انصاف میں تاخیر

سحر بندیال

انصاف کی تاخیر انصاف کی موت ہے والا محاورہ ہمارے عدالتی نظام پر صادق آتا ہے۔ حال ہی میں کچھ نیوز رپوٹس میں 100 سالہ پرانے کیس کا فیصلہ اور2016 میں مظہر حسین نامی شخص کی جوڈیشل کسٹوڈی میں موت کے بعد برئیت کا فیصلہ اس حقیقت کے واضح ثبوت ہیں۔ اس طرح کے فیصلے ہمیں شاک میں مبتلا کرتے ہیں لیکن یہ حالت کچھ دیر کےلیے ہی طاری ہوتی ہے۔ ہماری عدلیہ پچھلی کئی دہائیوں سے انصاف میں تاخیر اور تعظل کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستانی کی دسمبر 2017 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 1.8 ملین کیسز تعلطل کا شکار ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے تعطل کے شکار کیسز کی تعداد 147542 جب کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایسے کیسز 93335 تک پہنچ چکی ہے۔ جواد ایس خواجہ کے حکم پر کیے جانے والے ایک
سروے اور تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک کیس کی سپریم کورٹ سے حل کے دورانیہ کی شرح 25 سال ہے۔ اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں۔ عدلیہ کی سستی اور قابلیت میں کمی کی وجہ سے کیسز تعطل کا شکار رہتے ہیں اور بار مسلسل بڑھتا ہی جاتا ہے۔ کیس لڑنے والے وکلا بھی کیس کو طول دیتے رہتے ہیں اور اس کا ذمہ دار عدلیہ کو قرار دیتے ہیں۔ قانون بھی انہیں اجازت دیتا ہے کہ وہ کیس کو جتنا مرضی طول دیں اور کسی قسم کی سزا نہیں دی جاتی۔  عدلیہ کو اس چیز کے بارے میں معلوم ہے اور کئی مواقع پر اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدلیہ میں اصلاحات پر زور دیا ہے تا کہ عوام کی انصاف کی فراہمی میں تعطلی کی شکایت سے نمٹا جا سکے۔ رواں سال جو نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی نے پالیسی گائیڈ لائنز متعارف کروائیں
ان میں ہر کیس کے حل کے لیے ایک مقرر ہ وقت کے تعین پر زور دیا گیا۔ اس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہائی کورٹس فیصلہ 3 ماہ سے زیادہ عرصہ تک محفوظ نہیں رکھ سکتیں۔  مقننہ نے بھی اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے کچھ کاوشیں کی ہیں۔ **2017**میں کاسٹ آف لٹیگیشن ایکٹ پاس کیا گیا جس میں انصاف کے راستے میں روڑے اٹکا کر تعطل کا راستہ اپنانے والی پارٹیوں کو عدالت کی طرف سے سزا دینے کی سفارش کی گئی تا کہ انصاف کی فراہمی کا عمل تیز ہو جائے۔ اس ایکٹ کے ذریعے عدالتوں کو سول کیسز میں کامیاب پارٹی کو لیٹیگیشن کاسٹ میں نرمی دینے کا اختیار بھی واپس لیا گیا۔ ریاست کے یہ دونوں ستون عدالتی نظام میں بہترین لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک قابل تعریف بات ہے۔  یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی ہو گی کہ صرف نسخے اور ٹائم لائن یا بجٹ کی باتیں اںصاف میں تاخیر کے معاملے کا حل نکالنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوگے۔ 2009 میں متعارف کروائی گئی نیشنل جوڈیشل پالیسی میں جو تجاویز پیش کی گئیں وہ بھی بے فائدہ ثابت ہوئی تھیں۔ تحقیق کے مطابق 1908 کے سول پروسیجور کوڈ میں کیسز کے حل کے لیے جو دورانیہ بتایا گیا ہے اس پر کہیں بھی عمل نہیں ہو رہااور نہ ہی عدالتیں اسے سختی سے نافذ کرنے پر آمادہ ہیں۔ سندھ کے چار ڈسٹرکٹس میں ایک سروے کروایا گیا جس کے مطابق ایک عام ڈیفنڈر عدالت میں اپنا جواب داخل کرنے کےلیے 6ماہ کا اوسط وقت لیتا ہے جب کہ یہ 30 دن کے اندر عدالت پہنچنا قانون کے مطابق لازمی قرار دیا گیا۔ یہ حقیقت بھی تکلیف دہ ہے کہ عدالتیں ایشو کی فریمنگ کےلیے 9 ماہ کا وقت لیتی ہیں جب کہ انہیں پہلی سماعت کے دن ہی ایسا کر لینا چاہیے۔  اس صورتحال کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تازہ ترین اقدامات اپنا کام دکھا پائیں گے یا وہ بھی بے فائدہ ہی ثات ہوں گے۔ جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ان کو فائدہ مند ثابت کرنے کے لیے عدالت کی طرف سے مضبوط عزم کی ضرورت ہے تا کہ وہ مجوزہ ٹائم فریم کےد وران فیصلے سنا کر سزائیں دے سکیں۔ ججوں کو لٹیگیشن پراسس میں زیادہ اختیار دیا جانا چاہیے تا کہ کسی بھی شخص کو جلد بازی یا دباو کے تحت غلط سزا نہ دے دی جائے۔ ہمارے ملک کی بار کونسل کو ریگولیشن اور ڈسپلن سے کوئی لگاو نہیں ہوتا اس لیے عدالت کو چاہیے کہ وہ اس اصلاحات کے ایجنڈا میں بار کونسل کو بھی شامل کریں تبھی جا کر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔  چونکہ تاخیر اور پنڈنگ رکھنے کا عمل سپلائی سائیڈ کی طرف سے ہوتا ہے اس لی ضروری ہے کہ عدلیہ کی انتظامی مشینری اپنے ممبران کی قابلیت اور اور صلاحیت میں بہتری لانے کے ہر ممکن اقدامات کرے۔ لازمی ہے کہ اںصاف کی فراہمی کے
دورانیہ اور فیصلوں کی کوالٹی پر لگاتار نظرت رکھی جائے اور ساتھ ہی ججز کی ٹریننگ اور ایجوکیشن کا عمل بھی جاری رہنا چاہیے۔ ججز کو سکھایا جائے کہ کسی بھی فیصلے کے مسلط کیے جانے کے کیا فوائد یا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ صرف فراہمی کے عمل پر نظر رکھنے سے انصاف کا خون بھی ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ اس بات پر نظر رکھے کہ جلدی دکھاتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں کوتاہی نہ ہو جائے۔ یہ بھی عدلیہ کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ان پر بہت زیادہ بوجھ جمع ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جج اور عوام کی اوسط صرف کراچی شہر میں **1:103448** ہے۔ اس لیے ظاہر ہے بے شمار کیسز پینڈنگ لسٹ میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور بہت سے کیسز کو حل کے لیے متباد ذرائع کو ری ڈائریکٹ کر دیا جائے۔  اس لیے انصاف کی تاخیر کا مسئلہ بہت ہی گھمبیر ہے۔ عدلیہ اور مقننہ نے مل کر اب جلد انصاف فراہم کرنے کے لیے آرٹیکل 37 ڈی کے تحت جو اقدامات شروع کیے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ امید ہے کہ ان اقدامات کے ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *