دیت کا قانون اور ریاست

4

نازش بروہی

ہر چیز کا سولیوشن سیاق و سباق سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر سیاق و سباق کو نظر انداز کیا جائے تو سولیوشن ایک پرابلم بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے لوگ پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کنوئیں کھودتے تھے لیکن اب اگر وہ کنواں کھودنے لگیں تو فائبر آپٹک کیبلز کو تباہ کر کے، بجلی اور سینٹری کا نظام درہم برہم کر کے پورے علاقے کے لوگوں کے لیے مسئلہ پیدا کریں گے۔ یہی لاجک ریاست پر بھی اپلائی کریں۔ ریاستی نظام سے قبل لوگ خود ہی مسائل حل کرتے تھے،انصاف کی فراہمی یقینی بناتے تھے، لوگوں کے بیچ جھگڑے ختم کرواتے تھے اور جرگہ سسٹم کے ذریعے معاملات کا حل نکالتے تھے۔ ریاست کے قیام کا مقصد ہی ایک غیر جانبدار طریقے سے ان معاملات کا حل نکالنا تھا۔  جب ریاست کسی معاملے کو اپنے فرائض میں شامل کر لیتی ہے تو باقی تمام طرح کے جگاڑ اور طریقے غیر قانونی قرار پاتے ہیں کیونکہ ایسے تمام طریقے ریاست کی رٹ کو چیلنج تصور کیے جاتے ہیں۔ ریاست کے قیام کو جواز اسی لیے ملتا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس دوران کسی بھی شہری کا قتل ریاست کے خلاف جرم شمار ہوتا ہے۔ ریاست کے پاس گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے اداروں کو اپنے طریقے اختیار کرنے کی اجازت دے۔  یہی حال قصاص اور دیت کا ہے۔ قصاص کا قانون مظلوم کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے زخم اور تکلیف کا بدلہ ظالم سے لے سکے۔ اس طرح کا کوئی فیصلہ کبھی کسی عدالت نے نہیں دیا۔ دیت کے قانون کے تحت مظلوم شخص یا اس کے ورثا کے پاس حق
ہوتا ہے کہ وہ خون بہا لے کر مجرم کو معاف کر دے۔ اس قانون کے اطلاق کے بعد ریاست کے ہاتھ سے نکل کر فیصلہ صرف ملزم اور مظلوم کے پاس آ جاتا ہے۔ پھر مظلوم کی فیملی یا ظالم کے سرپرست ہی اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرتے ہیں۔ کسی کو بھی قتل پر معاف کرنے کا اختیار دینا خواتین کےلیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان میں لڑکی لڑکے کی شادی کروانے کے بعد بہت سی خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے اور خاتون کے گھر والے ظالم کو رقم کے بدلے معاف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بہت سے کیسز میں ایک لڑکے کو اپنی بہن کو قتل
کرنے کے بعد والدین سے معافی مل گئی یا کسی ماموں یا چاچو نے اپنے بھتیجے کو معاف کر دیا۔ کئی دھائیوں تک اس طرح کی ناانصافی کے بعد اب یہ بحث شروع ہوئی ہے کہ کن صورتووں میں دیت کا قانون لاگو ہو سکتا ہے اور اس قانون میں کیا تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ معاملہ اس وقت تک عوام کو سمجھ نہیں آیا جب کہ دو بڑے واقعات رونما نہیں ہوئے۔ پہلا واقعہ تب پیش آیا جب ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی شہریوں کو قتل کیا اور اسے دیت کے بدلے چھوڑ دیا گیا۔ دوسرے واقعہ میں شاہ رخ جتوئی نے شاہ زیب کو قتل کرنے کے بعد دیت کے ذریعے خلاصی پائی۔ ان
دونوں معاملات میں یہ واضح ہو گیا کہ دیت کے قانون کو امیر لوگ اپنے جرائم چھپانے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن عوام اس قانون کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ مذہبی معاملہ ہے اور جذبات بڑھکانے کا باعث بن سکتا ہے۔  لیکن یہ قانون 7 ویں صدی ہجری کے واقعات کا ایک مرر ویو پیش کرتا ہے جب لوگ قبائل میں منقسم ہوا کرتے تھے۔ قبائل کے سردار متوازی سلوک کرتے ہوئے اس قانون کو استعمال کرتے تھے اور کوئی غیر جانبدار شخص انصاف کےلیے موجود نہ ہوتا تھا۔ اس قانون کا مقصد خون خرابے کو بڑھنے سے روکنا ہوتا تھا۔ یہ قانون انگلینڈ میں
۔ورگلڈ۔، ،آئرلینڈ میں ایرکفائن، روس میں ویرا، اور پولینڈ میں گلوسزیزنا کے نام سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ فرانس، نیدرلینڈ، بیلجئم، اور رومی سلطنت میں یہ 12ویں صدی تک رائج رہا۔  بہت سے مذہبی سکالرز نے اس قانون کی کمزوریوں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جیسا کہ نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ طاہر واسطی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کیسے یہ قانون پاکستان میں انصاف کے قتل کےلیے
استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اعدادوشمار کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اس قانون کے پاس ہونے کےبعد پاکستان میں قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور سزاوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ کی سزا دینے کی شرح جو 1984 میں 79 فیصد تھی کم ہو کر2000ء میں صرف 35 فیصد رہ گئی ہے۔  اس قانون کا سیاسی استعمال بھی پاکستان کی سیاست میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جب جنرل ضیا نے نظام اسلام پروگرام کے تحت ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا تو دیت کے قانون کو نظر انداز کیے رکھا تا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس قانون کے تحت پھانسی سے بچ نہ پائیں۔ اس قانون کو ایک آرڈیننس کے ذریعے 1990 میں لاگو کرنے کے بعد 1997 میں پاس کیا گیا۔ ہمارے ہاں ایسا کلچر فروغ پا رہا ہے جس میں ۔صلح صفائی۔ پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور پولیس اور ریاستی ادارے کوشش کرتے ہیں کہ ان کی مداخلت کے بغیر
مسئلہ حل کر لیا جائے۔ اس سے ان کے خیال میں کرائم ریکارڈ میں کمی واقع ہوتی ہے اور تحقیق اور انصاف کے معاملوں میں الجھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ ریاستی ادارے طاقتور پارٹی کو اپنے تحفظ کی قیمت ادا کر کے بھاگ نکلنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک حیرت انگیز صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ ریاست چوری اور ڈکیتی کے معاملے میں تو انصاف دلانے کی کوشش کرتی ہے لیکن قتل کے معاملے میں کنارہ کر لیتی ہے اور سارہ معاملہ مقتول کے گھر والوں کےسر پر ڈال دیتی ہے۔ اس قانون میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ دیت کا معاملہ اس وقت تک قابل عمل نہ سمجھا جائے جب تک عدالت فیصلہ نہیں سنا دیتی تا کہ مقتول کے ورثا اپنے پورے اختیار سے دیت قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔ سب سے بڑا ایشو نظام کا ہے۔ دیت کا قانون ایسے کیسز میں استعمال نہیں ہو سکتا جہاں مجرم کے فعل سے خوف، گڑ بڑ اور معاشرے میں بد انتظامی پیدا ہو یعنی جو فعل فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہو۔ یہ بات البتہ قابل بحث ہے کہ ریاست کی غیر موجودگی میں ہی معاشرے میں گڑ بڑ اور بد امنی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ فاٹا اور سندھ کے علاقے کچھا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں بھی ریاست منہ موڑ لیتی ہے، بد امنی شروع ہو جاتی ہے۔ دیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ قانون تب لاگو ہوتا ہے جب ریاست اس سے کنارہ کش ہو جاتی ہے۔ ایسا کرنے سے عوام کا قانون سے
اعتبار متزلزل ہو جاتا ہے اس لیے موجودہ حالات میں کسی طرح دیت کے قانون کو لاگو کرنا سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔ جب کسی معاملے کو مذہبی رنگ دے دیا جائے تو اس پر بحث کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔قصاص اور دیت کے کے قوانین فیڈرل شریعت کورٹ کی طرف سے اصرار کے بعد آئین میں شامل کیے گئے تھے۔ چاہے معاملہ پارلیمنٹیرین کا ہو، بیورو کریٹس کا ہو یا آرمڈ فورسز کا، سب کے سب یہ مانتے ہیں کہ جو فیض آباد میں واقعہ ہوتا ہے وہ صرف فیض آباد تک محدود نہیں رہتا۔ بات صرف احتجاج ختم کرنے اور رائٹ ونگ کے ساتھ ہاتھ ملانے کی نہیں رہ جاتی خاص طور پر اس وقت جب ریاست کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہوں۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *