وائٹ گولڈ کی جنگیں

پاکستان کا حکمران طبقہ جن میں میں ملٹری، عدلیہ اور سویلین قیادت جس میں بزنس مین سے سیاستدان بننے والے لوگ شامل ہیں، اور کچھ غیر حاضر زمین مالکان جو پارلیمنٹ میں قبضہ جمائے بیٹھے ہیں انہوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان سب کی دولت کی ہوس اور تمام اداروں پر دھونس جمانے کی حرص نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے مسائل میں گھری ریاست بنا چھوڑا ہے۔ ایک طرف ملک بھاری قرضوں میں ڈوبا ہے اور دوسری طرف عدالتوں میں حکمران طبقہ اپنے بزنس بڑھانے کے لیے اور خاص طور پر شوگر ملز کے شعبہ میں نئے مواقع پیدا کرنے کے  لیے عدالتوں مین کوششیں کر رہا ہے۔ ایک حالیہ کیس جس کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے دیا ہے اور جس پر میڈٰیا میں کافی گہما گہمی ہوئی ہے اس میں پٹیشنرز کا الزام یہ تھا کہ ملز مالکان اپنے بزنس بڑھانے کے لیے قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق اتفاق شوگر ملز چنی گوٹ، ڈسٹرکٹ بہاولپور، میں نئی ملز قائم کرر ہا ہے جب کہ حسیب وقاص شوگر ملز لمیٹڈ موضع جگمال، تحصیل جتوئی، ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ میں نئی مل قائم کرنے کے درپے ہے۔ عبداللہ (یوسف) شوگر ملز لمیٹڈ نے تحصیل جام پور، ڈسٹرکٹ راجن پور میں نئی ملز کے قیام کے لیے نظریں گاڑ رکھی ہیں تو دوسری طرف عبداللہ شوگر ملز لمیٹڈ اور چوہدری شوگر ملز ڈسٹرکٹ رحیم یار خان میں اپنی ملز قائم کرنا چاہتے ہیں۔ عام حالات میں تو ان شوگر ملز کے قیام پر شاباش بنتی ہے کیونکہ اس سے پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نشانات نظر آتے ہیں۔ لیکن جو نظر آتا ہے اس کے بر عکس بہت سی چیزیں ہیں جن میں حکمران طبقہ قانون
کی دھجیاں بکھیر کر دوسرے بزنس پر دھونس جمانے کی کوشش میں مصروف ہے۔  رٹ پٹیشن نمبر 37 کے پیراگراف 6 میں لکھا ہے:  پٹیشنرز کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ ریسپانڈینٹ شوگر ملز کے مالکان چیف منسٹر پنجاب، وزیر اعظم اور ان کے فیملی ممبران ہیں۔ اس لیے یہ نوٹس ان کے اپنے بزنس کو تحفظ دینے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نوٹیفیکیشن چیف منسٹر، پرائم منسٹر اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے مزید ملز قائم کرنے کےمواقع پیدا کرنے اور اسے قانونی شکل دینے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یہ واضح طور پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اتفاق شوگر ملز لمیٹڈ اور چوہدری
شوگر ملز لمیٹڈ کے مالک میاں محمد نواز شریف، حسن نواز شریف، حسین نواز شریف، مریم نواز، کلثوم نواز، حمزہ شہباز اور ان کے دوسرے رشتہ دار ہیں۔ حسیب وقاص شوگر ملز کے مالک حسیب الیاس، زکریا الیاس، شہزادی الیاس اور ان کے فیملی ممبران ہیں۔ عبداللہ شوگر ملز کے مالک میاں محمد اعجاز معراج، یاسمین ریاض اور ان کے فیملی ممبران ہیں۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ ہائی کورٹ کے آرڈر سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز اب بھی پاکستان میں کاروبار میں حصہ رکھتے ہیں باوجود اس بات کے کہ کئی مواقع پر وزیر اعظم نواز شریف یہ دعوی کر چکے ہیں کہ ان کے بیٹوں کے ملک میں کوئی بزنس نہیں ہیں۔ لیکن اس کیس سے کچھ اور ہی حقیقت کھلتی ہے۔ دونوں بیٹوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان میں ٹیکس ادا
کریں۔ ایف بی آر نے جو ٹیکس ڈائریکٹریز 2013، 2014 اور 2015 میں شائع کی ہیں ان میں کہیں بھی حسن نواز، اور حسین نواز کا نام شامل نہیں ہے۔  یہ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ دنیا بھر سے قرضہ لے رہے ہیں لیکن ان کے تحت کام کرنے والی ایف بی آر کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وزیر اعظم کے بیٹے جو اس شوگر مل کی ملکیت رکھتے ہیں وہ اپنے ٹیکس جمع نہیں کروا رہے۔ میں پہلے بھی اپنے کالمز میں بیان کر چکا ہوں کہ ایف بی آر کو صرف مخالفین کو تنگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا پھر ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کے لیے اس کی خدمات لی جاتی ہیں۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لمیٹڈ بمقابلہ پنجاب حکومت کیس سے یہ بلکل واضح ہو چکا ہے۔  پٹیشنرز کی بنیادی پرابلم یہ تھی کہ ریسپانڈینٹس شوگر ملز کے انتقال کے نام سے نئی شوگ ملز تیار کر رہے ہیں باوجود اس بات کے کہ سپریم کورٹ نے نئی ملز کے قیام کی مخصوص علاقوں میں پابندی عائد کر رکھی ہے۔مدعی علیہ کمپنیوں کا بنیادی
موقف یہ ہے کہ یہ لوگ نہ تو نئی ملز بنا رہے ہیں اور نہ ہی پرانی ملز کو پھیلا رہے ہیں۔ وہ تو صرف اپنی ملز کو نئی جگہ پر منتقل کر رہے ہیں جہاں پر
ملز کو منتقل کرنے پر ایک 2016 میں جاری کردہ آرڈیننس کے تحت پابندی ہے۔  لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا 33 اور 34 میں خاص طور پر لکھا: 2013 میں پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں شوگر ملز کے قیام پر پابندی کے فیصلے کا دفاع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کاٹن کی پیداوار والے علاقوں میں شوگر ملز قائم کرنا کاٹن کی پیداوا ر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس طرح پنجاب حکومت نے دو عدالتوں کے سامنے متناقض موقف پیش کیے۔ ایک طرف کہا گیا کہ رحیم یار خان، ملتان، راجن پور اور بھکر جیسے علاقوں میں شوگر ملز نہ لگائی جائیں تا کہ کاٹن کی پیداوار پر اثر نہ پڑے اور دوسری طرف کہا گیا کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور نہ ہی ایسا کرنا قومی مفاد کے خلاف ہو گا۔  البتہ اس عدالت کے سامنے پنجاب حکومت نے کابینہ کمیٹی کی سفارشات پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ جواب پیش کیا تھا کہ چونکہ کچھ علاقوں میں گنے کی پیداوار کی وجہ سے کاٹن اور گندم کی پیداوار کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن اب ماحول اور موسم بدل چکا ہے اور رحیم یار خان، ملتان، راجن پور، بھکر وغیرہ جیسے علاقوں میں گنے کی پیداوار سے کاٹن کی پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گنے کی مل قائم کرنے سے قومی مفاد پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔  لاہور ہائی کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اس کیس میں پنجاب حکومت کی پوزیشن غیر مستحکم ہے اور پچھلی بار اس کا موقف مختلف تھا۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کے موقف کو اہمیت دیتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس لیے اب پنجاب حکومت اس کے بر عکس دلائل پیش کرنے کا حق نہیں رکھتی۔  پیرا 40 میں حکومت کے خلاف فرد جرم کا واضح حکم موجود ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اس کیس میں ری لوکیشن پالیسی سے قومی مفاد کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ اس کا مقصد چند شوگر ملوں کو فائدہ پہنچانا تھا جن کے مال چیف منسٹر پنجاب خود ہیں۔ پیرا 42 میں قوانین کی خلاف ورزی پر تنبیہ ان الفاظ میں کی گئی ہے: معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ حکومت نے نہ صرف چند شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی بلکہ ان لوگوں کے خلاف ایکشن لینے میں بھی ناکامی کا سامنا کیا جنہوں نے
بغیر قانونی پیشگی اجازت کے ملز قائم کر لیں۔ ان لوگوں نے صوبے کے ماحولیاتی قوانین کا بھی خیال نہیں رکھا اور پیشگی اجازت بھی نہیں لی۔ آخر میں پیرا45 میں عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ ریسپانڈینٹ شوگر ملز  کے خلاف سخت قانونی ایکشن لے کیونکہ انہوں نے بغیر اجازت لیے غیر قانونی طریقے سے مزید ملز قائم کی ہیں اور قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف اپنے خلاف یا اپنی فیملی کے ممبران کے خلاف خود کیسے ایکشن لے سکتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ جب اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا تب کیا فیصلہ آتا ہے۔ اگر اپیکس کورٹ نے اس کی تصدیق کر دی تو آرٹیکل 201 کے تحت پنجاب حکومت پر اس کے خلاف ایکشن لینا لازمی ہو جائے گا۔  اس فیصلے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رولنگ فیملی کا مقصد اور ایجنڈا اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اقتدار اور دولت کے ساتھ اپنے بزنس بڑھانے کی حوس کی وجہ سے تصادم کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ سیاستدان اور سرکاری اہلکار بغیر کسی چوں چراں کے رولنگ فیملی کی خدمت کرتے ہوئے ملک کے قوانین توڑنے میں مصروف ہیں اور قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں جیسا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے۔

source : http://tns.thenews.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *