بنی گالہ دستاویزات جعلی ، عمران خان سے ایک ہفتے میں جواب طلب

سپریم کورٹ نے بنی گالا کے حوالے سے جمع کرائی گئی دستاویزات پر متعلق عمران خان سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے طارق فضل چودھری کو بلالیا ،چیف جسٹس پاکستان نے طارق فضل چودھری سے مکالمہ کیا کہ کون سا امتحان سپریم کورٹ سے لینا ہے؟ تھوڑا سا خیال کیا کریں، آپ یہاں امتحان لینے کے لیے تشریف لائے ہیں؟ آپ جو رات کہہ رہے تھے وہ میں نے خود سنا ہے۔اگر آپ انکار کریںگے تو ہم آپ کا بیان چلا دیںگے، پیچھے جاکر بیٹھ جائیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم لوگوں کی صحت سے متعلق زیادہ فکر مند ہیں،باقی چیزوں کی اہمیت بھی اپنی جگہ موجود ہے،آپ نے کچھ پتہ کیا ہے کہ فلٹریشن کے حوالے سے کیا کیا جارہاہے؟ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ ہم ڈرون کی مدد سے علاقے کی مووی بنائیں گے۔ عمران خان کے وکیل کا دلائل میں کہنا تھا کہ میڈیا میں جورپورٹ آئی ہیں ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ انکار آپ یہاں نہیں باہر جاکر کریں ،مجھے دستاویزات ملنے سے قبل میڈیا میں خبر ریلیز ہوگئی۔ سپریم کورٹ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس میں عمران خان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات پر جواب طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بارہ کہو کے سابق یوسی سیکریٹری نے کیس میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا تھا ، جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بنی گالا میں گھر کی دستاویزات کو جعلی قرار دیاتھا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *