عاصمہ جہانگیر کا بلوچستان کے بارے میں بہادرانہ اور واضح موقف

2

ملک سراج اکبر

عاصمہ جہانگیر کی موت پر سابقہ وزیر اعلی بلوچستان اختر مینگل نے ٹویٹ میں اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا: بلوچستان ہمیشہ آپ کا مقروض رہے گا۔ ان کا یہ پیغام ہر بلوچی کے دل کی آواز تھا۔ تمام بلوچی عوام پاکستان بھر میں اگر کسی شخصیت کی بے پناہ عزت اور اعتبار کرتے تھے تو وہ عاصمہ جہانگیر تھیں۔  انسانی حقوق کے ہر فیلڈ میں شاندار خدمات سر انجام دینے کے باوجود عاصمہ کا سب سے اہم کارنامہ بلوچستان میں تمام گروپس اور پارٹیوں کو مسئلہ کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو سپیس دیا جائے، ان کا اعتماد حاصل کیا جائے اور پر امن طریقے سے مسئلہ حل کیا جائے۔  اس انگیجمنٹ کی وجہ سے انہیں ایک غیر جانبدار تفتیشی افسر اور کوالیفائیڈ ثالث کا سٹیٹس دیا گیا۔ ان کی پالیسی کو نہ صرف ناراض بلوچوں بلکہ پاکستان کےد وسرے علاقہ جات میں بھی بہت سے لوگوں نے سراہا۔ حکمرانوں سے بلوچستان کے حوالے سے بات کرنا ایک بہادر شخص ہی کے لیے ممکن ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایسی شخصیت تھیں جو آگے بڑھیں اور حکمرانوں سے ڈرے بنا بلوچستان کی حقیقت کھول کر بیان کی۔ جب بلوچستان میں مشرف حکومت کے دروان بلوچستان میں حالات بگڑ گئے اور آپریشن کی نوبت آ گئی تو عاصمہ 2005 میں ایک اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ساتھ بلوچستان پہنچیں۔ جس طرح سے ناراض بلوچوں نے عاصمہ سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلوچی عوام کو ان پر کتنا اعتبار تھا۔ اس وفد نے مظلوم سٹیک ہولڈرز، سینئر حکومتی افسران اور کچھ فوجی افسران سے ملاقات کی جس میں تمام پارٹیوں کو شدت پسندی ترک کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر ابھارا گیا۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں خوفناک انکشافات کیے گئے تھے جن میں لوگوں کے لاپتہ کیے جانے، تشدد کے واقعات اور بلوچ عوام کے دوسرے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا تھا کہ بلوچ عوام گوادر پورٹ میں حصہ دار بنائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک معمہ ہے۔ عاصمہ باقاعدگی سے بلوچستان جا کر عوام کی رائے لیتی تھیں اور غیر جانبدارانہ رپورٹ کے ذریعے ارباب اختیار کو خبردار کرتی تھیں کہ اس صورتحال کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ 2009 میں وہ ایک ہفتہ بلوچستان رہیں اور وہاں تمام سٹیک ہولڈرز
سے ملاقاتیں کیں جن میں بلوچ نیشنلسٹ اور حکومتی اہلکار شامل تھے۔ انہیں صورتحال میں مثبت تبدیلی نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کیونکہ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پہلے کی طرح جاری تھیں۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے بغیر کسی گھبراہٹ کے کہا: فیصلے اب بھی فوج کر رہی ہے اور طاقت ابھی انہیں ہاتھوں میں ہے جن کے ہاتھ میں اس حکومت کے قیام سے پہلے تھی۔ صوبائی حکومت کو بہت سے معاملات میں بے اختیار رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پی پی حکومت کے دوران لاپتہ ہونے کے واقعات جاری رہے۔ اگر بلوچستان کو جلد ڈی ملٹرائز نہ کیا گیا تو ملک کو بعد میں پچھتانا پڑے گا۔  انہیں اس بات سے بہت ملال تھا کہ بلوچستان کے صوبہ کو ملٹری کیوں ہینڈل کر رہی ے۔ یہ تو سب صحافیوں اور حقوق کے علمبرداروں کو معلوم تھا لیکن اس پر آواز اٹھانے کے لیے عاصمہ جہانگیر کی طرح بہادر اور نڈر ہونا لازمی تھا۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شئیر ہونے والے ایک کلپ میں انہیں آرمی کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔  ان کا موقف تھا کہ اسلام آباد بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح استعمال کر رہا ہے یہاں کے وسائل لوٹ رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کو ان کا حصہ نہیں دے رہا اور غیر قانونی طور پر بلوچ ایکٹوسٹوں کو سرکاری نگرانی میں اغوا کر کے تشدد کا
نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم خود بلوچوں کو غدار اور اینٹی نیشنل کہنے لگیں تو وہ کیونکر ہمارے ساتھ رہنا چاہیں گے؟  انہوں نے کہا کہ ہم نے مشرقی پاکستان کھو کر بھی کچھ سبق نہیں سیکھا اور اب وہی غلطیاں ہم بلوچستان میں دہرا رہے ہیں۔ یہاں بھی ایک سیاسی مسئلے کو فوجی
مسئلہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے قبائل کو آپس میں لڑا رہی ہے، صوبے کے وسائل لوٹ رہی ہے اور لوکل آبادی کو بندوق کے زور پر خاموشی اختیار کیے رکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہماری کالونی نہیں ہے ہمیں یہاں کے لوگوں کو عزت دینا ہو گی۔ جب وہ 2013 میں دوبارہ بلوچستان آئیں اور بلوچستانی عوام کو موقع دیئے جانے کی ایک رپورٹ پیش کی تو انہیں سٹیٹس کو
کے مسائل سے نمٹنا پڑا۔ ان کا موقف تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی صوبے میں اقتدار حقیقی معنی میں عوام تک منتقل نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر فرنٹئیر کارپس کے انسپیکٹر جنرل نے ایچ آر سی پی کے وفد سے بار بار درخواست کے باوجود ملاقات سے انکار کر دیا۔ عاصمہ نے یاد دہانی کروائی کہ صوبے میں تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایچ آر سی پی کی تمام تجاویز کونظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے برا کانٹا ہے جو بلوچستان کے عوام میں ایک نفرت بھڑکانے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے اس ایشو کاذمہ دار چند ریاستی اداروں پر لگایا اور کہا کہ یہ ادارے آئینی اختیارات سے تجاوز کر کے اس صوبے میں آپریشن کر رہے ہیں۔ عاصمہ کی شکل میں بلوچستان ایک بڑا ہمدرد دوست کھو دیا۔ عاصمہ اکثر بلوچستان جاتیں اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی تھیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھیں جو بلوچی عوام کو جمہوری حقوق دلوانا چاہتی تھیں۔ وہ بلوچستان اور باقی ملک کے بیچ ایک ثالث کا کردار ادا کرتی اور بلوچیوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کرتی رہیں۔ اگرچہ عاصمہ بلوچستان مسئلہ کا مستقل حل جیتے جی نہ دیکھ
سکیں لیکن انہوں نے باقی لوگوں کے لیے شاندار مثال قائم کی جو آگے جا کر اس مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن بنا سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *