پاکستان پیپل پارٹی کے کٹر حامی تھے۔ وہ پارٹی کے بنیاد پرستوں میں سے ایک تھے جس کےبایئں بازو کی قیادت ایس- احمد راشد ،معراج محمد خان اور ڈاکٹر مبشر حسن کر رہے تھے۔اس لیے تقسیم کے ایک بیانیہ کے مطابق مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی در اصل قدامت پسند ریاست اور اس کے بائیں بازو کے اتحادیوں کے بیچ تھی۔ ملٹری کا
بنگالی قوم پرستوں کے خلاف رد عمل کا ساتھ صرف قدامت پسندوں نے نہیں بلکہ جمیعت –اے- اسلام اور بائیں بازو کے حامی چینی گروہوں نے بھی دیا۔اس وقت کمیونسٹ دنیا پرو چینی اور پرو سوویت کے بیچ بٹی ہوئی تھی۔پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بایئں چینی گروہ اور چینی سٹوڈنٹ گروپ (جو ماؤنواز کہلاتے ہیں) بیت زیادہ بنگال قوم پرستوں کے خلاف تھے۔ اورمشرقی پاکستان میں پرو سوویت گروہ جیسے ولی خان،اور غوث بخش بزنجوکی نیشنل
عوامی پارٹی ملٹری ردعمل کے مخالف تھیں۔سالیل ٹراپاتھی نے اپنی کتاب میں وضاحت کی کہ کرنل کو فوجی مداخلت کا کوئی افسوس نہ تھا۔ عسکری بنگالی قومیت پسندوں میں چینی اور سوویت گروہ شامل تھے اور یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان آرمی کے زیادہ تر بنگالی ممبرجنیوں نے مخالفت کی اور قوم پرستوں سے الگ ہوئے وہ ہندستان کے مخالف تھے۔ 1975 میں خون خرابے والی فوجی بغاوت میں ان قوم پرستوں میں سے کچھ بنگلادیش کے بانی موجیب- الرحمان اور زیادہ تر ان کی فیملی کو خارج کرنے پر تلے تھے ۔ ایک ہندو تاریخ دان شرمیلا باس نے اپنی کتاب Dead Reckoning میں ان دو نظریات کے بیچ کے انجان علاقے کو کھنگالا ۔یہ کتاب 1971 میں ہونے والے بنگلہ دیش کے ریاستی اور حکومتی واقعات کی بلکل صحیح ترجمان ہے یہ کتاب اکثر غیر بنگلادیشی مصنفوں اور تنقید نگاروں نے بھی حوالہ جات کے لیے استعمال کی۔باس نے 1971 ڈھاکہ میں امریکی سفارت کاروں کی روش بیان کی اور درجنوں ان مردوں اور عورتوں کے انٹرویو کیے جو اس خونی تنازع میں پکڑے گئے۔ جب انہوں نے روایتوں کا موازنہ سرکاری بنگلادیشی جنگ کی داستانوں سے کیا تو نتیجہ نکالا کہ صرف پاکستانی فوج مخالفوں پر تشدود، قتل اور معذور کرنے کے مجرم نہیں بلکہ بنگلہ دیشی قوم پرست جو بھارتی فوج کے تحت کام کر رہے تھے وہ بھی برابر کے قاتل ہیں۔ ہزاروں مرد عورتیں اور بچے اس تنازع میں جان گنواں چکے تھے۔ لیکن ان میں ہزاروں غیر بنگلا دیشی بھی بنگلادیشی ملی ٹینٹس کے ہاتھوں مارے گئے۔ باس کی کتاب پر بہت سے ہندو اور بنگلادیشی تاریخ نگاروں نے تنقید کی جنہوں نے واضع طور پر اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ ڈیڈ ریکوننگ نے ان مظالم کا الزام واقعی منتقل نہیں کیا جو 1971 میں مشرقی پاکستان سول وار میں پاکستانی فوج نے بنگالی ملیٹنٹس پر کیے تھے۔ اس کتاب نے صرف وہ وحشتناک حصہ دکھایا جو زیادہ تر زیر بحث نہیں آتا جیسا کہ بنگالی قدامت پرستوں کے ہاتھوں فوجیوں اور غیر بنگالوں کے خلاف خون ریزی۔ اسی لیے خاص طور پر یہ وحشتناک تنازع ہے۔ پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی مشرقی پاکستان کا مسئلہ شروع ہوا۔ 1948 میں جب بنگالی کی بجائے اردو پاکستان کی قومی زبان چنی گئی تو ڈھاکا میں فساد شروع ہو گیا۔ البتہ اس بارے میں بہت سے تاریخ دانوں کے اس بیانیہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ 5 سال بعد یعنی 1954 میں حکومت پاکستان نے بنگالی کواردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ دے دیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے بارے میں ایک اور اہم نکتہ جسے نظر
انداز کیا گیا یہ ہے کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ تک مجیب الرحمان کی عوامی لیگ ایک علیحدگی پسند جماعت نہیں تھی۔ سندھی، بلوچی اور پشتون نیشنلسٹوں کی طرح عوامی لیگ بھی صرف پروونشل اٹانومی کا مطالبہ کر رہی تھی اور پاکستان فیڈریشن کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہاں تھی۔ 1965 کی جنگ کے بعد جو ایوب خان کے خلاف تحریک چلی اس کے بعد مجیب الرحمان نے پاکستان پر بنگالیوں کو محروم رکھنے کا الزام لگانے کا عمل شروع کیا۔ مجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج نے بنگلہ دیش کی حفاظت کا بندوبست نہیں کیا اور اسے بھارتی سورماوں کے نظر کرم پر چھوڑے رکھا۔ اگرچہ بھارت نے صرف مغربی پاکستان کو ٹارگٹ کیا لیکن مجیب کے اس دعوی کی وجہ سے بنگالی عوامی لیگ زیادہ با اثر طریقے سے
اپنے مطالبات پر زور دینے لگی۔ لارنس زائرنگ نے اپنی کتاب from Mujib to Ershad میں لکھا ہے کہ جب 1971 کی مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی کے دوران مجیب الرحمان کو نظر بند کیا گیا تو وہ تب بھی پاکستان کے ساتھ رہ کر صوبائی آزادی کے طلبگار تھے۔ جب دسمبر 1971 میں بنگلہ دیش کو پاکستان سے علیحدہ کر دیا گیا تب بھی مجیب کو اس سب کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کیونکہ انہیں حالات سے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا۔ زائرنگ لکھتے ہیں کہ مجیب کو جب رہا کیا گیا تو وہ یہ جان کر بہت حیران ہوئے کہ مشرقی پاکستان کو الگ کر کے بنگلہ دیش بنا دیا گیا ہے۔ واحد سچ جس سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا وہ یہ تھا کہ یہ سب بہت بھیانک تھا۔ ہزاروں بنگالیوں اور پاکستانیوں نے اس سانحہ میں اپنی جانیں گنوائیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد دونوں حصوں میں ہونے والے الیکشن پر جاری بحث سے بھی سوالات کے جوابات نہیں مل پائے ہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہو پایا ہے کہ کتنے لوگ قتل یا زخمی ہوئے تھے اور بھارتی حمایت یافتہ نیشنلسٹ گروپ نے کتنے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ
سے ہی مورخین نے انکشافات کرنے شروع کیے ہیں کہ نیشنلسٹ لوگ بھی اس ظلم میں اتنے ہی شریک تھے جتنے افواج پاکستان اور بھارت۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *