ایک باغی ہیرو

کچھ لوگ ساری توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر ان میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک باغی انسان اور گہری دیکھ بھال کرنے والی ساتھی تھیں۔ ایک بہترین وکیل اور شریر ؛ہنسی مزاق کرنے والی انسان تھیں۔ وہ پریشان لوگوں کو بھرپور ہمدردی سے گلے لگا لیتی تھیں۔ وہ نڈر تھیں اور ڈٹ کر جمہوریت کے مخالفوں ؛جیسے مولویوں ، جرنیلوں سے جنگ کرتیں ۔ انہوں نے ساؤتھ ایشیاء کی اقوام کو اس کمیونٹی میں متحد کرنے کا خواب دیکھا جس میں انسانوں کی بنائی ہوئی چھوٹی بڑی ذاتیں برابری اختیار کر لیں اور صدیوں سے جنسی برابری، حقوق العباد اور دوسرے حقوق کےحصول کی جو کوشش ہو رہی ہے وہ کامیاب ہو جائے۔ وہ ہمیشہ سے جنگ کے خلاف اور امن کی گرویدہ رہی ہیں۔ مختصر یہ کہ ، ان کی زندگی میں منفی حالات کے خلاف وہ ہمیشہ رسک لیتی رہی ہیں اور اپنے چاہنے والوں کے لیے وسیلہ بنی رہی ہیں۔ وہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہیں۔ عاصمہ جہانگیر ایک عظیم ہیرو تھیں اور کسی تحریک کے بغیر معاشرے میں اکیلے تبدیلی لانے کا زندہ ثبوت تھیں۔ لوگ ان کے ساتھ ناقدین کے خلاف فوج کی طرح کھڑے تھے اور یہ فوج کسی اسلحہ کے بغیر خالی ہاتھ بڑی تعداد میں تھی۔ ان کے جنازے پر بے شمار عوام تھے جنہوں نے فخر سے پاکستان کی آزادی کی چاہت رکھنے والی اس اہم ہستی کو خدا کی نعمت قرار دیا۔  لیکن چلو اپنی منہ میاں میٹھو نہیں بنتے اور کھلے دل سے دعا کرتے ہیں کہ اس پر جوش جنازے میں آنے والے سیدھی راہ پر چلیں نہ کی ان کی راہ پر جن کے خلاف وہ سینہ تان کر لڑیں۔ کیا ان کی ٹیم ان کی بے لوث وکالت کرتے ہوئے ان وکلاء کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے جو پلٹ کر کہتے ہیں خوش ہو جاؤ اور سلام کہو اس مشہور مجاہد ہستی کو جو ممتاز قادری کہلاتا ہے؟ جیسے بارڈر کے اس پار ہندوستان میں پرشانت بھوشن اور وریندہ گراور ان بہادر وکالاء میں سے ہیں جو اسی مدے پر لڑ رہے ہیں جس پر عاصمہ لڑ رہی تھیں۔ اور اب ان کے ساتھ بھی ان گنت عوام حق کی خاطراکٹھی ہے ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں ملکوں کے ایک جیسے مسائل پر کون بہتر کام کر رہا ہے لیکن ان کی حالت زار کی وجہ ایک ہی ہے۔  وہ دن چلے گئے کہ سلطان ممبئی میں گائے اور وہ ایوب خان کی مادشل لا کے خلاف جنگ کی للکار بن جائے ۔ پاکسان کی بائیں تحریک کی تباہی و بربادی نے اپنے ساتھیوں کے لیے ہندوستان میں بھی امید کا وہ وقت گنوا دیا ۔ پھر بھی جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو ہندوستان میں ان تحریک کاروں کے سہارے اندرا گاندھی نے ان کی جان بخشنے کی گزارش کی تھی۔ اور یہ سب کرنے کے لیے مورارجی دیسائی نے انکار کر دیا تھا ( جس پر ضیاء نے انہیں نیشان پاکستان دیا تھا)۔  جب عاصمہ جہانگیر میدان میں آئیں تو اس وقت حالات اور بھی بد ترین ہو گئے تھے ۔ آج کل ہندستان کے رائٹ ونگ **LoC** پر ملٹری ریڈ کا دعوع کرتا ہے تو سیاسی جماعتوں میں سے ایک بھی آواز نہیں ابھرتی جو نیوکلیئر طاقت رکھنے والے ہمسائے کی آنکھوں میں جھانکنے کی جرات کرے۔ وہ پرائم منسٹر مودی کو مبینہ طور پر مبالغہ آرائی کرنے پر تنگ کرتے اور ان کا مزاق اڑاتے ہیں۔  نتیجہ یہ ہوا کے ایک طرف غیر پاکستانی ہسٹیریا کو اپنی مرضی سے لات مارنے والی گورنمنٹ ہے **____ ** 2019 سے پہلے کی کچھ بارڈر پر پریشان کن حرکات کی بری افواہیں بھی ہیں۔ دوسرے طرف، جانی مانی کانگرس کا جارحانہ رد عمل ہے، جو ملیٹری ایکشنز کے بارے میں سوال کرتے ہوئے بلکل شرمندہ نہیں۔پاکستان میں آرمی سے محبت اب کم ہو چکی ہے جب کہ ہندستان میں بڑھ رہی ہے۔ ہندوستان میں عاصمہ کے ساتھ بھائی چارے اور ان کے کاموں میں حامی بھرنے کے باوجود دائیں بازو کے لوگ جارحانہ ردعمل سے باز رہے ۔ کیوں کہ مین مخالف پارٹی کے صدر ہونے کے باعث وہ نا خوش ہیں اورانہیں اس بات کی لالچ نہیں کہ کیسے ان کی دادی ماں نے اس پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ عاصمہ جہانگیر کا ایک مقصد نیو کلئیر طاقت کے استعمال کے خلاف لڑنا تھا، لیکن اسی دوران ان کی وفات ہو گئی، نیوکلیئر حملوں کا دن دور نہیں ، پوری دنیا نیو کلئیر حملوں کے خطرے سے دو چار ہے۔  شمالی کوریا کا بحران ار پاکستان اور بھارت کی دائمی دشمنی کی وجہ سے کسی بھی وقت ایٹمی جنگ چھڑنے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ عاصمہ کے پر ستاروں کو ڈنڈے اٹھا لینے چاہیں اور اس لڑائی کو جاری رکھ کرانہیں سب سے بہترین طریقے سے خراج تحسین دینا چاہیے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *