بھارتی عدالتیں اور توہین عدالت

3

گوتم بھاٹیا

پچھلے سال جب بھارت کی سپریم کورٹ ایک متنازعہ کیس کی سماعت کر رہی تھی تو ایک وکیل نے ججز کو صلاح دی کہ وہ برقعہ پہن کر باہر جائیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ یہ کوئی بہت بری تجویز نہیں تھی۔ آج بھی آپ صحافیوں اور ایڈیٹر سے پوچھیں تو وہ بتائیں گہ کہ عدلیہ کے معاملے میں وہ کھل کر رپورٹنگ نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں خوف رہتا ہے کہ کہیں توہین عدالت کا کیس اس کے خلاف نہ کھل جائے۔ دوسرے کئی معاملات کی طرح توہین عدالت کا سلسلہ بھی انگریزوں کی حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ اس وقت عدالتوں کو انتظامیہ پر نگران کی بجائے حکومت کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں بھی عدالتوں پر تنقید پر سخت نتائج بھگتنا پڑتے تھے جب کہ بادشاہوں اور پارلیمنٹ پر تنقید کا معاملہ اس کے بر عکس ہوتا تھا۔ پھر عدالتوں پر تنقید کےمعاملے کو عدالتوں کو سکینڈلائز کرنے کا نام دیا گیا۔  کولونئیل حکومتوں کے دور میں برطانیہ نے یہ کانسیپٹ ہندوستان سے لیا تھا۔ عدالت کو سکینڈلائز کرنے سے مراد یہ لیا جاتا تھا: کوئی ایسا عمل یا تحریر جو عدالت کی توہین پر مبنی ہو یا اس کی اتھارٹی کو کم کرنے والی ہو۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ تعریف ججز اپنی مرضی سے کسی بھی معاملے پر لاگو کر سکتے تھے۔  آئین بناتے وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ عدالت کی توہین کے معاملے کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے طور پر لیا جائے ۔ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 19(2) میں درج ہے۔ جب یہ تجویز اپنائی گئی تو اس پر ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ کیونکہ **contempt of court** ایک ایسی اصطلاح تھی جس کے تین مختلف معنی لیے جا سکتے تھے۔ ایک مطلب یہ ہے کہ کھلے عام عدالت کے حکم کو مسترد کر دیا جائے، عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا جائے وغیرہ۔ اسمیں کوئی متنازعہ بات نہیں ہے کہ عدالت کو پورا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ گناہ گار کو سزا دے۔ دوسرا مطلب یہ تھا کہ کوئی ایسا عمل یا بیان جاری کیا جائے جس سے عدالتی معاملات کو تعصب کا رنگ دے
دیا جائے اور انصاف کے عمل پر برا اثر رکھنے والا ہو۔ تیسرا وہی جو ہم سجھتے ہیں یعنی عدالت کو سکینڈلائز کیا جائے۔  آئین کا مسودہ تیار کرنے والے ان میں سے ایک تعریف پر متفق نہیں تھے اور یہ ظاہر نہیں کر پا رہے تھے کہ آرٹیکل 19 (2) کس تعریف کےلیے استعمال ہوتا ہے۔
بہت سے لوگوں کے تحفظات یہ تھے کہ اگر کورٹ کو سکینڈلائز کرنا ایک قابل سزا جرم ہے تو یہ چیز اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر آر کے سیدوا کا کہنا تھا کہ ججز کے سینگ نہیں ہوتے۔ وہ بھی انسان ہوتے ہیں۔ ان سے غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔ اس معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک ہی اصطلاح یعنی توہین عدالت کو ہی اختیار کر لیا گیا۔  بہت جلد عدالت حرکت میں آئی اور یہ واضح کر دیا کہ سکینڈلائز کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کی توہین بھی کی گئی ہے۔آزادی کے کچھ عرصہ بعد ہی سپریم کورٹ نے موقف اختیار کیا کہ عدلیہ پر حملہ عوام کا عدلیہ پر بھروسہ ختم کرنے کے برابر ہے اوراس سے بڑی شرارت کوئی نہیں ہو سکتی اس لیے یہ رویہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ہو گا۔ مختصر یہ کہ سپریم کورٹ نے سکینڈلائز کرنے اور توہین عدالت میں کنکیشن ڈھونڈ لیا اور اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔ اس کنیکشن کو مزید وسعت اس وقت دی گئی جب ای ایم ایس نامبودی ری پیڈ کے کیس میں کیرالہ کے ایک کمیونسٹ لیڈر نے سر عام تقریر کرتے ہوئے کارل مارکس اور اینگلز کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ عدلیہ ایک مخصوص طبقہ کو دبائے رکھنے کا آلہ ہے۔ اگرچہ مقرر کا اصرار تھا کہ انہوں نے کسی خاص عدالت یا جج کے خلاف تبصرہ نہیں کیا پھر بھی انہیں توہین عدالت کی سزا بھگتنا پڑی۔ اس فیصلہ میں سپریم کورٹ کا موقف یہ تھا عدلیہ یا ججوں پر حملہ عوام کے اندر عدلیہ کے خلاف جذبات بھڑکانے کے مترادف ہے اور اس سے قانون اور عدالتوں کی عملداری متاثر ہوتی ہے۔ عدلیہ سے سبق سیکھتے ہوئے بھارتی پارلیمنٹ نے 1971 میں توہین عدالت ایکٹ پاس کیا جس میں عدالت کو سکینڈلائز کرنے کے عمل ایک قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ اس کے بعد عدالت نے کچھ ایسے معاملات پر فیصلے دئیے جو عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کی تعریف پر پورا اترتے تھے۔ 2002 میں یہ نظریہ مزید اہمیت اختیار کر گیا جب اروندھتی رائے کو توہین عدالت کی سزا دی گئی۔ متنازعہ مصنفہ کا کہنا تھا کہ عدالت اختلاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کرنے میں ملوث ہے۔ حیرت انگیز طور پر انہیں عدالت کو سکینڈلائز کرنے پر سزا دی گئ۔ یہ دیکھ لینے کے بعد کہ عدالت کا امیج کسی طرح خراب نہیں کیا جا سکتا، بینچ نے یہ موقف اختیار کیا کہ عوام کو عدلیہ کے خلاف بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے ملک کے سماجی اور معاشی حالات کو دیکھنا لازمی ہوتا ہے اور بھارت کے زیادہ تر عوام ان پڑھ، غریب، اور جاہل ہیں اور انہیں باسانی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہی عوام عدلیہ پر بھر پور اعتماد کرتے ہیں۔ اس وجہ سے عدالت نے موقف اپنایا کہ اس چیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ فرد کی کسی تقریر یا بیان کی تفتیش کر کے یہ معلم کیا جائے کہ انہوں نے قانون توڑا ہے
یا نہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا: قانون اس چیز کا نام ہے کہ تیر چلانے والے کے خلاف کاروائی کی جائے چاہے تیر نشانے پر لگا ہو یا نہ لگا ہو۔ موجودہ کیس میں یہ واضح ہے کہ مدعی علیہ نے تیر چلایا یعنی عدالت کو بدنام کرنے اور عوام کا عدالت پر اعتبار ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس طرح کے اقدام کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی تو نتائج بہت بھیانک ہوں گے، قانون کی عملداری متاثر ہو گی اور معاشرہ بد تہذیبی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔  اگر معاملہ اتنا ہی سنجیدہ ہے تو رول آف لا کی تباہی جو خود تہذیب کی تباہی کی بنیاد ثابت ہوتی ہے، کا سلسلہ شروع ہو گا اس کے بعد کون کسی عدالت کو اس سب کا ذمہ دار قرار دے گا؟ 2006 میں پارلیمنٹ نے توہین عدالت ایکٹ میں ترمیم کی اور اسے صرف ایسے حالات تک محدود کر دیا جس میں انصاف کے معاملے میں مداخلت کی واضح ثبوت موجود ہوں۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے کوئی خاص فرق پڑا ہے یا نہیں۔ کیرالہ کے ایک قاون دان کے ججز کو بے شرم اور بے وقوف کہنے کے واقعہ کے بعد جو نوٹس لیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ توہین عدالت کی کاروائی کا مطلب ہے کہ ججز خود غرضی پر مشتمل فیصلے کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ دوسرا، توہین عدالت کےلیے بہت ہی اعلی درجے کا معیار چاہیے جو ابھی تک بھارتی عدالتیں حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ توہین عدالت کے معاملے میں عدالت کو چاہیے کہ کسی بغض اور حسد کے بغیر کوئی ایسا فیصلہ سنائے جسے مستقبل کےلیے بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *