ٹیپو سلطان کے خوابوں کی تعبیر

7

سنجیو جین

اینجلو میسور جنگ کے اختتام کے وقت ٹیپو سلطان کو 1799 میں قتل کر دیا گیا اور سرنگا پٹنم کے محل کو **sack** کر دیا گیا۔ اس کے جسم میں کپڑوں میں چھپا ایک کتاب کا نسخہ برآمد ہوا جس میں انہوں نے کچھ خواب اور ان کی تعبیریں بیان کر رکھی تھیں۔ ان خوابوں پر آج تک بہت سی جگہوں پر بحث ہوتی رہی ہے اور اس کے ذریعے خوابوں کی تعبیر کے معاملے میں تحقیقات بھی کی جاتی رہی ہیں۔ خوابوں کی تعبیر کا معاملہ سگمنڈ فراڈ کے زمانہ سے زیر بحث تھا۔ ایشین اور انڈین میڈیسن، فلاسفی، پاپولر امیجینیشن میں خواب اور اس کی تعبیر کی ایک بہت بڑی تاریخ ہے۔
ٹیپو سلطان 1753 کو دیوان ہالی میں حیدر علی اور فخر النسا کے گھر پیدا ہوئے اور حیدر علی کی وفات کے بعد 7 دسمبر 1782 کو میسور کے بادشاہ بن گئے۔ ٹیپو فارسی میں بہت عبور رکھتے تھے اور ایک بہت بڑے مصنف تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ان کے لکھے گئے خطوط دی ٹائمز اخبار لندن میں شائع ہوئے۔ ان خطوط میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے مذاکرات کے طریقہ کار پر احتجاج کیا 27 مارچ 1791 کو ان کا ایک خطر جو لندن گیزٹ میں شائع ہوا اس میں انہوں نے لارڈ کورن ویلس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: اہم معاملوں میں دل کی بات کو خفیہ رکھنا پڑتا
ہے لیکن بات چیت کے دوران انسان کو اختلافات ختم کرنے اور دونوں پارٹیوں کی خوشی کا خیال رکھنا چاہیے۔ ٹیپو سلطان کے نوٹس میں ملٹری آپریشن، قواعد و ضوابط، تجارت، ممنوعات، مذہب اور اخلاقیات پر بات کی گئی ہے۔ انہیں بیوروکریسی پر یقین نہیں تھا لیکن اپنی فوج پر مکمل اعتماد تھا۔ انہوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں کیلنڈر کو ریفارم کرنے، نیول فلیٹ تیار کرنے اور ستاروں کے علم کے شعبہ میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا۔ وہ ایک اچھے اور حیادار انسان تھے اور ان کی سادگی ان کے لباس میں نظر آتی تھی۔ وہ ایک سادہ بستر پر سوتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں فرانس کے ساتھ ایک مشترکہ فوجی محاذ قائم کرنے کیے ان کے مذاکرات کا اشارہ ملتا ہے۔ وہ جب فرانس کے حکمرانوں کو خط لکھتے تو اس پر اپنے دستخط میں لکھتے: سٹیزن ٹیپو۔ فتوحات کی خواہش 4 مئی 1799 کو سرنگاپٹنم پر حملے اور ٹیپو کی موت کے بعد برطانوی حکمرانوں نے ان کی لائبریری پر قبضہ کر لیا اور سارے کتب کے مجموعے انگلینڈ لے گئے جہاں اب یہ ساری نایاب کتب اور دیگر تحاریر کیمبرج اور آکسفورڈ کی لائیبریریوں میں موجود ہیں۔ یہ اشیا برطانیہ میں موجود انڈیا آفس لائبریری اور کولکتہ میں موجود ایشیاٹک سوسائٹی میں بھی موجود ہیں۔ اس میں کوئی شک نہی کہ وہ اپنے خواب اور ان کی تعبیر ڈھونڈنے میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ بک آف ڈریمز جس کا کچھ حصہ ان کی ذاتی ڈائری سے لیا گیا ہے، اور رجسٹر آف ڈریمز یہ دونوں کتابیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹر کو 1800ء میں مارکس ویلزلی کی طرف سے دی گئی تھیں۔ اس کتاب میں 1785 سے 1798 تک کے زمانہ کی 37 خواب اور ان کی تعبیریں درج ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خواب کا تعلق انگریزوں
کو بھارت سے باہر نکالنا اور نظام اور دوسرے برطانوی اتحادیوں کو شکست دینا تھا۔ یہ حقیقت ہےکہ حیدرآباد، بنگال، مدراس، اور مراٹھا فورسز نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر ٹیپو کو شکست دی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت سے سپاہی کبھی برطانیہ واپس نہیں گئے اور بنگلور کو بھارتی کلچر کے فروغ کےلیے ڈویلپ کرنے میں لگ گئے۔  ٹیپو سلطان کی تعبیریں ان کے خیالات اور ترجیحات کا ایک مجموعہ معلوم ہوتی ہیں جو اس دور کی تعبیروں اور تعبیر نکالنے کے طریقوں سے بلکل مختلف تھیں۔ ایک خواب میں انہوں نے تین کھجوریں ایک سلور پلیٹ میں رکھی دیکھیں اور اس کی تعبیر انہوں ن برطانیہ، نظام اور مراٹھا طاقتوں کو شکست دینا خیال کیا اور سمجھا کہ انہیں ان تینوں طاقتوں کے خلاف فتح کی بشارت مل رہی ہے۔ تھوڑی عرصہ بعد نظام کی موت سے ان کا یقین مزید مضبوط ہو گیا۔  دوسرے خواب خواہشات کی تکمیل کا ایک دوسرا پہلو سمجھے جاتے ہیں۔ ایک چینی بادشاہ کی طرف سے سفید ہاتھی تحفہ میں ملنے کا خواب ٹیپو سلطان کو بہت پسند آیا تھا کیونکہ اسی طرح کی عزت افزائی ا لیگزینڈر دی گریٹ کےحصہ میں بھی آئی تھی اور یہ خواب اچھے مستقبل کی نوید کی علامت تھا۔ ایک اور خواب میں رگو ناتھ راو ٹیپو سلطان کو برطانوی افواج کی شکست کی خبر دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ اب برطانوی گورے بنگال سے بھی خود ہی رخصت ہو جائیں گے۔ جواب میں ٹیپو سلطان اس
مرہٹہ فوجی کو انگریزوں کو بھگانے میں مدد کی پیش کش کرتے ہیں۔ خوابوں کی دنیا صرف دنیاوی معاملات سے جڑی نہیں ہے۔ مذہبی معاملات بھی خواب سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ بہت سے خوابوں میں ٹیپو سلطان مذہبی شخصیات سے ملاقات کا ذکر کرتے ہیں جن میں حضرت بندہ نواز، شیخ سعدی، اور کعبہ کے اظہار کا خواب سب سے اہم ہیں۔ اس طرح ٹیپو سلطان کے مطابق خواب سیاسی ترجیحات، جنگوں، ادب اور مذہبی علاما ت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اسلامی میڈیسن کے شعبہ میں خوابوں کی ایک بڑی تاریخ ہے جو بو علی سینا کے کلاسک ادب میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ساری
اندونی قوتیں ایک روح کی خدمت پر معمور ہوتی ہیں لیکن روح ان سب چیزوں کو استعمال میں نہیں لا سکتی۔  کچھ لوگ جاگتے ہوئے اور کچھ سوتے ہوئے خواب دیکھتے ہیں اور یہ طریقہ اللہ کی فطرت کو دیکھنے کا ایک براہ راست ذریعہ ہے۔ یہ کچھ خاص خواب ہیں جن میں فطری
خواب بھی شامل ہیں جو ڈاکٹر دیکھتے ہیں۔ رضا کارانہ خواب انسان کے اپنے احساسات اور جذبات سے تعلق رکھتے ہیں۔ سچے خواب انہیں لوگوں کو آتے ہیں جن کی امیجینیشن سچائی پر مبنی ہوتی ہے ۔ اس طرح کے خواب، لالچی، جھوٹے اور شراب نوشی کرنے والوں کو نہیں آتے۔  بو علی سینا کا بھی یہی ماننا تھا کہ صبح کے قریب دیکھے گئے خواب سچ ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت ہیومر کی تحریک بہت کم ہو جاتی ہے۔ یہ نظریات خواب کےبارے میں ہندو اور بدھ مت کے نظریات سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ اس طرح بو علی سینا وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے خواب کا سٹرکچر، اس کی نیچر، اور مختلف نفسیاتی عوام کا خواب کے آنے میں کردار کو کھول کر بیان کرنے کےلیے فریم ورک تیار کیا۔ اسی طرح کے
نظریات ان کے ہم عصر لوگوں نے بھی متعارف کروائے جن میں سگمنڈ فراڈ کا نام قابل ذکر ہے۔  فرانز میسمر کے ھپناٹزم اور جانوروں کی میگنیٹزم کے بارے میں خیالات نے روح اور نفسیات کے معاملے کو یورپ میں زیادہ اہم اور قابل توجہ بنا دیا۔ ٹیپو اور میسمز ہم عصر تھے اور ٹیپو سلطان کو سیاست اور کلچر سے متعلق نظریات کا علم تھا جو انہوں نے فرانس سے حاصل کیا تھا۔ جین مارٹن چارکوٹ ایک مشہور فرانسیسی نیورالوجسٹ تھے جنہوں نے میسمر کے خیالات کو آگے پھیلانے کا بیڑا اٹھایا اور فراڈین ماڈل سے اس نظریہ کو مزید تقویت ملی۔  ڈسپلیسمنٹ، کنڈینسیشن، سمبلائزیشن، اور پروجیکشن کا اشارہ ان خوابوں اور تعبیروں میں ملتا ہے اور ٹٰیپو سلطان اسے ایسے ہی بیان کرتے ہیں جیسا فراد نے کچھ عرصہ قبل کیا تھا۔ خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے جو مسائل پیش آ رہے تھے ان کا تعلق نیچرل سائنس اور انڈسٹریل سوسائٹی کی گروتھ سے تھا جس کو مذہب کا زوال بھی ایک اہم وجہ تھی۔ خواب کی تعیبر کا تعلق عیسائی، اسلام اور دوسرے مذاہب سے ہوتا تھا اور نئے معاشرے میں اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ فرنچ ریوولوشن اور سیکولرائزیشن کی وجہ سے معاشرے میں پدرانہ نظام کے اوپر سوال اٹھنا شروع ہوئے اور یہ عمل سب سے پہلے یورپ میں دیکھنے کو ملا۔یہ پہلا دور تھا جب انسان کے جسمانی اور روحانی ملاپ اور ہر شخص کو ذہنی طور پر ایک جیسی سائیکی کا حامل قرار دیا گیا۔ اب **subjective experience** کو بھی انکوائری کے قابل سمجھا جانے لگا اور اس معاملے میں فراڈ کے نظریات نے ٹرینڈ
کو مزید تقویت بخشی۔ محب وطن البتہ ان لوگوں کے نفسیاتی سپیس کو صحیح سمجھ لینا یورپی دنیا کی غلامی، امپیریلزم اور کولونیلزم (اور ساتھ ہی سائنس اور میڈیسن ) کے کلچر کے دور میں ایک بہت بڑی مشکل کا باعث تھا۔ ان تمام معاشروں کو نفسیاتی طور پر بد تہذیب اور غیر محکم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ٹٰیپو اور ان کے خواب کی تعبیریں کچھ مختلف نقشہ پیش کرتی ہیں۔ ٹیپو سلطان کے مقامی اور حب الوطنی کے معاملے میں سوچ کو
نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کے بہت ہی محب وطن لوگوں جن میں فرانز میسمر، بنجامین فرینکلن، اینٹوئن لیووئزئیر جیسے لوگوں جیسی نفسیات رکھتے تھے۔ کچھ لوگ بلاوجہ انہیں ایک ظالم اور طاقت ورحکمران کے طور پر دکھاتے ہیں جو محض ایک پروپیگنڈا ہے۔ وہ ایک بہترین شخص، بہترین جنگجو اور بہترین فلاسفر تھے۔ انہیں قتل کرنے والی طاقتیں جارج 3 کی نمائندگی کر رہی تھیں جو اس وقت طاقت کے نشے میں پاگل ہو چکا تھا۔ اس کے اس پاگل پن کے نتائج آج بھی مختلف شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔

source : https://herald.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *