امریکیوں کی پانچ بری باتیں

گھر کو واپسی ہے۔ عجیب سی بے چینی ہے۔ نامعلوم سی کشش ہے!
ہم میں اور امریکیوں میں کیا فرق ہے جس کی وجہ سے امریکی ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ پہلا فرق ہے کام، کام اور بس کام۔ قائد اعظم کا قول انہوں نے پلے سے باندھ رکھا ہے، کام کے وقت وہ کوئی دوسرا کام نہیں کرتے، صبح اِن کی نوکری کا وقت شروع ہوتا ہے تو اُس سے ٹھیک پانچ منٹ پہلے تک وہ ہر چیز ٹھیک ٹھاک کر چکے ہوتے ہیں، نوابی اِن میں نام کو نہیں، کام میں کوئی شرم نہیں، کسی پارک کا ٹکٹ لینے جائیں تو معلوم ہوگا کہ پانچ سات لوگوں نے تمام انتظام سنبھال رکھا ہے، وہی ٹکٹ دیتے ہیں، کافی بناتے ہیں اور باتھ روم کی صفائی کرتے ہیں، بس چلانے والا ڈرائیور ٹکٹ بھی چیک کرتا ہے، نئے ٹکٹ کے پیسے بھی وصول کرتا ہے اور راستہ پوچھنے پر لوگوں کی مکمل رہنمائی بھی کرتا ہے۔ ادھر اپنے ہاں ہم پورے نواب ہیں، دفتر کا وقت اگر نو بجے ہے تو ہم دس بجے آئیں گے، گیارہ بجے تک اخبار پڑھیں گے، چائے پئیں گے اور اُس کے بعد اگر موڈ ہوا تو کوئی فائل بھی دیکھ لیں گے، اس دوران بارہ سے تین بجے تک نماز اور کھانے کا وقفہ بھی ہو گا، کوئی اہلکار اگر سیٹ پر نہ ملے تو بتایا جائے گا کہ نماز پڑھنے گیا ہے چاہے اس وقت دن کے گیارہ ہی کیوں نہ بج رہے ہوں۔ امریکیوں کو یہ سہولت حاصل نہیں، انہیں گھنٹوں کے حساب سے کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے، روزانہ آٹھ گھنٹے کام، ایک گھنٹہ کھانے کا وقفہ، اور اس سے ہٹ کر اگر کوئی مجبوری میں کہیں جائے تو تختی لگا کر جاتا ہے کہ Back in 10 minutes۔ کام کے دوران تھکاوٹ یا بیزاری اگر ہو بھی رہی ہو تو اِس کا اظہار نہیں کرتے، ہر شخص کو بھرپور طریقے سے غیر منقسم توجہ دیتے ہیں اور جب تک اُس کی تسلی نہ ہو جائے قطار میں کھڑے اگلے شخص کو نہیں پکارتے اور نہ ہی کوئی ایک دوسرے پر چڑھ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوش اخلاق ضرور ہیں مگر بے لحاظ ہیں، ہماری طرح آنکھ کی شرم اور لحاظ کوئی نہیں۔
دوسرا بنیادی فرق قانون کی پاسداری ہے۔ یہاں قانون کی عملداری حکومت کی طرف سے بھی نظر آتی ہے اور عوام کی طرف سے بھی، صحت کے قوانین پر یوں عمل کیا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی دکانوں،ا سٹالز اور ریستوران میں محکمہ صحت کی طرف سے سرٹیفکیٹ لگا دیا جاتا ہے کہ اس جگہ کو ہم نے اچھے معیار اور صفائی کی وجہ سے A گریڈ دیا ہے یا پھر یہ جگہ ’’پاس‘‘ کر دی گئی ہے، اگر ایسا سرٹیفکیٹ نہ ہو تو اس کا مطلب کہ آپ پاکستانی یا انڈین ریستوران میں پہنچ گئے ہیں۔ ٹریفک کے قوانین توڑنے کا کوئی تصور نہیں، سڑک پر لکیریں کھینچ دی گئی ہیں، یہ لکیریں ہی قانون ہیں، کوئی ان لکیروں کو خلاف ضابطہ پار نہیں کر سکتا، فٹ پاتھ کے کنارے پر اگر سرخ رنگ کر دیا گیا ہے تو آپ وہاں گاڑی پارک نہیں کر سکتے، اور اگر آپ سان فرانسسکو جیسے علاقے میں ہیں جہاں پہاڑی ڈھلانیں ہیں تو گاڑی پارک کرتے وقت ٹائر باہر کو موڑ کر رکھیں ورنہ ٹکٹ تھما دیاجائے گا۔ ان باتوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ میں فرشتے بستے ہیں اور وہاں کوئی قانون نہیں توڑتا، وہاں قتل ہوتے ہیں، ریپ ہوتے ہیں، ڈاکے پڑتے ہیں، کالوں کے خلاف گورے پولیس والوں کا تعصب موجود ہے، کئی واقعات میں گورے پولیس والوں نے کالوں کو گولیاں ماریں جو بعد میں بے گناہ نکلے، اسی طرح اسکولوں اور کلبوں میں سرعام فائرنگ کے واقعات بھی ہوتے ہیں، اسی ہفتے ایک واقعہ ہوا جس میں سترہ افراد ہلاک ہوئے، گن کنٹرول یہاں بہت بڑا مسئلہ ہے۔ امریکہ کے بالائی طبقے میں بھی کرپشن ہے اور ہر قسم کی سفارش شاید چلتی ہے لیکن عمومی سطح پر بہرحال زیادہ تر آپ کو قانون کی عملداری ہی نظر آتی ہے۔
تیسرا اہم فرق ہے عورت۔ اپنے ہاں ملکی ترقی میں عورتوں کا حصہ بے حد کم ہے، پچاس فیصد آبادی کو ہم نے یہ کہہ کر نکال باہر کیا ہے کہ اِن کا کام گھر گرہستی ہے، تاہم بڑے شہروں میں کافی تبدیلی آرہی ہے، اب آپ کو خواتین جابجا دفاتر میں کام کرتی نظر آتی ہیں مگر اِن کی تعداد اُن عورتوں سے کہیں کم ہے جو شادی کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ ادھر امریکی عورت آپ کو ہر کام کرتی ہوئی ملے گی، جہاز اڑانے سے لے کر ٹرک چلانے تک اور ہوٹل مینجمنٹ سے لے کر یونیورسٹی کی وائس چانسلر تک، کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں عورتیں نہ ہوں، ملکی ترقی میں عورتیں اتنا ہی حصہ ڈالتی ہیں جتنا مرد۔ انہیں ہراساں کرنے کا قانون بے حد سخت ہے، کام کی جگہ اگر عورت اس بات کی شکایت کرے کہ مرد نے اسے ہراساں کیا ہے تو پھر یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ ثابت کرے کہ وہ بے قصور ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں عورتوں کو نمائش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اسٹرپ ٹیز کلب اور کیسینوز میں عورتیں جو کچھ کرتی ہیں اس کی کوئی توجیہہ پیش کرنا امریکیوں کے لئے مشکل ہے گو کہ وہ اس کا جواز یوں تراشتے ہیں کہ عورتیں اپنی مرضی سے یہ کام کرتی ہیں مگر یہ ایک عجیب تضاد ہے جو امریکہ جیسے ملک میں آپ کو نظر آئے گا۔
چوتھا فرق ہے Life, liberty and pursuit of happiness۔ امریکی معاشرے کی بنیاد اسی اصول پر ہے، ہر شخص کی جان قیمتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہر امریکی کی جان قیمتی ہے، آزادی سے جینا ان کا طرہ امتیاز ہے، یہاں کوئی دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا، ہر کوئی اپنی اپنی زندگی جیتا ہے، آپ کا ہمسایہ، کولیگ، باس، ماتحت، رشتہ دار، دوست کیسے زندگی گزارتا ہے، اس کا کیا مذہب ہے کیا عقیدہ ہے، وہ کیا کھاتا ہے کیا پیتا ہے، یہ کسی کا درد سر ہے نہ کوئی اس بارے پریشان یا فکرمند ہے۔ خوشی کا حصول ہی سب کا مقصد ہے، کسی کے نزدیک زیادہ خوشی اگر پیسے کمانے سے ملتی ہے تو وہ اس میں جتا ہے اور کسی کی نظر میں حقیقی خوشی اپنی دولت بانٹ دینے میں ہے۔ یہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ارب پتی بھی ہیں جو ٹیکس کی ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتے اور ایسے لوگ بھی ہیں جو مرنے سے پہلے سوا چار ہزار ایکڑ کی اراضی لاس اینجلس شہر کو اس لئے دے جاتے ہیں تاکہ شہر کو ایک شاندار پارک مل جائے۔ اپنی مرضی سے آزادی سے زندگی جینے کا یہ نعرہ امریکی سوسائٹی کی جان ہے مگر یہاں زندگی آسان نہیں، امریکی سرمایہ دارانہ نظام میں وہی جی پاتا ہے جو غیر معمولی طور پر ذہین ہو، جس کے پاس کوئی اعلیٰ ہنر ہو، بے پناہ صلاحیت ہو یا پھر کوئی پروفیشنل ہو، باقی بندہ مزدور کے اوقات تو ہر جگہ ہی تلخ ہیں۔
پانچواں اور سب سے اہم فرق ہے آئین کی پاسداری۔ امریکہ کا پورا سیاسی ڈھانچہ اور اس کے نظام کی بنیاد آئین ہے، صدر، کانگریس، سپریم کورٹ، میڈیا، سب آئین کے تابع ہیں، آئین اُن کی طاقت کا تعین کرتا ہے اور آئین ہی اُن کے اختیارات پر قدغن لگاتا ہے۔ اِس وقت یہاں Dreamersکی ایک بہت بڑی بحث ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو دوسرے ممالک سے امریکہ آئے اور پھر یہیں بس گئے، ابھی تک انہیں قانونی طور پر امریکی شہریت نہیں ملی، ان کے ساتھ نابالغ بچے بھی تھے، بحث یہ ہے کہ ان بچوں کا کیا قصور اگر اُن کے ماں باپ غیر قانونی طور پر امریکہ آگئے تھے اور پھر والدین کا بھی کیا قصور، یہ تو وہ لوگ ہیں جو امریکی کاروبار میں حصہ ڈالتے ہیں اور انہیں امریکی شہری حقوق بھی حاصل نہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ ان کے سخت خلاف ہے، وہ کہتا ہے ان کو امریکہ سے نکالو، گزشتہ دنوں معاملہ اس نہج پر پہنچ گیا کہ امریکی حکومت کا ’’شٹ ڈاؤن‘‘ ہو گیا کیونکہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ کا اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ گویا امریکی قانون ساز آئین کے تحت ان لوگو ں کے لئے بحث کررہے ہیں جو ابھی امریکی شہری ہی نہیں بنے، یہی ان کے سسٹم کی خوبصورتی ہے۔
امریکہ کا سسٹم جتنا بھی عمدہ ہو مجھے اب اپنے گھر جانا ہے، وہی سڑکیں اور وہی گلیاں دیکھنی ہیں جہاں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا، جوان ہوا۔ میرا گھر لاہور میں ہے لاس اینجلس میں نہیں، میرے پہاڑ اسلام آباد میں ہیں سان فرانسسکو میں نہیں، میر ے ساحل کراچی میں ہیں ہوائی میں نہیں۔ مجھے معلوم ہے امیگریشن کاؤنٹر پر ہڑبونگ مچی ہو گی اور ایئر پورٹ سے نکلتے ہی لوگ سگنل توڑیں گے مگر میں کیا کروں، میں آج بھی ہندسوں کو اکائی دہائی سینکڑہ میں گنتا ہوں، یہیں کی جم پل ہوں، یہیں جینا ہے یہیں مرنا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *