عمران علی کے بنک اکاؤنٹس اور ستائیس منٹ کی کال !

naeem-baloch1
ہمارا خیال تھا کہ زینب بربریت کیس اپنا پہلا مرحلہ مکمل کر چکا ، اور اب سوشل میڈیا اور ٹی وی سکرینیں عاصمہ کے مجرم اور کراچی کے پولیس درندوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا مطالبہ کریں گی ۔ لیکن اس بدقسمت قوم نے اندھے راہ بتلانے والوں کا برپا کردہ عذاب نہ جانے کب تک سہنا ہے۔
یہ بات شاید کسی کو معلوم نہ ہو کہ حاجی امین صاحب نہ صرف ڈاکٹر طاہر القادری کے پرانے مرید ہیں بلکہ وہ عوامی تحریک کے قصور ضلع کے صدر رہ چکے ہیں ۔ چنانچہ وہ ابھی مدینہ منورہ ہی میں تھے تو ان کو قادری صاحب نے فون کیا اور وہ اگر چاہتے ہیں کہ انھیں انصاف ملے تو ان کو اس کے مشورے پر چلنا ہو گا ۔ امین صاحب نے بڑی عقیدت مندی سے ہاں کر دی ۔ حاجی امین پاکستان اترتے ہی قادری صاحب کے نرغے میں آگئے ۔ وہ تو بھلا ہو ان کے بعض رشتے داروں کا، جنھوں نے انھیں یہ احساس دلایا کہ آپ مسئلے کو سیاسی نہ بنائیں اور اس کو صرف زینب تک محدود رکھیں ۔ چنانچہ یہ بات ریکارڈ پر ہے امین صاحب نے نواز شریف سے ملاقات سے انکار کیا ۔ جے آئی ٹی کے پہلے سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ اور پہلے مرحلے میں شہباز شریف سے بھی ملنے سے انکار کردیا تھا لیکن پھر سمجھانے پر آمادہ ہو گئے۔ اور ملاقات کے بعد انھوں نے اعتماد کا اظہار کیا شہباز شریف واقعی انھیں انصاف دلانے میں مخلص ہیں ۔ شہباز شریف نے بھی ذاتی طورپر روزانہ ان سے رابطہ رکھا۔ لیکن ادھر قادری صاحب مسلسل امین صاحب کے پیچھے رہے ۔ انھوں نے انھیں تاکید کی وہ سترہ جنوری کو لاہورکے جلسے میں شریک ہوں ۔ وہ ان کو اپنی دائیں نشست پر بٹھائیں گے ۔ مگر امین صاحب احباب کے پر زور مشورے پرجلسے میں شریک نہ ہوئے ۔اس بات پر قادری صاحب نے ان سے بہت شکوہ کیا ۔ اسی دوران امین صاحب دیکھ رہے تھے کہ زینب کیس پر دن رات کام ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ صاحب خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ پھر شک کے سارے دائرے عمران علی کے گرد تنگ ہونے لگے ۔ آخر انھیں اعتماد میں بھی لے لیا گیا کہ ان کا متوقع مجرم یہی ہے اور اس کو تفتیش کی حکمت عملی کے تحت آزاد کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر ان کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا کہ اگر وہ بھاگ گیا تو ؟ اس پر انھیں اعتماد میں لیا گیا کہ وہ ہر وقت خفیہ لوگوں کی نگرانی میں ہے ۔ان کی دلجوئی کے لیے انھیں بتایا گیا کہ جس بس میں بیٹھ کر عمران علی قصور سے باہر جارہا تھا اس بس میں خفیہ کے دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس موقع پر زینب کے والدین کا دل یہی چاہ رہا تھا کہ وہ جائیں اور عمران علی کے گھر میں موجود ہر ذی روح کا قیمہ کر دیں ۔ کیونکہ انھیں ماضی کے تمام حالات یاد آرہے تھے ، وہ ان سارے واقعات کو ایک نئی نظر سے دیکھ رہے تھے ۔ پھر اگلے ہی دن انھیں حتمی اطلاع دے دی گئی کہ سو فیصدی مجرم عمران ہی ہے ۔ جیسے ہی یہ خبر قادری صاحب تک پہنچی انھوں نے امین صاحب کو فون کیا ۔ یہ فون کال ستائیس منٹ کی تھی ۔ قادری صاحب نے انتہائی جذباتی انداز میں امین صاحب کو قائل کر لیا کہ وہ اس پریس کانفرنس میں ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے قتلوں کے مجرمین تلاش کرنے کا مطالبہ کریں گے اور برملا کہیں گے کہ وہ تب مطمئن ہوں گے جب ماڈل ٹاؤن واقعے کے قاتل ملیں گے۔ امین صاحب معلوم نہیں کہ جانتے تھے یا نہیں لیکن یہی حقیقت تھی کہ ان سمیت گھر کے تمام لوگوں اور قریبی رشتے داروں کی ایک ایک کال اور میسج تفتیشی اداروں کی پہنچ میں تھی ۔ چنانچہ انھیں ایک بار پھر گزارش کی گئی کہ وہ اپنا بیان صرف اور صرف زینب کے کیس تک رکھیں گے۔ لیکن امین صاحب نے اس پر نہ ہاں کی اور انکار ۔ لگتا یہی ہے کہ وہ قادری صاحب سے وعدہ کر چکے تھے ۔چنانچہ ان پر کڑی نظر رکھی گئی۔ اور جیسے ہی انھوں نے زینب کیس پر اپنی بات مکمل کی ،ان کا مائک بند کر دیا گیا ۔ تو جناب یہ ہے امین صاحب کے فون بند کرنے کی اصل وجہ ۔ اس کے بعد قادری صاحب نے امین انصاری سے بہت شکوہ کیا کہ انھوں نے ا چھا نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے آخر یہ بیان دے ہی دیا کہ وہ کیس کی تفتیش سے پوری طرح مطمئن نہیں ۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اس پر سو فی صد مطمئن ہیں کہ قاتل درندہ عمران ہی ہے تو ان کا جواب مثبت ہوتا ہے لیکن وہ چونکہ چاہتے ہیں کہ عمران کے گھر والے بھی مجرم قرار دیے جائیں لیکن انھیں ابھی اس کے انتظار کرنے کے لے کہا گیا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ جس کی پھول جیسی بیٹی کو یوں مسل دیا جائے وہ انتظار کیسے کرے !دوسری طرف آخر انھیں ناراض پیر اور پارٹی لیڈر سے دیرینہ تعلق کا بھی تو خیال ہے !اور ایک دوسری وجہ ۔ قصور میں جب مظاہرے ہوئے تو اس میں کچھ لوگوں نے خوب توڑ پھوڑ کی ۔ یہ ٹرینڈ لوگ تھے جنھوں قصور اسپتال سمیت کئی جگہوں کو تہس نہس کر دیا۔ یہ فسادی قادری صاحب کے بھیجے ہوئے گماشتے تھے۔ ان کی ویڈیوز موجود ہیں لیکن اب امین انصاری قادری صاحب کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے ان کو چھڑوانا چاہتے ہیں ، لیکن انتظامیہ کو ان کا یہ مطالبہ ماننے پر شدید تحفظات ہیں ۔
اب آتے ہیں بنک اکاؤنٹس کی طرف ۔ ذاتی خواہش کو تجزیہ اور رسیوں کو سانپ دکھانے کے ماہر ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہلدی کی ایک گانٹھ ملی اور انھوں نے پنسار کی دکان سجا لی۔ کیا انھوں نے سینتیس اکائنٹس میں سے کسی ایک کا بھی ثبوت پیش کیا ؟ کسی بنک نے اس کی تصدیق کی ؟ اس کا نام بتایا ہو؟ کس ملک میں یہ اکاؤئٹ ہیں ، کوئی تفصیل ؟ اصل میں ان کو جو غیر مصدقہ اطلاع ملی ہے وہ اس کیس کی تفتیش کے دوران ہونے والی تحقیق کا حصہ ہے۔ اس کا ایک لفظ بھی سچ نہیں ۔بہت جلدجھوٹ کے اس غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کی اصلیت ایک مرتبہ پھر سامنے آجائے گی۔ان کی انھی جھوٹوں نے انھیں اے آر وائی ، جیو ،دنیا اور دیگر چینلز سے رسوا کر کے نکلوایا تھا لیکن وہ بے چارے عادت سے مجبور ہیں ۔عمران علی کو اگر معصوم بچیوں کو مسلنے کی عادت تھی تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو سچ بگاڑنے کی لت!!!
عمران علی کے بارے چند حقائق اور بھی ہیں جن کا تذکرہ ہم اگلی تحریر میں کریں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *