ذہنی امراض کا شرطیہ علاج

ایک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی، سرجن ہیں، پچاس کے پیٹے میں ہیں، اچھی خاصی بارعب شخصیت کے مالک ہیں، دیکھنے میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں، جراحی کے عمل میں ماہر ہیں، سرکاری اسپتال میں لوگوں کا علاج کرتے ہیں، میل جول میں بھی خوش اخلاق ہیں، گھر بار خوش ہے، ہمسائے، دوست، احباب رشتہ دار، سب ان کی غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں، ڈاکٹر صاحب چشمہ لگاتے ہیں، کپڑے بھی ہمارے جیسے پہنتے ہیں، ان کے بچے انہیں ابو کہتے ہیں، بیوی نام لے کے پکارتی ہے، ایک بیٹی شادی شدہ ہے، داماد اچھی پوسٹ پر ہے، اکثر دونوں ڈاکٹر صاحب سے ملنے چلے آتے ہیں، دیکھنے میں سب کچھ نارمل ہے، بس ایک چھوٹی سی مشکل ہے اور وہ یہ کہ ڈاکٹر صاحب پاگل ہیں۔ اس بات کا انکشاف مجھ پر اگلے روز ہوا جب ایک دوست کے توسط سے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کھانا کھایا گیا، چائے کا دور چلا، بیماریوں پر گفتگو ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے صحت کے حوالے سے نہایت مفید ٹپس دیں، خوراک کے بارے میں مشورے دیئے، کچھ غیر ملکی تحقیق کے حوالوں سے ہمیں قائل کیا اور پھر جیسا کہ ہوتا ہے گفتگو کا رُخ بالآخر سیاست بلکہ بین الاقوامی سیاست کی طرف مُڑ گیا۔ سب اپنی رائے دے رہے تھے کہ اچانک ڈاکٹر صاحب نے سب کو خاموش کروایا اور کہا کہ اب میں آپ کو جو بات بتانے لگا ہوں وہ کسی کو نہیں بتانی، ٹاپ سیکریٹ ہے، سب ڈاکٹر صاحب کی طرف متوجہ ہو گئے، آپ نے چشمہ اتارا، کھنکار کر گلا صاف کیا اور گویا ہوئے:
’’دو دن پہلے ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان آیا تھا، خفیہ دورہ تھا، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی، پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت سے ملاقات کی اور دو گھنٹے بعد واپس چلا گیا‘‘ یہ کہہ کر جناب نے داد طلب نظروں سے ہم سب کی طرف دیکھا، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس بات کے جواب میں ہم کیا ریسپانس دیں، حیران ہوں، خوش ہوں، رو پڑیں یا قہقہے لگائیں۔ بالآخر ہم میں سے ایک مردِ عاقل نے خاموشی توڑی اور کہا ’’اُس ملاقات میں کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ایسا تاثر آیا جیسا اکثر فلموں میں ولن کے چہرے پر اُس وقت آتا ہے جب اُس کے کارندے ہیروئن کو اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ پوچھتی ہے، کیا چاہتے ہو تم! ڈاکٹر صاحب بولے ’’ویسے تو یہ بات انتہائی خفیہ ہے اور پاکستان میں صرف تین لوگوں کے علم میں ہے مگر آپ لوگ چونکہ دوست ہیں اس لئے آپ کو بتا رہا ہوں، یہ بات اِس کمرے سے باہر نہیں جانی چاہیے۔‘‘ خیال رہے کہ محفل میں اُن کے کمپوڈر سمیت اُس وقت دس بارہ لوگ موجود تھے اور اُن میں سے دو تین ایسے تھے جنہیں ڈاکٹر صاحب براہ راست جانتے بھی نہیں تھے۔ ایک اذیت ناک سسپنس کے بعد آپ نے کہنا شروع کیا:’’ٹرمپ نے اُس ملاقات میں ہمیں دھمکی لگائی کہ اگر پاکستان نے فلاں فلاں کام نہ کئے اور فلاں لیڈر کا ساتھ چھوڑ کر اُس کے مخالف لیڈر کا ساتھ نہ دیا تو ہمیں بھیانک نتائج کا سامنا ہوگا!‘‘ ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب اس دھمکی کے بعد ہماری طاقتور شخصیت نے جواب میں کیا کہا تو موصوف نے بھرپور نگاہ ہم دوستوں پر ڈالی اور بولے ’’انہوں نے کہا کہ بہت ہو گئی ٹرمپ، اب اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا یا ہمارے معاملات میں ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی تو پھر اِس کمرے سے تم دو ٹانگوں پر چل کر باہر نہیں جا سکو گے‘‘ اتنا سننا تھا کہ ہمارا ضبط ٹوٹ گیا، قہقہوں سے چھت اڑ گئی، ہنستے ہنستے ہماری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، بڑی مشکل سے ہم نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا جن کی سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا، تب ہمیں پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ بات نہایت ذمہ داری کے ساتھ بقائمی ہوش و حواس کی ہے۔ کسی نے اُن سے بحث کی کوشش کی کہ امریکی صدر کا ایسے خفیہ طریقے سے آنا ممکن نہیں، اُس کے ہمراہ بیسیوں اہلکار ہوتے ہیں، اُس کا مخصوص طیارہ ہوتا ہے، ہمارا بھی لگ بھگ ایسا پروٹوکول ہے مگر ڈاکٹر صاحب اپنی بات پر قائم رہے اور ثبوت کے طور پر کہا کہ یہ بات اُن کے ایک رشتہ دار نے بتائی ہے اور وہ واحد بندہ تھا جو اُس ملاقات میں موجود تھا۔ بقول شفیق الرحمٰن ہم سب زارو قطار ہنس دیئے۔
یہ ایک ڈاکٹر کا قصہ نہیں، ہماری قوم کا مزاج ہے۔ بظاہر ہم سب چاق و چوبند، صحت مند، صاحب عقل و دانش نظر آتے ہیں، اپنے ذاتی معاملات میں، لین دین میں، ملنے ملانے میں، کاروبار یا پروفیشنل کام میں کسی طرح کی مخبوط الحواسی کا مظاہرہ نہیں کرتے، ہر بات میں اچھے خاصے سیانے ہیں، چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے والی ٹائپ ہیں، نوکری لینی ہو تو اپنا سی وی ایسے بناتے ہیں کہ بل گیٹس بھی شرما جائے، تجارت میں بھی ٹیکس بچانے کی تمام چالاکیاں ہمیں آتی ہیں مگر نہ جانے کیوں جب بات ذاتی معاملے سے ہٹ کر قومی معاملات پر آتی ہے تو یکسر ہماری جُون بدل جاتی ہے، عجیب و غریب مضحکہ خیز سازشی تھیوریاں ہمارے دماغ میں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں، بغیر کسی تحقیق کے ہم سنی سنائی باتیں آگے دہرانا شروع کردیتے ہیں اور ان واقعات پر صدق دل سے یقین کر لیتے ہیں جن کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہی نہیں۔ یہ ذہنی مرض ہم سب کو لاحق ہے، حالانکہ ہم نے اسکول کالجوں میں کچھ نہ کچھ ریاضی اور طبیعات پڑھی ہے، ہم جانتے ہیں کہ کسی بات کی حقیقت کو جاننے کے لئے ٹھوس ثبوت درکار ہوتے ہیں، ہمیں علم ہے کہ عقلی بنیاد پر کسی دعوے کی پرکھ کیسے کی جاتی ہے، اچھی خاصی ڈگریاں ہمارے پاس ہیں، انہی ڈگریوں کے بل بوتے پر ہم ڈاکٹر، انجینئر اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بنتے ہیں، اپنے شعبے میں مہارت بھی حاصل کرتے ہیں مگر جب بات امریکہ، ٹرمپ، ملالہ، نائن الیون، داعش، شام، افغانستان یا ہماری سیاست کی ہو تو پھر ہمارا تمام علم، پروفیشنل ازم، شعبہ جاتی مہارت، عقل، ذہن، دماغ سب بند ہو جاتا ہے اور ہم صرف وہ بات سننا اور تسلیم کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے دل کی کوئی خواہش ہو۔ ہمارے ڈاکٹر صاحب نے بھی یہی کیا، اُن کی خواہش ہو گی کہ ٹرمپ کی ٹانگیں توڑ دی جائیں سو انہوں نے اپنی یہ خواہش ٹرمپ کی ایک فرضی ملاقات کروا کے پوری کر لی۔ میں ماہر نفسیات تو نہیں، hallucinationغالباً اسی کو کہتے ہیں، اِس کیفیت میں بندے کو وہ چیزیں نظر آتی ہیں جن کا وجود نہیں ہوتا اور وہ اُن باتوں کو سچ سمجھ بیٹھتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اب ایسے لوگ اپنے یہاں کتنی تعداد میں پائے جاتے ہیں اُن کا اندازہ لگانا ہو تو اپنے اردگرد ہی گن لیں اور اگر کچھ نہ بن پڑے تو اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا آپ ڈاکٹر صاحب کے بتائے ہوئے واقعے پر یقین کرتے ہیں، اگر جواب ہاں میں آئے تو فوراً کسی ماہر نفسیات سے رجوع کریں اور اگر ایسا کرنے میں سُبکی محسوس ہو تو کسی مجھ ایسے سے تعویذ دھاگہ ہی لے لیں، ذہنی مرض کے شرطیہ علاج کی گارنٹی ہے۔
کالم کی دُم:اس کالم میں جن ڈاکٹر صاحب کا ذکر ہے وہ ایک مقامی اسپتال میں سرجن ہیں، اُن کا میڈیا سے کوئی تعلق نہیں، واقعات میں کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ سمجھی جائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *