عزیز انصاری سے لے کر پروفیسر حضرات تک

زہرہ نقوی 

مجھے عزیز انصاری بہت پسند تھے۔ نارتھ امریکہ میں بھوری رنگت کے عوام کے میڈیا میں وہ واحد نمائندہ تھے۔ انہوں نے میری یہ سوچ اس وقت بدل تھی جب انہوں نے ۔ماسٹر آف نان۔ شو متعارف کروایا۔ اس شو میں کردار کے والدین کا کردار انصاری کے والدین نے خود کیا۔ اس شو میں انہوں نے اپنی ہجرت کی کہانی باور ریسسٹ فلم انڈسٹری میں بھوری رنگت کے لوگوں کی مشکلات کو سامنے لانے کی کوشش کی۔ اس دوران انہوں نے جنسی ہراساں کیے جانے والے واقعات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی اور سیکسزم کے مسئلہ کو بھی اجاگر کیا۔ یہ شو مزاحیہ، پروگریسو، پولیٹیکل، اور بہت اہمیت کا حامل تھا جس نے ٹی وی پر ایک بہت بڑے گیپ کو فل کر دیا تھا۔ میں اپنی دوست کے ساتھ اس شو کو ڈسکس کرتی اور اس سے بہت انسپائریشن لیتے ہوئے خود بھی لکھنے کی کوشش کرتی کیونکہ ہمارے خیال میں یہ شو براون کلر کی عوام کی زیادہ بہتر طریقے سے نمائندگی کر رہا تھا۔ لیکن جب میں نے گریس کی عزیز انصاری کے ساتھ تجربات کی روداد پڑھی اور معلوم ہوا کہ انصاری نے انکے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے تو میں بہت مایوس ہوئی۔ جب جنسی تشدد کا الزام اس شوخ ، چنچل، خد ساختہ نسوانی ریٖڈیو شخصیت پر سرعام آیا تو جیان گھومیشی جن سے میں جوانی سے ہی متاثر تھی ان کے بارے میں ایسا سن کے بہت دکھ ہوا۔ وہ پیدایشی براؤن تھے اور مختلف بڑے نام کے ساتھ ان کا محاجر ہونے کا تجربہ قابل ذکر ہے۔ جو دنیا بھر کی مشہور شخٰصیات سے ملتے اور ان کو گہرائی سے جانتے اور گفتگو کرتے تھے۔  میرے لیے وہ آرٹ کی دنیا میں کینیڈا میں موجود مختلف رنگ کے لوگوں کو جگہ اور موقع دینے والے شخص تھے۔ اورپھر معاشرتی طور پر خوشحال ہونے کے باوجود جب مجھے پتہ چلا کے وہ ریڈیو پر نہیں آئے تب وہ ایک خاتون پر تشدد کے ملزم بن چکے تھے۔ ایک شدید مایوسی چھا گئی۔ میرے تخلیق نگار پروفیسرز میں سے ایک کو جنسی حراساں کرنے اور سرے عام غنڈہ گردی کرنے کے الزام میں نکال دیا گیا۔ گھومیشی اور انصاری کی طرح وہ بہت خوش نما ، مزاحیہ ، کامیاب اور انڈسٹری کے ساتھ اچھے روابط میں تھے۔ اور وہ اپنے ترقی پسند اقدار کا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ کینیڈا کے ادبی گروہ میں ان کے بارے میں ایک بہت بڑا اضطراب پایا جاتا تھا ۔ جب یونیورسٹی نے ان کی معطلی اور پھر نوکری سے برخاست کیے جانے کی خبر عام کی تو ہم میں سے کچھ کو بہت دھچکا لگا اور وہ بہت پریشان ہوئے اور کچھ وہ دبی ہوئی تنبیہات دہرانے لگے جو انہیں اس عورت نے ان کے ایسے رویے پر دی تھیں۔ مجھے یاد ہے میں نے ایک سہیلی سے کہا:' میں جان گئی ہوں کہ ایسے خوش نما مردوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے میں خاموش رہنے والی خواتین کو ترجیح دیتی ہوں ۔' طارق رمضان بھی اسلاموفوبیہ کے بڑھتے موسم میں موجود میری پسندیدہ شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کی آواز بہت اہم محسوس ہوتی تھی، لیکن ان کے عوامی شخصیت کے برعکس ان پر الزام نے ان کی اصلیت بدل کر رکھ دی۔میں سوچ میں پڑ گئی کہ میرا عوامی طور پر خوشحال اقدار دکھانے والے مردوں کے ساتھ فوری ردعمل ان پر شک کا ہی ہونا چاہیے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان، گھومشی اور انصاری نے ایک جیسا تشدد کیا جس کا ان پر الزام تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے کریئر اور ذاتی زندگیاں ان کے خوشحال اقدار سے مستفید ہوتی ہیں۔ وہ عوام مین خود کو اپنے کام میں عزت دار اور قابل اشخاص کی صف میں کھڑا کرتے ہیں اور اصل زندگیوں میں وہ بری طرح ناکام تھے۔  میں صرف غم و غصے کا تصور کر سکتی ہوں جب میں انصاری صاحب کو جو گولڈن گلوب اسٹیج پر کالے کپڑوں میں 'ہیش ٹیگ می ٹو تحریک' کی حمایت میں کھڑے ، ٹایمز اپ کی پن پہنے،ناقدین کی طرف سے ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے جو انہوں نے جنسی تشدد اور سیکس ازم کے حوالے سے منعقد شو میں حاصل کیا دیکھتی ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بند دروازوں میں وہ کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں۔  اسٹیج پر ، اپنے شو میں وہ صحیح بات کرتے تھے، انہیں ٹھیک باتوں پر یقین تھا، ان کے سیاسی اقدار کا نظریہ ٹھیک تھا اور ان کی اس مکمل درست شخصیت کو سراہا جاتا تھا۔ اس منافقانہ رویے نے مجھے اپنا تجربہ لکھنے پر مجبور کیا۔ تا کہ دنیا کو اور شاید انصاری صاحب کو پتہ چلے کہ سیاست ان کے کردار سے تال میل نہیں کھاتی۔

ہیرو کا کردار

*کیسے کوئی آسانی سے حقوق نسواں کے حمایتی ہونے کی حیثیت سے جانا جانے والا اور معاشرتی رہنما کسی قسم کی تکلیف اٹھائے بغیر اپنی شخصیت کا ایسا سنجیدہ تاثر رکھتا ہے۔ ایک داستان "لیڈیز اینڈ جینٹل مین" میں دیو شاہ کا کردار انصاری نے کیا، جس میں انہوں نے سیکس کی قسمیں دریافت کیں جو ایک عورت سہتی ہے۔ ایک سین میں دیو اور ان کا ساتھی ارنلڈ اپنی خاتون دوست ریچل کو ڈینس سےاپنے ساتھ گزرے حراستگی کے تجربات بتاتے ہوئے سنتے ہیں۔: گھر تک پیچھا کیا جانا، بغیر اجازت کے اس کی قربت حصل کرنے کی کوشش کرنا، عورت کا شرم سے خاموش رہنے کا فائدا اٹھانا وغیرہ۔ آرنلڈ کہتا ہے:' سنو! ہم جیسے دو شریف مرد تمہاری کیسے مدد کر سکتے ہیں؟' ریچل جو دیو کی محبوبہ ہے کہنے لگتی ہے:' مجھے نہیں پتہ۔ ایسا کچھ مت کرو بس؟' یہ ہی شاید اس داستان کا سب سی اہم حصہ تھا ۔ دیو اور آرنلڈ غورو خوض کرتے ہیں کہ کیسے وہ ان جنسی حرکات پر قابو رکھیں تب ہی اس داستان میں دیو
ہیرو پن میں اس سلسلے میں کامیاب ہوتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ دیا اور ڈینس ایسے شخص کو گرفتار کرتے ہیں جو راستے میں بے خوف مشت زنی کر رہا ہوتا ہے۔ باوجود اس کے کے دونوں اس شخص کو گرفتار کرتے ہیں لیکن ارد گرد کی خواتین دیو کی تعریف کرتی دکھائی جاتی ہیں۔ وہ کسی بار میں یہ کہانی بیان کرتا ہے کہ کیسے اس نے اس آدمی کو گرفتار کیا۔وہاں موجود عورتیں اس کی اس بہادری سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے بعد جذبات میں آ کر ایک عورت اسے اپنے سیکس کے تجربات بتانے لگتی ہے اور دوسری عورت بتاتی ہے کہ کیسے اسے کسی اجنبی کے سامنے ذیادہ مسکرانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ تب دیو بے چین ہو کر اپنے ارد گرد کی خواتین سے کہتا ہے:' کیوں؟ کیوں کہ عورت کو ایک ڈالر کے اند 23 سینٹ کم ملتے ہیں ۔ کیوں کہ گورنمنٹ آپ کے جسموں پر راج کرنے کی کوشش کر رہی ہے ' تمہاری مسکراہٹ پر بھی۔  اس کے بعد وہ دوسری عورتوں کے گروہ میں جا کر اپنی بہادری اور اس آدمی کی گرفتاری کا قصہ سنانے لگتا ہے۔ان میں سے ایک ہنستے ہوئے کہتی ہے ؛" یہ تو تم نے کمال کیا چلو سب ایسے ہی ایکشن کریں۔" اس بات پر بہت شاباش اور انچی آواز
میں گانے اور عورتوں کا رقص دیو کو خراج تحسین کے طور پر ملتا ہے۔ کہانی عورت کی کہانی پر نہیں بلکہ دیوکے لیے مساوات پر ختم ہوتی ہے۔ دوسرے ایکٹ میں دیو کا دوست اور کو سٹار شیف جیف جنسی تشدد کے الزام میں پکڑا گیا۔ یہ داستان شیف کے ہاتھوں لٹی عورت کی نہیں بلکہ اس سین کا تعلق کہانی
کے پلاٹ سے تعلق رکھتا ہے: اس میں دیو کا کیریر تباہ ہو جاتا ہے۔ دیو پریشان ہوتا ہے کیوں کہ اس کا تعلق ایسے گناہ گار سے ہوتا ہے۔ وہ تب تک کچھ نہیں کرتا جب تک یہ بات لوگوں تک نہیں پہنچتی۔ جب شیف جیف اور دیو ٹی – وی پر براہ راست دکھائے جاتے ہیں تو دیو موقع کی مناسبت سے جیف سے فاصلہ اختیار کر لیتا ہے تاکہ وہ اپنا عوام پر سے یقین نہ گنوابیٹھے۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر کچھ ایسا کیا تو وہ برداشت نہیں کرے گا۔ انصاری نے ایسا تاثر دیا کہ اس کا گریس کے ساتھ یہ سب ایک حادثہ تھا اور یوں انہوں نے اپنی عومی حیثیت واپس بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ اس بارے میں سوال کرنے اور قبول کرنے کے بجائے انہوں نے سیدھا کہا کہ:' میں اس تحریک کی حمایت کرتا رہوں گا جو ہماری ثقافت میں ہورہا ہے ۔ یہ بہت ضروری ہے اور اس پر پورا عبور حاصل کرنے میں بہت دیر لگے گی۔ ' بد قسمتی سے کتنا آسان ہے مساوات ، ان کے مسائل اور ان کے ساتھ ذیادتی کے خلاف آواز اٹھانا، اور حمایتی بننے کا ڈرامہ کرنا ۔ خاص طور پر جب کوئی مرد ایسا کرتا ہے۔ لیویس سی۔ کے نے بھی ان کی سیاسی خوشحالی پر جشن منایا اور انہوں نے گولڈن گلوب کی تقریب میں شرکت کی، وہ بھی شاید کالے کپڑوں میں تھے اور شائد ٹائم اپ پن بھی لگائے ہوئے تھے۔ جیمز فرینکو بھی سٹیج پر آئے اور انہوں نے بھی گولڈن گلوب حاصل کیا اور ٹائم اپ پن لگوائی۔ اور اس کے بہت کم عرصے بعد ان پر جنسی تشدد کا الزام لگا۔ ان پر الزام لگانے والی اور سابق شاگرد نے کہا کہ یہ پن ان کو لگاتے دیکھ کرانہیں ایسا لگا کہ ان کے منہ پر کسی نے تھپڑ مارا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت دور تک اور گھنٹوں کی گفتگو کے بعد کمیونٹی کی عورت ضرور بولے گی۔ " اپنے خیالات بچا کر رکھیں،" ایک عورت نے مجھے تنبیہ کی۔ ایک اور سکالر خاتون نے مجھے پروفیسروں کے ایسے رویے کے بارے میں خبردار کیا جن کے ساتھ میں کام کرنے کا سوچ رہی تھی۔  بد تمیزی اور برباد کرنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں۔ جنسی حراساں کرنے سے نظریات چرانے تک۔ ان سے بچنے کے کوئی آسان طریقے نہیں ہیں۔ لیکن صدیوں سے تکلیف دہ سوالات ضرور ہیں عورت کو پریشان کرنے اور الجھانے کے لیے۔  اس کے بعد ہم ان جیسے پردوں پر سرگوشیاں کرتیں کہ کیسے دیکھنے میں کچھ اور اصل میں کچھ ہوتے ہیں اور ان سے خود بھی باز رہتے اور دوسروں کو بھی خبردار کرتے تاکہ ان کے شکار سے ہر کوئی بچ جائے۔  وہ عورتوں کے دکھ درد پر بات کر کے اپنا عوامی تاثر مضبوط کرتے ہیں اور اپنے کرئیر میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح کے مردوں کو دیکھ کر خود سے گھن آہی ہے منہ پر تھپڑ پڑا محسوس ہوتا ہے۔ وہ موقع پا کر لکھ سکتے ہیں اور معاشی عدل پر سوشل آرٹ بنا سکتے ہیں اور ان کاموں سے پہچان اور تعریفیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے ایسے شو ایک کے بعد دوسرے ہٹ ہوتے جاتے ہیں۔ جبکہ خاتون جو خود پر گزرے حادثے کو بیان کرنے کی ہمت کرتی ہے وہ جیسے خود کو ان حملوں کے لیے کمزور بناتی ہیں۔ عورت کے لیے با اختیار ہونے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ قیمت صرف جزباتی یا جسمانی حراستگی تک محدود نہیں جان بھی جا سکتی ہے۔ ایک بہت جانی مانی مثال قندیل بلوچ کی ہے۔ جسے ان کے اپنے نظریات پر عمل کرنے پر مار دیا گیا۔ بہت سی خواتین کو اس گناہ میں دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ انڈسٹری میں جگہ بنا سکیں ــــــ چاہے وہ فلم انڈسٹری ہو یا اکیڈیمک۔ چاہے امریکہ ہو یا پاکستان وہ خاتون جو سیکس کے بارے میں بات کرے اسے موت کی اور جنسی حراستگی کی، دھمکیاں ملتی ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو کورٹ اورقانون کی ساتھ ساتھ عوم کی نظر میں بھی چیر پھاڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔  اس نے کیا پہنا تھا؟ وہ یہاں کیوں کھڑی ہے؟ ہمیں کیسے پتہ وہ سچ بول رہی ہے۔ کیا وہ اپنا کرئیر تباہ کرنا طاہتی ہے؟ کیا ایسا جان بوجھ کے کیا اس نے؟ ان باتوں کی وجہ سے عورت خاموش رہتی ہے ۔ یا گریس کی طرح تخلص استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے یونیورسٹیاں غنڈی گردی، جنسی تشدد ، متاثرین، مجرموں اور گالی گلوش سے بھری پڑی ہیں۔ اسی لیے خواتین بولتی نہیں کورٹ یا قانون کا سہارا نہیں لیتیں۔ اس ہیش ٹیگ اور آن لائن پٹیشن کے دور میں بامقصد اور اہم مذاکرات کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ یہ کیسے معلوم کریں کہ یہ گفتگو دکھاوا نہیں بلکہ اپنے آُپ سے گفتگو ہے؟ ہماری پروگریسو سیاست کی ناکامیاں کون کون سی ہیں؟ کیا ہماری سیاست کچھ زیادہ مطالبات نہیں کر رہی؟ کیا یہ سیاستدان لوگوں کو معیاری تعلیم نہیں دے رہے؟ آئیڈیا اور حقیقت کے بیچ کا گیپ کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کیسے مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور کیسے یہ پرفارمنس میں آسانی پیدا کر سکتا ہے؟ اس کا متبادل کیا ہونا چاہیے؟ ہم اس سے آگے کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم کیسے اپنی تعلیم بہتر کر سکتے ہیں؟ ہیش ٹیگ می ٹو جیسی مہمات کا مقصد مردوں کو پن پہن کر فیمنسٹ مارچ میں شرکت پر آمادہ کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں سر عام اعلان کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے کہ وہ فیمنسٹ ہیں۔ یہ کام تو بہت آسان ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہونا چاہیے جیسا ۔ماسٹر آف نن۔ میں ریچل کہتی ہے: ایسا کرنا بند کرو۔ اس کا مقصد حقیقی فیمنزم ہونا چاہیے نہ کہ پرفارمیٹو فیمنزم۔ یہ ایک پر مشقت اور مشکل پراسس ہے جس میں ایک انسان کو اپنی حرکات اور خیالات پر بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے اور اس کےلیے لائم لائٹ پر آنے یا ہیش ٹیگ کا سہارا لینا ضروری نہیں ہوتا۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *