دیوار کیا گری ۔ ۔ ۔

1

اعجاز ذکا سید

مجھے برلن سمیت سارے مغربی ممالک ایک جیسے لگتے ہیں۔ جرمنی کے دارلحکومت میں نئی اور پرانی ثقافت اور جدت ایک ساتھ بستے ہیں ۔جس حد تک مغربی لوگ اپنے شہر کا خیال رکھتے ہیں یہ بہت سبق آموز اور دلچسپ ہے۔ ان کے لیے یہ محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ان کے ملک کا ثقافتی ورثہ ہے۔ انہوں نے ماضی کو اتنے جوش و جذبے سے سنبھال کر اور محفوظ رکھا ہے کہ ہم اس سے بلکل انجان ہیں۔ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کی طرح نہیں، جہاں تاریخ کو بھلا دیا گیا ہے اور اکثر رد کر دیا جاتا ہے۔ کوئی بھی یاد گار اور نشانی زمین بوس کرنے کی ایجازت نہیں۔ حتی کہ اپنی آئندہ نسل کے لیے تاریخ کی چھوٹی سی چیز بھی بہت پیار اور احتیاط سے رکھی گئی ہے۔جبکہ لندن اور برلین جیسے مغربی شہر بڑے فخر سے تاریخ کو جیتے اور اس میں سانس لیتے ہیں، ہندوستان کے بڑے شہر جیسے پرانا دہلی ٹکڑے ٹکڑے ہو رھا ہے اور اس کی قیمت گرتی جا رہی ہے۔ تاج محل جیسے تاریخی مقام پر عالمی سطح پر خطرناک سیاست بھی کھیلی گئی ہے۔ اگر برلین کا جائزہ لیا جائے تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو گا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں جنگ عظیم 2 کی کاروائی کا آغاز ہوا تھا۔ جابر ہٹلر کے نہ رکنے والے جبر کے زیر نظر جس نے بر اعظم کو تباہ کر دیا تھا ، تاریخ میں برلن اس انقلابی جنگ سے بہت متاثر تھا۔ جنگ میں معاشی اور ثقافتی تباہی کے علاوہ قریبا ایران کی آبادی جتنے70 ملین لوگ مارے گئے، نازی نام کے درندے کو زیر کر لیا گیا لیکن تب تک مغرب پوری طرح الٹ گیا تھا۔ اس ظالم کو گھٹنوں پر لانے کے لیے ایک ساتھ امریکہ، سویت، روس، برطانیہ حتی کہ سارے مغرب کی طاقت لگ گئی۔ اتحادی بمباری میں جرمنی پوری طرح تہس نہس ہو گیا اور ملک تقسیم ہو گیا حتی کہ
برلین کو بلکل درمیان سے تقسیم کر دیا گیا۔ اور ملین لوگ مارے گئے اور ان کی عزتیں لوٹی گئیں۔ برلن کو تقسیم کرنے والی دیوار دنیا کو بھی دو متنازعہ حصوں میں اور ناگزیر جوہری ہالوکاسٹ میں بانٹتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب یہ دیوار گری تو صرف جرمن ہی نہیں پوری دنیا نے جشن منایا تھا۔ زمیں سچ میں کھسک گئی تھی۔ سب سے اہم یہ کہ، یہ سویت معاشرتی سلطنت کے خاتمے کی شروعات کی یاد دلاتی ہے۔ یہ تبدیلی کی سونامی ہے بلکل عربی 2011 کے بہار انقلاب کی طرح ۔ تو یوں یہ سب برلن میں شروع ہوا اور یہیں پہ ختم ہوا۔ جرمنی کو کافی دیر تک
ہٹلر کے گناہوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ آج اس تباہی کے نشان اور ساری شیطانی جو یہاں سے شروع ہوئی اس کے اثرات مشکل ہی نظر آئیں گے۔ زبردست بات یہ ہے کہ آج جرمنی اپنے پیروں پر کھڑا ہے جو مٹی میں مل گیا تھا اور آج پہلی جنگ عظیم سے پہلے والا جرمنی اپنے وجود میں آگیا
ہے، بلکہ پہلے سے زیادہ طاقت ور اور ترقی یافتہ ہے۔ یہ صدیوں کی تذلیل اور سزا کے باوجود نہ صرف قائم رہا بلکہ جنگ عظیم دوم کے بعد یہ مغربی ممالک میں سے سب سے ذیادہ طاقتور اور معاشی طور پر مضبوط ملک ہے۔ البتہ جرمنی کی فوج ابھی بھی کمزور ہے اور جاپان کی طرح ابھی بھی اسے اپنی حفاظت اور دفاع کے لیے امریکہ اور NATO کی ضرورت ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ یقینا خود مختار ہو جائے گا۔ معاشی تباہی کے ساتھ ایک کے بعد ایک کامیاب EU معاشی کا دعوہ ناکابلی تسخیر معاشی قلعہ جو مغرب کے پاس تھا اچانک لڑکھڑنے لگا صرف جرمنی اس طوفان سے بچا ہوا ہے۔ حتی کہ برطانیہ کے بعد ہبروز نے بھی مغربی اتحاد سے ناتہ توڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ نہایت شائیستہ احتجاج کرتے ہویے اور ہجرت کے لیے ذیادہ پیسے لیتے ہوئے جرمنی مغرب کی گلیوں میں وہ بے ترتیبی نہیں دیکھ پایا جو 2008 سے 2009 میں کریش نے
برپہ کی تھی۔ ان کی معاشی حالت مضبوط رہی اور انہوں نے دوسروں کی مدد کے لیے ہاتھ بڑہائے رکھے۔ اس ملک نے بہت محنت کی اور مشہور جرمنی نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کئی صدیاں قربان کر دیں۔ جرمنی کے لوگ سب سے زیادہ گھنٹے کام میں وقف کرتے ہیں۔ وہ دوسرے
کئی معاملات میں بھی آگے بڑھے۔ ایسے لگتا ہے کے انہوں نے اپنے ماضی سے کچھ سیکھا ہے اور اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھا کہ اقلیت کے ساتھ نازی کے دور میں کیا ہوا۔ وہ ماضی کو نہیں بھولے۔ تو کیا وہ مائنڈ سیٹ جس نے نازی فرینکسٹین کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو موت کے
گھاٹ اتارا اب مکمل طور پر ناپید ہو چکا ہے؟ نہیں یہ آج بھی کئی جگہوں پر موجود ہے جہاں مسلمانوں کی مساجد اور یہودیوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔لیکن فار رائٹ کی گروتھ کے باوجود رائٹ ونگ کو بہت کنٹرول میں دیکھا جا سکتا ہے جس کی وجہ انجیلا مرکل کی شاندار لیڈرشپ ہے۔ اپنے ماضی کے گناہوں کو دھونے کے لیے انجیلا مرکل نے مہاجرین کو جرمنی آمد کی اجازت دی۔ 2015 میں جب شام کا مسئلہ بہت خراب ہو گیا تب جرمنی نے ایک ملین کے لگ بھگ مہاجرین کو اپنے ملک میں جگہ دی۔ لوگوں نے اپنے گھر، مذہبی عبادت گاہیں اور اپنے دل شامی
مہاجرین کےلیے کھول کر رکھ دیے۔ جب بات عام تحفظ اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کی بات ہو تو جرمنی تمام ان یورپی ممالک سے آگے ہے جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتے نہیں تھکتے۔ فرانس، آسٹریا، نیدرلینڈز جیسے ملکوں میں مہاجرین کو گالی دی جاتی ہے، خاص طور
پر مسلمان مہاجرین کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن جرمنی میں غیر ملکی شہریوں اور مہاجرین کو عزت دی جاتی ہے۔ اس ملک میں 5 ملین مسلمان آباد ہیں جن میں سے زیادہ کا تعلق ترکی سے ہے۔ جرمنی کے مسلمان اپنے مذہب اور ملک کے ساتھ جرمنی کے ساتھ بھی اتنے ہی مخلص نظر آتے ہیں۔ آپ برلن کے ہر حصہ میں حلال کھانے اورمسلمانوں کے پسندیدہ کھانوں کے ہوٹل ہیں۔ کچھ خواتین سکارف پہنے ہوئے
بھی گھومتی نظر آتی ہیں۔ 2009 کے ایک سروے کے مطابق جرمن حکومت نے او آئی سی کے ساتھ مل کر یہ ثابت کیا کہ جرمن معاشرے میں مسلمان دنیا کے کسی بھی یورپی ملک کے مقابلے میں زیادہ آزاد ہیں۔ فرانس اور برطانیہ کے بر عکس جرمنی کے مسلمان زیادہ تعلیم یافتہ اور
بہتر معاشی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب بات برداشت اور ثقافتی تنوع کی ہو تو یورپ کے پاس موقع ہے کہ جرمنی سے سبق سیکھے۔ اڈولف ہٹلر اپنی قبر میں بے سکون ہو گیا ہوگا

source : http://saudigazette.com.sa

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *