کتا کتے کو کاٹتا ہے

عاصم سجاد اختر

جام ساقی کو خراج تحسین پیش کرنے کا طریقہ ڈھونڈتے ہوئے، کیونکہ انہوں نے اس ملک کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اور طاقتور اداروں اور جماعتوں کے خلاف سختیاں اور صعوبتیں برداشت کر کے بھی عوام کے لیے آواز اٹھائی، مجھے ایک بہت بڑے کمیونسٹ لیڈر کی تصویر ملی جس میں ملٹری ڈکٹیٹر کے کارندے اس بہادر شخص کو عدالت میں ٹرائل کے دور سے گزار رہے تھے اور لیڈر کے ساتھ بے نظیر بھٹو ان کی  سپورٹ کے لیے موجود تھیں۔ اس سے مجھے یاد آیا کہ 80ء کی دہائی میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کتنا مختلف تھا۔ وہ بہت بھیانک اور ڈکٹیٹر شپ کا دور تھا لیکن اس وقت کچھ پروگریسو فورسز ایسی بھی تھیں جنہوں نے طلبا اور نوجوانوں کی مدد سے نظریاتی سیاست کے خلاف جدو جہد میں بھر پور کوشش کی تھی۔  اس امیج کو آج کے دور سے ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں بہت کم پروگریسو لوگ ہیں جو مین سٹریم پارٹیوں میں بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود تنہائی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کا اندازہ موجودہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کےو اقعات اور رضا ربانی کی بحیثیت چئیر مین دوبارہ تعیناتی جنہوں نے ہمیشہ عدلیہ کی حد سے تجاوز کرنے اور اسٹیبلمشنٹ کی حکومت پر دباو ڈالنے کی مخالف کی کے معاملے میں انہیں اپنی پارٹی لیڈر شپ کی مخالفت کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرحت اللہ بابر کو بھی جنہوں نے پراٹورینازم کے خلاف ہمیشہ جدو جہد کی اپنی پارٹی ترجمان کی حیثیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ سب پچھلے چھ ماہ کی سیاسی صورتحال کا نتیجہ تھا جب ن لیگ کے اندرون میں کچھ پھوٹ پڑی۔ ایک طرف نواز شریف فیکشن تھا جس نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے خلاف سازشوں کا الزام دیا تو دوسری طرف الیکٹیبلز تھے جنہوں نے اپنے وردی میں ملبوس سرپرستوں کو ناراض نہ کرنے کو ترجیح دی تا کہ وہ ملکی سیاست میں اپنی ساکھ بچائے رکھ سکیں۔ 40 سال پہلے کی بات ہے جب ضیا دور میں کتا کتے کو کاٹتا ہے والا فارمولا ایجاد ہوا اور اس کے بعد بہت سے سیاسی اتار چڑھاو دیکھنے کو ملے۔ 1960 کی دہائی کے اواخر سے ایک دہائی تک، پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں بہت سی سماجی اور سیاسی تحریکیں دیکھنے کو ملیں جس میں ورکرز، طلبا، خواتین، دانشوروں، فنکاروں اور مذہبی طبقہ نے جوش و خروش دکھایا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ضیا کا
اقتدا ر میں آنے کا مقصد بھٹو کو ہٹانا یا پیپلز پارٹی کو کمزور کرنا تھا انہیں اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ضیا کا مقصد 70 کے انتخابی عمل کے
ذریعے ملک میں جمہوری عمل کے پروان چڑھانے کے عمل کو روک کر کنگ میکر کا اختیار واپس اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں دینا تھا۔  آج پاکستان میں خود مختار سماجی اور سیاسی تحریکیں چل رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیپٹلزم، پدرانہ نظام، امپیریلازم اور ظلم کے نظام کا متبادل نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ مثلا خواتین کے حقوق کے آواز صرف خواتین کو ہی اٹھانا ہے، مزدوروں کے حقوق کے لیے صرف مزدور ہیں اور دوسرے لوگ ان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ اب پطرس مسیح اور ساجد میسح کا معاملہ ہی دیکھ لجیے جس میں ریاستی اداروں نے جو رویہ اپنایا وہ یہ تھا کہ جب تک وہ بے گناہ ثابت نہیں ہوتے تب تک ان سے مجرموں والا سلوک کیا جائے گا۔ پطرس مسیح پر توہین مذہب کا کیس تھا۔ کچھ لوگوں نے اس رویہ کے خلاف احتجاج کیا لیکن صرف عیسائی برادری بھی کھل کر اپنے ہم مذہب کی حمایت نہ کر پائی۔ جام ساقی اور عاصمہ جہانگیر جن کی وفات ابھی کچھ دن قبل ہوئی اور کسی حد تک بے نظیر بھٹو کو ایسے دور میں سیاسی طور پر تربیت یافتہ بنایا گیا جب یہ امید پائی جاتی تھی کہ انسان یعنی عام عوام مل کر ایک پر امن اور جمہوری معاشرہ تیار کر سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ لیفٹسٹ کا چیلنج اس قدر حقیقی تھا کہ جام ساقی جیسے پہچان رکھنے والے لیڈرز کو بھی سخت دباو اور تشدد کے ذریعے رام کرنے کی کوششیں کی گئیں کیونکہ وہ نظام کو بدلنے کے لیے گھروں سے نکلے تھے۔ آج بھی ظلم و جبر کی صورتحال تقریبا ویسی ہی ہے، لوگوں کو لا پتہ کر دیا جاتا ہے، انٹرنمنٹ سینٹرز بنائے گئے ہیں وغیرہ لیکن اب لیفٹسٹ چیلنج کا خوف اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔  ہمارے ہاں طاقت کے حلقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سابقہ جرنیلوں کے ساتھی سیاستدان جتنے مرضی پینترے بدل لیں، ملک میں تبدیلی تبھی آئے گی جب عام آدمی خود تبدیلی میں پورے وثوق سے حصہ لے گا۔ صرف اسی صورت میں الیکشن بھی با معنی ثابہت ہوں گے اور عوام کو نمائندگی ملے گی۔ ورنہ صرف دھونس اور پیسے کا کھیل ہی چلتا رہے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ٹنل کے آخر میں کچھ روشنی نظر آ رہی ہے۔ پختون لانگ مارچ نے اپنا اثر دکھانے کا عمل تیز کیا ہوا ہے اور فاٹا کے عوام نے خاموشی توڑ دی ہے اور قومی مفاد کے نام سے ان کے علاقے میں جو بھیانک کھیل کھیلا گیا اس پر اب وہ بول رہے ہیں۔ کچھ دن قبل
وومن ڈے کے موقع پر کراچی میں خواتین نے عورت مارچ کا انعقاد کیا اور اسلام آباد میں وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کا افتتاح بھی ہوا۔ امید کی جاتی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی اور سیاسی ماحول میں کتا کتے کو کاٹتا ہے والا فارمولا ختم ہو جائے گا۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *