چین کے جنازوں میں سٹرائپرز کی اہمیت

چین میں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جن میں جنازوں پر رونا دھونا دیکھنے کی بجائے میوزک، ڈانس اور سیٹیاں سننے کو ملتی ہیں۔ رواں سال چینی حکومت نے ایسی تقریبات منعقد کرنے والوں کے خلاف نئے سرے سے کاروائی شروع کی ہے اور جنازوں پر اس طرح کی حرکات کو فحش اور گھٹیا قرار دیا ہے۔ ایسی رسومات کے خلاف حکومت کے ایکشن کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔  لوگ جنازوں پر سٹریپرز کی خدمات کیوں لیتے ہیں؟ ایک تھیوری کے مطابق جنازہ کی تقریب میں سٹرائپرز کی خدمات زیادہ مجمع اکٹھا کرنے کے لیے لی جاتی ہیں کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والے کو زیادہ مجمع کے ساتھ رخصت کرنا اس کے لیے اعزاز ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق اس رسم کا مقصد تولیدی نظام کی عبادت سے جڑا ہے۔  فوجیاں نارمل یونیورسٹی کے پروفیسر ہوانگ جیانشنگ کے مطابق کچھ لوکل کلچرز میں فحش ڈانس کے ذریعے مرنے والے کے زیادہ اولاد کی خواہش سے سامعین کو باخبر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق سٹرائپرز کو بلانا دولت کی نمائش کے مقصد سے جڑا ہے۔ گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کے امیر لوگ اہم مواقع پر یہاں تک کے جنازوں پر بھی بڑی تعداد میں خرچ کر کے لوگوں کے سامنے دولت کی نمائش کرتے ہیں اور مرنے والے کی موت پر ایسی تقریب کے زریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کے لواحقین زیادہ اداس نہ ہوں۔  یہ رسم کس قدر عام ہے؟ یہ رسم چین کے دیہاتی علاقوں میں پائی جاتی ہے لیکن تائیوان میں یہ سب سے
زیادہ عام ہے اور اس کا آغاز بھی تائیوان میں ہوا تھا۔ بی بی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک یونیورسٹی پروفیسر مارک موسکووٹز نے بتایا کہ اس رسم کو پہلی بار
شہرت 1980 میں تائیوان میں ملی۔ تائیوان میں یہ رسم بہت عام ہے لیکن چین میں حکومت اس کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔ لیکن تائیوان میں بھی یہ رسم شہری علاقوں میں بہت کم دیکھی جاتی ہے۔  چونکہ یہ ایک ایسی رسم ہے جو نہ قانونی ہے اور نہ غیر قانونی، اس لیے شہروں میں لوگ اس سے دور ہی رہتے ہیں لیکن شہر کے آس پاس کے علاقوں میں لوگ اس رسم کو منانے میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں۔ تازہ ترین تقریب میں موجود لوگوں کی اطلاعات کے مطابق مرنے والے لوکل سیاستدان کی خواہش تھی کہ اس کے جنازہ کی تقریب رنگ برنگی ہو۔ اس خواہش کا اظہار اس نے خواب میں اپنے رشتہ دار کے سامنے کیا۔  اس پر کریک ڈاون کی کیا ضرورت ہے؟  تازہ ترین کریک ڈاون سے کسی کو حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ اس رسم کے خلاف چینی حکومت کئی بار مہم چلا کر اور سختی سے پیش آ کر اسے روکنے کی کوشش کر چکی ہے۔  چین کی وزارت ثقافت نے اس طرح کی پرفارمنس کو غیر مہذب قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ جو بھی کسی سٹرائپر کی خدمات حاصل کرے گا تو جنازہ پر موجود تمام افراد کو سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔ وزیر ثقافت ڈاکٹر موسکووٹز کا کہنا تھا کہ چین کی حکومت شہریوں کی تربیت کے حوالے سے ایک والد کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو برہنہ مناظر اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں فکر لاحق ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ شو بچے بھی دیکھتے ہیں۔ لیکن وزیر مملکت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس رسم کو فوری ختم کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اتنے قوانین بنائے جانے کے بعد بھی اس طرح کے واقعات کا سامنے آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس رسم کے حامی لوگ کس قدر مزاحمت کر رہے ہیں2006 میں پانچ سٹریپٹیز گروپس کے لیڈرز کو جیانگسو کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک جنازے کی تقریب میں ہزاروں کے مجمع کے سامنے پرفارم کر رہے تھے۔ 2015 میں ہیبی اور جیانگسو کے علاقوں میں اس خبر نے ہیڈ لائن میں جگہ حاصل کی کہ سٹرائپرز کو کچھ جنازوں پر پرفارم کرنے کےلیے مدعو کیا گیا۔ ایک بار پھر حکومت نے اس تقریب کے منتظمین اور پرفارمرز کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزارت ثقافت کا کہنا ہے کہ ہینان، انہوئی، جیانگسو اور ہیبی کے علاقوں میں اس رسم کے خلاف ایک نئی مہم شروع کی جائے گی۔ حکومت نے شکایات کےلیے ہاٹ لائن بھی
مہیا کر رکھی ہے اور کسی بھی جنازہ پر اس طرح کی حرکات کی خبر دینے والے کے لیے بھاری رقم کا انعام بھی طے کر رکھا ہے۔  لیکن اب بھی یقین سے کہا نہیں جا سکتا کہ یہ رسم مکمل طو پر ختم ہو جائے گی لیکن یہ بات واضح ہے کہ چینی حکومت اس رسم کو ختم کرنے کےلیے آخری دم تک کوشش
جاری رکھے گی۔

source : https://www.bbc.co.uk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *