ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے!


آج سے بیس پچیس سال قبل یا شاید اس سے بھی کچھ پہلے گندمی رنگ کے خوبصورت خدوخال کے مالک ایک نوجوان سے میری ملاقات ہوئی، گھنگھریالے بالوں والا یہ نوجوان ہنستا بہت تھا۔ بات بات پر قہقہے لگاتا تھا بلکہ اکثر اس کیفیت میں اس کی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے لگتے تھے ، اس کی بہت گہری دوستی ایک آرٹسٹ انیس یعقوب سے تھی ، وہ اس کا ہم عصر اور ہم شرب تھا چنانچہ میری اس سے زیادہ تر ملاقاتیں انیس یعقوب ہی کے ساتھ ہوئیں اس نوجوان کا نام مظفر محمد علی تھا، یہ ادارہ جنگ سے وابستہ تھا اور افسانہ نگار بھی تھا۔ اس کے افسانوں کا مجموعہ قسطوں میں موت کے عنوان سے شائع ہوا ، مظفر اور انیس نے دلدار پرویز بھٹی کے ساتھ مل کر ایک ایڈرٹائزمنٹ ایجنسی بھی بنائی اور پھر ایک دن میں نے دیکھا کہ مظفر ایک سیکنڈ ہینڈ کار کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا اور اس کا ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا ۔ یہ اس بات کا سگنل نہیں تھا کہ اس کے مالی حالات کچھ بہتر ہو گئے ہیں بلکہ ہم مڈل کلا سیوں کی طرح وہ بھی محض اپنا خواب پورا کرنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ ساری عمر رزق حلال سے اپنی فیملی کا پیٹ پالنے والا کبھی خوشحالی کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکا تھا جہاں غم روزگار کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔
مظفر ایک وضع دار نوجوان تھا۔ اس سے میری ملاقاتوں کے تسلسل میں کبھی فرق نہیں آیا بلکہ اگر میں دنیا کی مصروفیات میں گم ہو جاتا تو وہ اچانک ایک دن نمودار ہوتا اور پھر میری دفتر اس کی ظاہری اور باطنی خصوصیت سے منور اور قہقہوں سے معمور ہو جاتا، اس کا یہی چلن اپنے حلقہ احباب کے تمام ارکان سے تھا۔ میں نے اس کی مقبولیت کا گراف کبھی کم ہوتے نہیں دیکھا، اس کے اپنے نظریات اور اپنی ذہنی وابستگیاں تھیں مثلاً وہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے بہت پیار کرتا تھا لیکن وہ ایک مرنجاں مرنج شخص تھا چنانچہ اس کے حلقہ احباب میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ شامل تھے ۔ دو سال قبل اچانک ایک دن مجھے خبر ملی کہ اس کے گردے ناکارہ ہو گئے ہیں ۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں اتنی بڑی اطلاع اس سے اس کے قہقہے نہ چھین لے ، مگر اس اطلاع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جسمانی اور معاشی مسائل نے اپنا اثر تو چھوڑنا ہی تھا لیکن اس کے باوجود وہ پوری استقامت اور بہادری سے حالات کا مقابلہ کرتا رہا۔ میں جب کبھی اس کی خیریت معلوم کرنے کے لئے اسے فون کرتا تو میں ارادی طور پر سنجیدہ ہو جاتا لیکن جب مجھے ادھر سے قہقہہ سنائی دیتا تو یہ میرے لئے حیرت اور مسرت کا باعث بنتا۔ مظفر کی شادی خاصی کم عمری میں ہوئی تھی چنانچی انہی دنوں اس نے اپنی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ بھیجا جو اسی جیسے ایک نیک باطن نوجوان اجمل شاہ دین سے ہو رہی تھی ۔ میں نے دیکھا اس کے وہ سب سینئر اور جونیئر دوست وہاں موجود تھے جن سے اس کا تعلق گذشتہ پچیس سال سے ایک تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا تھااور گذشتہ روز جب اس کا جنازہ اٹھا تو وہی سب لوگ ایک بار پھر جمع تھے اور ان کے علاوہ سینکڑوں دوسرے لوگ جو اس کے حسن اخلاق اور ہر قسم کے تعصب سے پاک اس نیک شخص کے گرویدہ تھے۔
مظفر محمد علی کا جنازہ ان لوگوں کے لئے خاصا چشم کشا ہو سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارا سارا معاشرہ فرقہ بندی کا شکار ہو چکا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک محدود تعداد طبقوں کو عقائد اور نظریات کے ترازو میں تولتی ہے۔ یہ بات میں یوں کہہ رہا ہوں کہ جب ہم لوگ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے مظفر کے گھر واقع علامہ اقبال ٹاؤن پہنچے تو اس وقت پتا چلا کہ ہمارا یہ دوست جس سے ہمارے تعلقات ربع صدی سے زیادہ کے تھے اہل تشیع خاندان سے تعلق رکھتا تھا؟ وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان تھا اور فرقوں کے چکر میں کبھی نہیں پڑا تھا۔ یہی حال اس کے دوستوں کو بھی تھا چنانچہ اس روز بھی مسلمانوں کے سن دو فرقوں میں باہمی رواداری کی روشن مثال نظر آئی جب ہم سب نے شیعہ عالم دین کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی ۔ ہم سب سے کچھ لوگ کیوں اپنے معاشرے سے بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں ۔ کیا انہیں یہ سب کچھ نظر ں نہیں آتا؟
اور اب صرف مظفر کی یادیں میرے ساتھ ہیں اور یہ یادیں ایسی ہیں جن کی حفاظت کی جا سکتی ہے کیونکہ خوبصورت یادوں کو بھلایا جائے تو ذہنوں میں یہ مورتیاں جنم لینے لگتی ہیں ۔ میں نے دانستہ طور پر مظفر کا آخری دیدار نہیں کیا صرف اس کے جنازے کو کندھا دیا کیونکہ میں اسے کفن میں لپٹا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میری یادوں میں صرف اس کے خوشگوار چہرے کا عکس باقی رہے شاید وہ بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ جب اس کے جنازے کو کندھا دیتے وقت میں نے دل میں غم کی ایک لہر محسوس کی تو مجھے اس کا قہقہہ سنائی دیا وہ کہہ رہا تھا اپنے پیاروں کی جدائی پر آنکھوں میں نمی بھی آنا چاہئیے لیکن دلوں کو قبرستان نہ بننے دیں۔ اسے ان خوشگوار لمحوں اور یادوں سے آباد رکھیں جو ان کے ساتھ گذرے ہوئے وقت کی دین ہیں۔
میں نے جیب سے رومال نکالا اور اپنی آنکھوں پر رکھ لیا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *