شب

                                                             M tahirیہ نصف شب ہے،آسمان پر تارے مسکراتے ہیں۔ یہیں کہیں سے ایک نوائے سروش اُٹھتی ہے اور گونجتی ہی چلی جاتی ہے۔ جسے گوش نہیں قلب سنتے ہیں اور سنتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اُن لوگوں پر تب رحم آتا ہے جو ربِ کائنات پر سوال اُٹھاتے ہیں۔ انسان کی رگِ حیات سے بھی قریب تر پر شک کرتے ہیں ۔ ابھی وہ پہر شروع ہو گا، جس کی ساعتوں کو تھام لیا جائے تو عالم کا پروردگار اپنے بندوں پر مہربان ہو جاتا ہے۔ اُن کے تجربات میں سماجاتا ہے۔ اُن کے قلوب کو سکینت سے بھر دیتاہے، مگر ، اے خدایا یہ کیا؟ شک کا ایک سنپولیا سر اُٹھاتا ہے۔ ہائے کراچی ! ہائے میرا پاکستان ۔کیا ہم مکمل برباد ہو جائیں گے؟ کیا وہ ہمیں تھام نہ لے گا؟ کیا تاریخ کے قبرستان میں ہم کھیت رہیں گے؟یوں لگتا ہے ایک تارے نے آنکھ ماری ہے اور کراچی میں میرے عارضی گھر کی چھت پر پھیلا ہوا آسمان مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہے۔ کیا وہ مجھ سے جتنا دور ہے کراچی کا امن بھی اُتنا ہی دُور رہے گا ؟

  افسانہ تو یہ ہے کہ راتیں خاموش ہوتی ہیں اور دن چیختے ہیں،مگر کہاں، راتیں کب خاموش ہوتی ہیں ؟ ایک لے میں لہکتی راتیں ترنم سے کہانی سناتی ہیں ۔درد سے فریادیں کرتی ہیں ۔آنکھ سے آنکھ ملاتی ہیں ۔زندگی کا پورا ماجرا سناتی ہیں ۔ پھر وقت کی جادونگری سے دن اور رات کے بنانے والے کے اِذن کو عام کردیتی ہیں ۔اُس کے ارادوں کی غرض وغایت اور کبھی نہ بدلنے والی سنت کو بآندازِ دگر بیاں کرتی ہیں، تو کون ہے جو نصیحت سننے پر آمادہ ہو ؟ کراچی کی دہشت گردی کے بھوسے سے امن کی سوئی تلاش کرنے کی ناکام کوشش میں کابینہ نے کراچی میں اپنی نشست سجا لی۔ منصوبہ وہ کہاں ہوتا ہے جو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا جائے ۔ منصوبہ تو وہ ہوتا ہے جو بھگتتے ہوئے بتدریج کھلتا ہے اور کھلتے کھلتے مسلسل بدلتا ہے۔ سو الفاظ کے سرکاری اسراف اوراس پر ذرائع ابلاغ کے کاروباری شور کو نظر انداز کر دیجئے۔یہ سب سے زیادہ خطرناک بیماریاں ہیں مگر اس کا فوری علاج اس پر سب سے کم تو جہ دیناہی ہے۔ کراچی میں وہی پُرسکون ہے جو ٹیلی ویژن کو بندکرچکا اور اخبارات سے بے نیاز ہو چکا ۔ لہکتی رات نے مسکرا کرساز اُٹھایا تو بغداد کا صوفی حافظے کی لوح پر اجاگر ہو گیا۔ ”عافیت گمنامی میں ہے ۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر تنہائی میں ، اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو خاموشی میں اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پھر صحبت ِ سعید میں ۔“ پھر وہی شک کا سنپولیا،الامان والحفیظ! کیا حکومت کو اندازہہے کہ ریاست سے اِس عوامی بیگانگی کا مطلب کیا ہے؟ مگر اس کا حکومت کیا جواب دے گی ؟ اس کے ترجمانوں کے دانتوں میں پائے جانے والے خلا سے آوازیں نہیں سیٹیاں سنائی دیتی ہیں ۔ مترنم رات کا مشورہ تو یہ ہے کہ

جو بے نیاز کا بندہ ہے تو بے نیاز ہی رہ

کسی شب بیدار پرندے کی آواز نے گُم ذہن کو پھر حاضر کر دیا ۔کیا یہ کوئی نغمہ تھا جو دوشِ شمیم پر کسی گوشِ ہوش کو تلاش کرنے نکلا ہو؟ یا کوئی نالہ جس کے مخاطب مرگلہ کی پہاڑیوں کے آس پاس کراچی امن کے منصوبہ ساز ہو؟ کیا یہ کراچی آنے والے وزیراعظم کو تنبیہ تھی؟ رباب کے تار جیسے ٹوٹ سے گئے ہو، شاید شہر ِخموشاں میں ایک دائمی بے اماں کی جھنجھناہٹ نے پرندے کو قدرے جھنجھلا دیا ہو۔کیا کراچی کی فریاد کو اِس پرندے نے وزیراعظم سے بھی پہلے سُن لیا ۔ حکومتیں تو اقتدار کی کائنات میں شب بیدار ساحراو¿ں کے سحر سے مسحور و مخمور رہتی ہیں۔اُنہیں تو اختیار کی دوشیزاو¿ں کے فیصلہ کن زاویئے دوسری طرف متوجہ ہی نہیں ہونے دیتے۔شام کا اُبال رات کی دھمال اور صبح کا خمار ہی اُنہیں ساز گار ہے، پھر کراچی کا پُرسانِ حال کون ہوگا؟کیاکابینہ کا اجلاس ساز کے پُر سکوت تاروں کو کسی نغمہ ¿امن سے متلاطم کر پائے گا؟ہواپرستوں کو دیکھ کر ایک ہُوک سی اُٹھتی ہے ۔ سرکاری اقدامات کا ہَولُو دل کی ہَولاجَولی کو بڑھاتا ہی جاتا ہے۔ ملک کے مستقبل پر تاریک سائے آہستہ آہستہ بڑھتے ہی جاتے ہیں ۔ کیا رات اور دن کا ایک ہی رب ہماری بے امن راتوں کو امن وامان کی صبح سے ہمکنار نہ کرے گا؟ یہ بڑھتے ہوئے آلام ،گرتے ہوئے لاشے ،پسینوں کی کمائی پر پڑنے والے ڈاکے،اغوا کے تحیر زاد قصے ،خونچکاں داستانیں ، سسکیاں بھرتی ہوئی گمنام عزتیں ،گہری کھائیوں میں گرتی ہوئی وطن ِ عزیز سے محبتیں اور پیہم جورواستبداد کے یہ سلسلے یوں ہی جاری رہیں گے۔

کیا یہ منظر کابینہ کا اجلاس بدل دے گا؟ حیرت ہے کراچی کے مسائل کا جوحصہ ہیں وہ شریک مشاورت ہیں ۔کراچی کے قاتل ہی اُس کے عزادار ہیں ۔ کراچی میں ایک بار پھر ” لکڑی اور کلہاڑے“ کی داستان دہرائی جارہی ہے۔

زمیندار جنگل میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔درختوں نے پوچھا :کیا چاہئے؟زمیندار نے کہا : بس لکڑی کا ایک ٹکڑا، جس سے میں اپنی کلہاڑی کا دستہ بنا سکوں ۔ درختوں نے لکڑی کا ایک ٹکڑا زمیندارکو تھما دیا ۔ زمیندار نے اِسے کلہاڑی میں لگایا اور درخت کاٹنے لگا۔جب وہ بلند وبالا درختوں کو کاٹ چکا تب بلوط نے ساگوان سے کہا: یہ ہے ہماری نیکی کا بدلہ ۔ہمارا کیا ہمارے ہی آگے آیا“۔

کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ نہ ہوتا

تو لکڑی کے کٹنے کا رستہ نہ ہوتا

کابینہ اگر کراچی کی کلہاڑیوں کو لکڑی کا دستہ نہیں دینا چاہتی تو پھر اُنہیں شریکِ مشاورت کیوں کر رہی ہیں؟ وہ صاف صاف کیوں نہیں کہتی کہ جرنیل اپنے اصطبلوں کے بے قابو سیاسی گھوڑوں کی پرورش بند کریں۔ ایجنسیوں کے کرتادھرتا کراچی میں اپنے رشتے داروں کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔پولیس اور اداروں کے بے قابو افسران اغوا کی وارداتوں میںکیوں ملوث ہیں ؟جُرم سرکاری سرپرستی میں بھی اُتنا ہی قابل ِ سزا ہے جتنا ایک مجرم کے لئے ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے وارداتیوں کے لئے سیاسی دباﺅ ناقابل ِ برداشت ہوگا ۔ عزیر بلوچ کو خود جا کر دبئی چھوڑ آنے والا صوبائی وزیر کابینہ کے اجلاس میں شریک ہونے کی درخواست کیوں کر رہا ہے؟ اُن سرکاری افسران کو سب سے پہلے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو کسی ادارے یا پھر طاقتور سیاسی پناہ میں رہتے ہوئے جرائم میں حصے دار ہیں ،مگر ایسا کون کہے گا اور ایسا کہاں ہوگا ؟ پھر کراچی کا قرار بھی کہاں لوٹے گا۔ رات اپنے آخری پہر کی طرف سرک رہی ہے ۔یہ بندگانِ خدا کے سرجھکانے کا وقت ہے ۔تسبیح پڑھنے اور اپنے رب سے دُعا کے لئے ہا تھ اُٹھا نے کا مستجاب لمحہ¿ مبارک آ پہنچا۔ تو اے عَالم کے پروردگار ! ہمارے ہاتھوں کو مایوس نہ لوٹا ۔ہم اپنی اُمیدیں حرص وہوس میں ڈوبے حکمرانوں سے نہیں، ستر ماو¿ں سے بھی زیادہ مہربان اپنے رب سے باندھتے ہیں ۔تو کراچی کا امن لوٹا دے ،اس پر سے اپنی مہربان توجہ کو نہ اُٹھا ۔ اور اس کے امن سے کھیلنے والوں کو برباد کردے۔رات کا آخری پہر قرار دیتا ہے، پھر کراچی اور پاکستان پر اعتماد کو بڑھا دیتا ہے۔ربِ کعبہ اپنے ماننے والوں کو کبھی رُسوا تو نہیں کرتا ۔ یہ خیال دل میں اُبھرا اور مرغے کی بانگ سنائی دی ۔دھڑکتے دل میں جیسے شگوفے پُھوٹ رہے ہو ۔اُمید کی ایک نئی کلی سی چٹکی ہو ۔پہاڑوں کے دل چیر دینے والی ایک جوئے کہستاں اُچھل کے نکلی ہو ۔شمیم ِ جانفزا کے ایک خوشنما جھونکے نے جیسے کان میں ایک سرگوشی کی ہو ” گُل جس شاخ سے ٹوٹتے ہیں اُسی شاخ سے پھوٹتے بھی تو ہیں“۔ یہی رازِحیات ہے ۔یہی آج کی شب کا کلام ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *