نانگا پربت پر قتل

MHTہم نے منصوبہ بندی تو نہ کی تھی کہ ہم یوں سفر کریں کہ پورے چاند کی رات ہم راکاپوشی کے دامن میں ہوں۔ ایسے انعام قدرت اپنی چاہت میں مبتلا لوگوں کی جھولی میں خود ہی ڈال دیتی ہے۔۔۔ گھاس بھرے میدان میں بہتی ندیوں کا پانی چاند ہو چکا تھا اور راکاپوشی کا برفانی معبد چاندنی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ سارے میں ایک چپ تھی اور اس چپ میں ہم سب چپ تھے۔۔۔ فہد منہ اٹھائے مسکراتا چلا جاتا تھا اور جمیل عباسی اتنا جذباتی ہو رہا تھا کہ اگر میں اسے نہ ڈانٹتا تو وہ دیوانگی میں اپنا دامن چاک کر کے ’’لیلےٰ لیلےٰ‘‘ نہیں بلکہ ’’عظمےٰ عظمےٰ‘‘ کرتا راکاپوشی پر چڑھ جاتا۔۔۔ عظمےٰ اس کی عدالتِ عظمےٰ یعنی بیگم کا نام ہے۔۔۔ وہ چاروں پاگل جانے کہاں غائب ہو گئے تھے، سودائی، چاند کے تمنائی۔۔۔ چندا توری چاندنی میں جِیا جلا جائے رے۔۔۔ چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار رے۔۔۔ سب جگ سوئے ہم جاگیں تاروں سے کریں باتیں، چاندنی راتیں، چاند جب بھی تُو مسکراتا ہے دل مرا ڈوب ڈوب جاتا ہے۔۔۔ چندا رے چندا رے کبھی تو زمیں پہ آ بیٹھیں گے باتیں کریں گے۔۔۔ اور کل چودہویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا، کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا۔۔۔ ہم سب راکاپوشی کی چاندنی رات میں ڈوبے ہوئے تھے جب نانگا پربت کی جانب سے اس چاندنی کے کفن میں لپٹی لاشیں آنے لگیں۔ کسی نے خبر دی کہ آج نانگا پربت کے دامن میں مذہبی جنونیوں نے درجن بھر غیرملکی معصوم وہ نوردوں کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کر دیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان کے عشق میں مبتلا ہو کر یہاں چلے آئے تھے، کیسے احمق لوگ تھے، کیسے جنونی ملک میں آ گئے۔۔۔ ہم سب سر جھکائے دیر تک بیٹھے رہے جیسے راکاپوشی سے ان کی تعزیت کر رہے ہوں، ہمارے دلوں میں اداسی سے زیادہ بے بسی کا ایک لاوا اُبل رہا تھا۔۔۔ کاش ہم ان کے عزیزوں ماں باپ اور بہن بھائیوں کے پاؤں پکڑ کر ان سے معافی مانگ سکتے، ان سے کہتے کہ ہم سب وحشی نہیں ہیں ہمیں معاف کر دو اور آئندہ اپنے پیاروں کو پاکستان مت بھیجو کہ ہم اپنے مہمانوں سے ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔۔۔اس برس اہل شمال بے حد خوش تھے۔
بے شمار سیاحوں نے ہمارے پہاڑوں کا رُخ کیا تھا، ہُنزہ میں تمام ہوٹل فُل تھے، رونق ہی رونق تھی، روزگار بحال ہو گئے تھے، کوئی ایک آدھ غیرملکی بھی نظر آ جاتا تھا۔ اس خبر کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے تمام غیرملکی سیاحوں کو ان علاقوں سے نکال کر خصوصی پروازوں کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا، مقامی سیاح بھی اور خاص طو رپر وہ جو بال بچوں کے ہمراہ آئے تھے خوفزدہ ہو گئے اور واپسی کا سفر اختیار کر لیا۔۔۔ شمال ویران ہو گیا۔۔۔ واپسی پر ایک شخص نے کہا کہ تارڑ صاحب اس ملک میں امن کیسے ہو، کسی کو سزا ہی نہیں ملتی۔ درّہ بابوسر میں جن لوگوں نے ایک بس روک کر درجنوں مسافروں کو ہلاک کر دیا تھا ان میں دو ایک یہیں گلگت میں دکھائی دیئے ہیں۔ سزا نہیں تو جرم تو ہو گا۔۔۔ لاہور واپسی پر اطلاع ملی کہ جو سرکاری ٹیم سانحۂ نانگا پربت کی تفتیش کر رہی تھی ان سب کو بھی ہلاک کر دیا گیا اور ان میں ایک ایس ایس پی چلاس اور فوج کے ایک کرنل بھی تھے۔ ہم سزا نہیں دیتے بلکہ انہیں پھولوں کے ہاروں سے لاد دیتے ہیں۔۔۔ جہاں ہم تھے وہاں سے نانگا پربت کا مقتل بہت دور نہ تھا۔
یہ خونِ کوہ نورداں تھا رزق کوہ ہوا
شاید ان بوڑھے جاپانیوں کو بھی اطلاع مل چکی تھی اس لئے خوفزدہ سے پھرتے تھے اور پھر اگلے روز وہ بھی کوچ کر گئے۔ ہم اس رات سو نہ سکے کہ نانگا پربت کی برفیں خون آلود ہو چکی تھیں۔ اس سانحے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ جب ان غیرملکیوں کو خیموں سے نکال کر انہیں باندھ کر کلاشنکوفوں سے چھلنی کر دیا گیا تو اس کے بعد پاکستانی گائیڈ نے ان کی لاشوں کی تلاشی لے کر اپنی جیکٹ میں ہزاروں ڈالر ٹھونس لئے۔۔۔ سبھی وحشی ہو گئے تھے۔۔۔ اگر یہ کوہ نورد نانگا پربت پر چڑھتے ہوئے کسی حادثے کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے تو بھی دکھ ہوتا لیکن یوں دیار غیر میں بے وجہ قتل کر دیا جانا۔۔۔ شرمناک نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔ ہمیں کب شرم آئے گی۔ہمارا خیال تھا کہ ہم اگلے روز دیران چوٹی کے بیس کیمپ تک پہنچ کر وہاں کچھ وقت گزاریں گے اور شام سے پہلے لوٹ آئیں گے لیکن اس قتل عام کی خبر سے ہم سب بجھ سے گئے تھے۔۔۔ مجرم سے بنے پھرتے تھے۔۔۔ میں نے دیکھا کہ جاپانیوں کے خیمے سمیٹے جا رہے ہیں اور بوڑھے جاپانی نہایت آسانی سے اس پہاڑی دیوار پر چڑھتے جا رہے تھے جس نے گلیشئر اور دیران چوٹی کا منظر بیس کیمپ سے روپوش کر رکھا تھا۔۔۔ میں بھی اپنے سانس گہرے کھینچتا ہولے ہولے پہاڑی دیوار کے اوپر جا پہنچا اور وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا حیرت انگیز تھا۔۔۔ پورے گلیشئر کا جاہ و جلال اور وسعت نظروں میں بچھتی چلی جاتی تھی اور اس پر سایہ فگن دیران کی متاثر کن برفانی چوٹی۔۔۔ سچی بات ہے کم از کم یہاں سے دیران، راکاپوشی سے کہیں شاندار اور عظیم دکھائی دیتی ہے جاپانی مختلف پتھروں پر براجمان اس عظیم برفانی منظر کے سامنے ایسے چپ بیٹھے تھے جیسے عبادت کر رہے ہوں۔ اسرار کا کہنا تھا کہ بیس کیمپ کی جانب سفر کے دوران جب پہلی بار راکاپوشی کا منظر سامنے آتا تھا تو جاپانی اپنی زبان میں کچھ بڑبڑاتے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پہاڑ کی پرستش نہیں کرتے بلکہ اس کے حسن کی تاب نہ لا کر اس کے آگے جھک جاتے ہیں، خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔۔ اگرچہ وہ سب کے سب ستر برس عبور کر چکے تھے لیکن ان کے بدن چھریرے اور متناسب تھے۔۔۔ جاپانی مائیوں کو دور سے دیکھتے تو دل رُک جاتا، قریب آتے تو چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوتا کہ یہ تو ایک عدد خالہ جی ہیں۔۔۔ انہوں نے چند تصویر اتاریں، اس برفانی وسعت کے منظر کو آخری بار آنکھوں میں سمویا اور پہاڑی دیوار سے اتر کر بیس کیمپ کے میدان میں چلے گئے جہاں ان کے خیمے بندھے پڑے تھے اور پھر وہ سب کوچ کر گئے۔۔۔ اب صرف ہمارے خیمے باقی رہ گئے تھے اور وہ بے حد تنہا لگ رہے تھے۔۔۔ شمشال کا رہنے والا کوہ پیما اور شاعر جوشی ہمارے دیکھتے دیکھتے دیوار سے اتر کر گلیشئر تک پہنچ گیا اور پھر اس کی بھول بھلیوں میں غائب ہو گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد کامران جو اپنا کیمرہ سٹینڈ پر لگائے اس کے ویو فائنڈر پر اپنی آنکھ جمائے بیٹھا تھا کہنے لگا،تارڑ صاحب وہ جوشی گلیشئر کے درمیان تک جا پہنچا ہے۔۔۔ اور وہاں بہت ہی غور سے دیکھتے رہنے کے بعد برفوں میں ایک سرخ دھبہ سا نظر آیا جو اس شمشالی نوجوان کی جیکٹ تھی۔۔۔ کل شام اس نے ہمیں اپنی واخی زبان کی شاعری سنائی تھی۔۔۔
اورمجھے پسّو ہنزہ کے ماسٹر حقیقت یاد آ گئے۔ شمال میں جی ایم بیگ کے علاوہ میرے اولین دوست۔۔۔ میں اور میرا خاندان جب خنجراب سے لوٹے تو انہوں نے ہمارے اعزاز میں ایک بکرا حلال کیا اور ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔۔۔ وہ واخی زبان کے بہت بڑے محقق اور داعی تھے۔۔۔ میں نے کامران سے پوچھا کہ یہ جوشی یونہی بے وجہ گلیشئر میں کیوں بھٹک رہا ہے، کسی برفانی دراڑ میں گر جائے تو ہمیں خبر تک نہ ہو تو وہ کہنے لگا، سَر جوشی کا کہنا ہے کہ وہ تادیر یونہی بیٹھا نہیں رہ سکتا۔۔۔ اسے بے چینی ہوتی ہے اور یہ تبھی دور ہوتی ہے جب وہ کسی بھی پہاڑ میں گم ہو کر چٹانوں پر چڑھتا جائے یا کسی گلیشئر کے اندر اتر جائے یوں اسے سکون نصیب ہوتا ہے۔ وہ نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔نیچے میدان میں چند بچے کرکٹ کھیل رہے تھے اور فہد باؤلنگ کر رہا تھا۔۔۔ کم از کم وہ آج خوش تھا کیونکہ وہ ان غیرملکی خواتین سے مل کر آیا تھا جو اپنے گائیڈ کے ہمراہ بیس کیمپ پہنچی تھیں اور کچھ دیر رکنے کے بعد شاید اس لئے واپس چلی گئی تھیں کہ یہاں رات گزارنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھیں۔۔۔ کیا پتہ نانگا پربت کے قاتل اِدھر بھی آ نکلیں۔۔۔ میں نیچے اترا اور کچھ دیر خیمے میں لیٹ کر اپنے بوڑھے بدن کی وہ تھکن اتارنے کی کوشش کی جو اترتی ہی نہ تھی، شام ہوئی تو ڈاکٹر احسن کہنے لگا۔۔۔ تارڑ صاحب اوپر چلتے ہیں، آفتاب غروب ہونے کو ہے۔اور جب سورج دیران کی برفوں میں ڈوبا تو ان کی سفیدی میں ایک سُرخی گھلنے لگی۔۔۔ ان کوہ نوردوں کے خونِ ناحق کی سُرخی جو نانگا پربت کے عشق میں مارے گئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *