وہ عاصمہ کیسے بنی؟

ia rehman

ان کی موت کی خبر میڈیا کے تمام نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑی خبر تھی۔ دنیا بھر سے لیڈرز نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ ملک بھر میں لاکھوں لوگ ان کے بچھڑے کے غم میں نڈھال ہوئے کیونکہ ان کے حقوق کےلیے اٹھنے والی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے ان کے نماز جنازہ کے موقع پر کہا کہ جتنا انہوں نے پاکستانیوں کو متاثر کیا اتنا کسی اور پاکستانی نے نہیں کیا۔ عاصمہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟ کچھ لوگوں نے عاصمہ کے کردار کو مختصر الفاظ میں جیسے، بہادری، کمٹمنٹ، لیڈر شپ، پیار جیسے الفاظ میں قید کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک لفظ عاصمہ کے کردار کو پوری طرح بیان کرنے کی وسعت نہیں رکھتا۔ یہ سارے الفاظ بھی ان کی شخصیت کو بیان کرنے میں ناکافی ہیں۔ جرآت، بہت سے پلیٹ فارم سے انہیں میل کے ذریعے اور براہ راست دھمکایا گیا۔ کچھ نوجوانوں نے ان کے گھر کو گھیر لیا اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ بلوچستان میں ان کی گاڑٰی پر فائرنگ کی گئی۔ انہیں دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ ہونے پر بھی خبر دار کیا گیا۔ لیکن کوئی چیز انہیں انسانی حقوق کےلیے لڑنے سے روک نہیں پائی۔ جرات کا مطلب ان کے مطابق صرف موت کے خوف کا نہ ہونا نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب ہر مشکل و آسان صورتحال میں سچ بولنے کی قابلیت ہے۔ اس کا مطلب ظلم، ڈکٹیٹرشپ اور نا انصافی کے خلاف بغیر نتائج کی پرواہ کیے مزاحمت کرنا ہے۔ اس کا مطلب ساتھی پاکستانی شہریوں کے لیے مسلسل جدو جہد کرنا ہے۔ کمٹمنٹ: عاصمہ کی جرات وہ کمٹمنٹ تھی جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے اپنے آپ سے کر رکھی تھی۔ انہوں نے صامیہ کی مرضی کے بغیر شادی کا کیس لڑا اور دوسری کئی لڑکیوں کو زبردستی کی شادی سے بچایا۔ جگنو محسن دعوی کرتی ہیں کہ ان کے علاقہ کی خواتین اپنے خاوند کو یوں کہہ کر اچھا رویہ رکھنے پر ابھارتی ہیں کہ اگر کوئی ظلم ہوا تو وہ عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کریں گی۔ انہوں نے لاہور کی مال روڈ پر ضیا کی پولیس کے سامنے مزاحمت کی اور کئی مواقع پر خواتین کے حقوق کے لیے اور ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاٹھی چارج کا بھی سامنا کیا۔ اگرچہ وہ عام طور پر خواتین کےلیے لڑتی تھیں لیکن مجبور مردوں کو بھی انہوں نے کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے بابا جان، اوکاڑہ کے مہر ستار کے کیس لڑے جو قانون کے غلط استعمال کے مظلوم تھے۔ انہوں نے پنجاب کے اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے اور سندھ کےذراعت سے منسلک مزدوروں کے کیسز لڑےاور 2007 سے اب تک گم شدہ افراد کی بازیابی کےلیے لڑتی رہیں۔ پچھلے کئی سال سے وہ عوام کو جمہوری حقوق دلوانے، رول آف لاء، اور
غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف جدو جہد میں مصروف تھیں۔  انہوں نے اتھاریٹییرینازم کی مخالفت اس وقت شروع کی جب ان کے والد کو جیل میں
ڈال دیا گیا تھا اور وہ ابھی ٹین ایجر تھیں۔ پہلی بار قانون کے ریکارڈ میں ان کا نام ایک پٹیشنر کی حیثیت سے عاصمہ جیلانی کے کیس میں شامل کیا گیا۔ یہ پہلا
کیس تھا جس میں ایک ڈکٹیٹر کو غاصب قرار دیا گیا۔ پاکستان میں اتھارٹیرینازم کا اتنی بہادری سے مقابلہ کسی اور شخص نے نہیں کیا۔  جمہوریت کے دفاع کی اتنی مضبوط کمٹمنٹ کسی ایسے شخص کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے جو اپنے ویژن کے لحاظ سے بلکل واضح ہو اور ناقدین کے حملوں کو سہنے کےلیے تیار ہو۔ قانون اور عدلیہ کی خود مختاری میں مکمل یقین رکھنے والی عاصمہ پرویز مشرف کے خلاف شروع ہونے والی وکلا تحریک میں پیش پیش تھیں۔ تحریک کی کامیابی کے بعد نوجوان وکلا نے جو طریقہ اختیار کیا اس سے عاصمہ بہت مایوس ہوئیں لیکن انہوں نے اس مایوسی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔  لیڈر شپ۔ کئی سال پہلے شاہد کاردار کے مطابق ڈاکٹر مبشر حسن جو ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ تھے نے اعلان کیا کہ عاصمہ کے اندر وہ قابلیتیں موجود ہیں کہ وہ ریاست کو وااپس درست ڈگر پر ڈال سکیں۔ یہ رائے عاصمہ کے ایچ آر سی پی کے قیام کے فیصلے کی روشنی میں وجود پذیر ہوئی تھی۔ عاصمہ نے نہ صرف اس تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ چھ سال تک اس کی سربراہی کے فرائض بھی سر انجام دیے اور اس کے بعد بھی وقتا فوقتا اس تنظیم کو کام کرنے کے قابل بناناے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا سلسلسہ آخری وقت تک جاری رکھا۔  ان کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ منیر ملک، سبیح الدین اور دوراب پٹٰیل جیسے لوگوں کو اس کمیشن کے قیام کے لیے آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ دوراب پٹیل کو انہوں نے چئیر مین کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہوں کے کمیشن کے کام کو ہمیشہ تمام لوگوں کی رائے کے مطابق جاری رکھنے کے قابل بنایا اور بنیادی قواعد و ضوابط پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ انہوں نے کمیشن میں کچھ بہترین جورسٹ، سینئر وکلا اور ٹریڈ یونین لیڈرز کو بھی پاکستان کے ہر صوبہ میں سے نمائندگی کا خیال رکھتے ہوئے شامل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمیشن کے صوبائی اور جمہوری کریکٹر کو بھی قائم رکھا۔  عاصمہ نے پاکستان بار ایسوسی ایشن کے ذریعے بھی اپنی لیڈر شپ کی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ انہوں نے وکلا کے ویلفئر کے لیے جو معیار اور اصول متعارف کروائے وہ ایک عرصہ دراز تک یاد رکھے جائیں گے۔ ایک سینئر ساتھی اور پاکستان بار کونسل کے لیڈر کا کہنا ہے کہ جب تک عاصمہ بار کی صدر تھی، انہیں یقین تھا کہ
اگر کوئی مسئلہ ہو گا تو وہ درست کر لیا جائے گا۔  عاصمہ کی ایسی خدمات جنہیں کبھی یاد نہیں رکھا گیا میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک یو این سپیشل ریپرٹائر کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان کے وقار کو بلندیوں تک پہنچایا اور نہ صرف بین الاقوامی کونسل بلکہ دنیا بھر کے مخلتف ممالک میں پاکستان کی مثبت پہچان بنائی۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ کی طرف سے چھوڑا گیا خلا کبھی پر نہ ہو پائے گا۔ یہ واقعی بھرنا مشکل ہو گا لیکن عاصمہ نے امید کا ایک ورثہ چھوڑا ہے۔ کیا معلوم ان کے زیر سایہ کتنے طالب علم اور طالبات ان سے سیکھتے رہے انسپائر ہوئے ہوں اور بہت جلد اپنے آپ کو عاصمہ جیسا نڈر، مظبوط
اور ہمدرد انسان بنا لیں اور دنیا بھر میں کئی عاصمہ مجبوروں کےلیے حقوق کے لیے ایک بار پھر آواز بلند کرتی نظر آئیں

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *