ن لیگ نے سپیڈ پکڑ لی

abbas nasir

عباس ناصر

مریم نواز نے نہال ہاشمی کو سزا دئیے جانے کےبعد ان کی تصویر اپنی ڈی پی بنا لی۔ نہال ہاشمی کو عدالت نے توہین عدالت کے جرم میں ایک ماہ قید، 50 ہزار روپےجرمانہ اور سینٹ سے برطرفی کی سزا سنائی۔ اب مریم نواز کی پروفائل دیکھنے والے 43 لاکھ فالوورز مریم کی مسکراہٹ کی جگہ نہال ہاشمی کو تقریر کرتا دیکھتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے معاملہ میں ن لیگ کی مہم کے پہلے فیز میں جب عدالت نے نواز شریف کونا اہل کرنے کی بجائے مزید تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ سنایا تو پارٹی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی حوصلہ افزائی کی اورعدالت کے احکامات تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔  ن لیگ کے تحفظات میں اس وقت اضافہ ہوا جب جے آئی ٹی میں ان کی جماعت کے مخالفین کو شامل کیا گیا لیکن پھر بھی نواز شریف، اسحاق ڈار اور نواز کے بیٹوں نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔  لیکن جب عدالت نے نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر وزارت عظمی کے عہدے سے علیحدہ کر دیا تو نواز شریف نے سیاسی شہید بننے کے لیے ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کرنے اور احتجاج کی حکمت عملی اپنا لی۔ وہ عوام کو باور کروانے کی کوشش کرنے لگے کہ ان کے خلاف عدلیہ نے نا انصافی پر مبنی فیصلے سنائے ہیں اور اسکے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے۔ وہ اپنی اس چال میں کامیاب رہے اور ان کے جلسوں میں عوام کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہونے لگا۔ اگرچہ شہباز شریف اور چوہدری نثار کا موقف تھا کہ اداروں سے چپقلش کی پالیسی غلط فیصلہ ثابت ہو گی لیکن نواز اور ان کی بیٹی اور جانشین مریم نواز نے اس موقف کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا۔ لیکن یہ شک کیا جا رہا ہے کہ نہال ہاشمی نے جو خطرناک بیان دیا تھا جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں مانا جا سکتا یہ انہوں نے کچھ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دیا تھا جو اس میٹنگ میں پارٹی کے لیے بہت پر جوش تھے اور یہ تقریر میڈیا کے سامنے بھی نہیں کی گئی تھی۔ ہاشمی نے بیان اس وقت دیا جب جواز شریف کے بیٹے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے تھے اورن لیگ کو اپنے حق میں فیصلہ آنے کی امید تھی۔ لیکن دنیا بھر میں آج کل سمارٹ فون نے سیاستدانوں کو بہت پریشان کر رکھا ہے۔ یہی نہال ہاشمی کے ساتھ ہوا۔  یہ کلپ پہلے سوشل میڈیا پر شئیر ہوا اور پھر ٹی وی چینلز نے بھی اسے بہت اہمیت دے کر اسے سپریم کورٹ کے نوٹس میں لے آئے۔ اس وقت ن لیگ ٹکراو نہیں چاہتی تھی اس لیے نہال ہاشمی کو پارٹی رکنیت سے محروم کر دیا گیا اور انہیں سینٹ کی سیٹ سے بھی مستعفی ہونے کا کہا گیا۔  اب اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم نے مریم نواز
کی رہنمائی میں مہم تیز کر دی ہے۔ دوسری طرف وزرا کو توہین عدالت کو نوٹس بھیج کر عدالت یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہو کسی طرح پریشر میں نہیں آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یا ان وزرا کو بھی معافی مانگنے کے باوجود نہال ہاشمی جیسی سز ملے گی یا پھر وہ معافی نہیں مانگیں گے؟  ن لیگ کے مخافین جن میں بلاول بھٹو سب سے اہم شخصیت ہیں انہوں نے سیاستدانوں کو توہین عدالت پر سزا دینے پر سپریم کورٹ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر قانون کو مکمل طور پر لاگو کرنا ہے تو پرویز مشرف کو سزا دی جائے جس نے 2007 میں ججز کو نظر بند کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر تحریک لبیک کے رہنما خادم رضوی کی ویڈیو بھی شئیر کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اسے بھی توہین عدالت کی سزا سنائی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ صرف منتخب سیاسی نمائندوں پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہے اور مذہبی جماعتوں کےلیڈرز یا سابقہ حکمرانوں کے خلاف کاروائی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس سے ن لیگ یہ مراد لے رہی ہے کہ نیب میں جو کیسز کھلے ہیں ان میں بھی اس کی حمایت میں کوئی فیصلہ نہیں آئے گا سیاسی کامیابی کے لیے اسے اپنی پاپولر سپورٹ پر ھی انحصار کرنا پڑے گا۔  جیسا کہ بلوچستان میں سینیٹ الیکشن سے صرف ۸ہفتے قبل حکومت گرائی گئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کی پریشانی بجا ہے۔ ایسا کونسا سیاسی تجزیہ نگار ہے جس نے ملک بھر میں اسٹیبلشمنٹ کے ووٹ کی تقسیم کے بارے میں خفیہ جدو جہد کو نظر انداز کیا ہو چاہے معاملہ بلوچستان کا ہو، کراچی کا ہو یا ملک کے کسی اور حصے کا۔ ہر جگہ پر سیاسی ووٹ تقسیم کی انجینئرنگ کا کھیل جاری دکھائی دیتا ہے۔  ن لیگ کو یہ ٹھیک لگتا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ عوام کی عدالت میں لے جائٰیں اور اس کے لیے بہت اچھی سیاسی مہم چلائیں لیکن اس دوران انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ وہ اس قدر حدود نہ پھلانگیں کہ پورا معاملہ ہی بگڑ جائے۔  اس کے لیے سب سے بڑا چانس پنجاب میں جیت کی صورت میں ہو گا اور اس کےس اتھ کے
پی کے ہزارہ کے علاقے میں بھی اسے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہو گی اس لیے اس پارٹی کو چاہیےکہ کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے الیکشن ملتوی ہونے کے چانسز پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ اس کا کیس ایسے ہی ثابت ہوا جیساخیال کیا جا رہا ہے تو یہ ایک مختلف معاملہ ہو گا۔ کیا نواز کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ حکومت میں ہوتے ہوئے اپوزیشن کا کردار ادا کر کے پارٹیوں سے مذاکرات کے ذریعے نواز شریف کو
واپس اقتدار میں لایا جا سکے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *