منو بھائی کی یاد میں

ia rehman

منو بھائی اپنے دوستوں کی تصاویر ہاتھ سے بنانے میں ماہر تھے۔ یہ تصاویر شائع کرنے کے لیے نہیں بناتے تھے۔ اسی وجہ سے میرے لیے ان کے بارے میں لکھنا بہت مشکل محسوس ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ منو بھائی کو قریب سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں لیکن وہ جانتے نہیں ہوتے کیونکہ منو بھائی کی شخصیت بہت وسیع خوبیوں کا مجموعہ تھی جسے پورا جاننا ناممکن بات ہے۔ میں کئی سال پہلے منو بھائی سے پہلی بار ملا تھا۔ شاید 1960 کی دہائی کی بات ہے۔ وہ یونین کے معاملات میں بہت دلچسپی رکھتے تھے اور لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے اور اس پر ڈٹ جاتے تھے۔ انہوں نے ڈرامہ نگار کی حیثیت سے بہت شہرت کمائی لیکن کبھی غرور نہیں کیا اور ایک با حیا شخص دکھائی دیے۔ ان کی سب سے اہم خوبی اپنی نظمیں پڑھ کر سنانا تھا جو انہوں نے فلسطینی شاعر محمود درویش کی نظموں کے ترجمہ کی صورت میں لکھی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے پنجابی نظمیں بھی لکھیں۔ جب ان سے نظم ۔اجے قیامت نہیں آئی۔ سنانے کی فرمائش ہوتی تو ان کی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔ جب وہ نظم ۔احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر۔ پڑھتے تو غصہ ان کے چہرے پراور ان کی آواز میں ظاہر ہوتا تھا۔ ملک محمد جعفر نے مجھے بتایا کہ منوں بھائی اٹک کے ایک کیویلیر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات نیشنلسٹ اور ریفارمسٹ کے طور پر شہرت رکھتے تھے کیونکہ ان کے رہنما ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر اشفاق علی خان تھے جو پاکستان میں سٹیل مل قائم کر کے پاکستان کو دنیا کی ایک بڑی مضبوط طاقت بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ انہی دنوں منو بھی وزیر آباد کے باغی شفقت تنویر مرزا اور مسعود اللہ خان کے بھی قریب رہے۔ 1970 کی دہائی میں ہم نے
اکٹھے پیپرز لمٹڈ کےلیے کام کیا۔ وزیر اطلاعات جنرل شیر علی خان منو بھائی کی تنقید برداشت نہ کر سکے اس لیے انہیں ملتان ٹرانسفر کر دیا گیا۔منو بھائی کرائسز سے نمٹنے کےلیے مجھ سے مشورہ کر لیا کرتے تھے کیونکہ وہ اپنی ٹرانسفر کو ایک کرائسز سمجھتے تھے۔ میں نے ان کو بتایا کہ ملتان میں بھی امروز سے جڑے بہت لوگ موجود ہیں جن سے آپ دوستی کر سکتے ہیں۔ ان میں مسعود اشعر، جو امروز کے ایڈیٹر تھے ان کا نام سرفہرست تھا۔ وہ دو سال تک ملتان میں رہے اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہونے کے بعد واپس آ سکے۔  منو بھائی پیپلز پارٹی کے ابتدائی عاشقان میں سے تھے لیکن بہت سے لوگ ان سے زیادہ مضبوط تھے۔ انہوں نے حنیف رمدے کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے جنہوں نے انہیں مساوات تک پہنچایا۔ میں نے انہیں اس وقت بہت یاد کیا جب این پی ٹی یعنی نیشنل پریس ٹرسٹ کو آزاد ادارہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں این پی ٹی کے چیف کے انتخاب میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ ان کا کوئی مذاق اڑائے تو وہ برداشت کر لیتے تھے ۔ ان کی پچاسویں یوم ولادت پر دلداد پرویز بھٹی ان کے ہاں موجود تھے انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی خصوصیات منو بھائی نے بچپن میں ہی اپنا لی تھیں۔ اس بات پر منو بھائی سے زیادہ کوئی
نہیں ہنسا۔ جب بے نظیر وزیر اعظم بنی تو منو بھائی زیادہ پھلنے پھولنے لگے ۔ وہ بیگم نصرت بھٹو کے بھی بہت قریب تھے ۔ بہت سے لوگ دولت کی خاطر ان سے تعلقات جوڑنا چاہتے تھے ۔ منو بھائی نے ایک ایڈورٹائزینگ کمپنی کو بھی امیر کمپنی بنا دیا لیکن اپنے بارے میں کبھی لالچ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ اپنے دوستوں کو جن میں میں بھی شامل تھا بہت اچھی کمپنی فراہم کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اچھے الفاظ کا انتخاب کرتے لیکن کہانی میں صالحہ لگانا بھی کبھی کبھار ان کے واقعات سے نظر آتا تھا۔ وہ ایسے لوگوں سے بھی دوست ہی رہتے جو ایک دوسرے کے خلاف بد زبانی کرتے تھے۔ وہ شعرا کے ساتھ دوستی کو بھی اہمیت دیتے تھے اور ان کے قریبی دوست شعرا میں کشور ناہید کا نام سرفہرست ہے۔ کچھ نیا کرنے کے شوق نے انہیں شیریں پاشا کے ساتھ فلم بنانے کے شعبہ میں آنے پر مجبور کیا۔ اس نئے فن کو سیکھنے کےلیے گھنٹوں محنت کرتے ہوئے میں نے منو بھائی کو کئی بار دیکھا ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی کے عمر سے ہی سخت زندگی کے دن دیکھے تھے اور انہیں ایسے حالات سے نکلنے میں بہت عرصہ لگا تھا۔ لیکن وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کےلیے تیار رہتے تھے اور اپنے دوستوں کی تکلیف اپنے دل میں محسوس کرتے تھے۔ جب وہ نانا یا دادا بنے تب انہوں نے اپنے بچپن کی یادیں اپنے نواسوں اور پوتوں کے ساتھ تازہ کیں۔ جب منو بھائی ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان میں منتخب ہوئے تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے وہاں مجبوروں کے لیے ان کی جد و جہد کو بہت قریب سے دیکھا ۔ انہوں نے اپنے کالمز کے ذریعے بے چارے غریب عوام ، پولیس کی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے اور دوسرے معذور افراد کےلیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ منو بھائی کو اپنی وضع قطع سے کوئی خاص لگاو نہیں تھا بس اپنی عینک پہننے کے بارے میں وہ فکر مند رہتے تھے بعد میں وہ ہر عوامی جگہ پر ویسٹرن سوٹ پہن کر آنے لگے۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ انہوں نے ساوتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن سے تعلق جوڑ لیا تھا۔ عالم گیلانی منو بھائی سے بہت پیار کرتے تھے اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ پچھلے دو سال میں منو بھائی بہت سی بیماریوں کا شکار ہو گئے۔ اب ان کے لیے عوامی فنکشنز میں آنا ممکن نہ تھا لیکن پھر بھی اپنی وِل پاور کی بدولت وہ کبھی نیر علی دادا کی رہائش گاہ پر یا اسلام آباد میں ایک تقریب میں حصہ لینے پہنچ جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی نظمیں بھی کتابیں دیکھ کر پڑھنا شروع کر دیں جب کہ پہلے وہ گھنٹوں زبانی اپنی نظمیں سنایا کرتے تھے۔ اپنی کمزور صحت کی وجہ سے وہ اپنے سپورٹرز کے سہارے پر اکتفا کرنے لگے تھے۔ ان کے ہینڈلر اور سپورٹر فیصلہ کرتے تھے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ انہوں نے منو بھائی کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے روک دیا لیکن منوں بھائی آخری دم تک مسکرانا نہیں بھولے۔ کتنے بڑے فائٹر تھے میرے دوست منو بھائی۔

4

5

6

8

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *