ملک ریاض بمقابلہ ریٹائرڈ فوجی افسران

اسلام آباد۔ 46 گولفرز کی ممبرشپ کا تنازعہ شدت اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہنچ گیا۔ ایسے گولفرز جن کی ممبرشپ معطل ہوئی ہے ان میں14 سابقہ آرمی افسران جن میں سے 8 ریٹائرڈ برگیڈئیر ہیں بھی شامل ہیں۔ سوسائٹی میں کل 571 کنال کا رقبہ 2 عدد گولف کورس کے لیے مختص کیا گیا تھا اور ایک گولف کورس 350 کنال رقبہ پر تعمیر کر لیا گیا ہے۔  مقدمہ داخل کرنے والے گولفرز جائنٹ ایکشن کمیٹی کا حصہ تھے جو 5 فروری کو بنائی گئی اور اس کا کام کلب کے لیے مختص زمین پر رہائشی اور کمرشل پلاٹ کے خلاف ایکشن لینا تھا۔ جب کمیٹی نے اپنی پریشانی کا اظہار بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض سے کیا تو سوسائٹی نے 46 گولفرز کی ممبرشپ کینسل کر دی۔  اسلام آباد ہائی کوٹ میں پٹیشن فائل کرنے سے قبل کمیٹی نے بیرسٹر ممتاز علی کے ذریعے بحریہ ٹاون چیف کو 20 فروری کو نوٹس جاری کر دیا تھا۔ اس لیگل نوٹس میں کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ ہاوسنگ سوسائٹی کی انتطامیہ غیر قانونی تعمیرات فوری بند کر دے جو اس وقت گولف کورس میں بنائی جا رہی ہیں۔ جے اے سی کے صدر ابرار حسین اور کرنل سہیل احمد کی طرف سے داخل کردہ پٹیشن میں سی ڈی اے، بحریہ ٹاون کے سی ای او اور پاکستان گولف فیڈریشن کو مدعی علیہ بنایا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ مخصوص زمین سی ڈی اے کی حدود میں آتی ہے کیونکہ یہ اسلام آباد کے زون 5 میں پڑتی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ سی ڈی اے نے بحریہ گارڈن سٹی کے لیے ایک لے آوٹ پلان منظور کیا تھا جس میں 9 ہول والے دو گولف کورس اور ایک کلب ہاوس کی منظوری دی گئی تھی۔ لے آوٹ پلان کی منظوری کےبعد بحریہ ٹاون انتظامیہ نے 18 ہول گولف کورس چمپئن شپ کے اشتہارات بھی شائع کیے۔ معاملہ سی ڈی اے کے نوٹس میں اس وقت لایا گیا جب انتظامیہ نے گولف کورس کے لیےمختص جگہ کو رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا لیکن سی ڈی اے نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس میں کہا گیا کہ ایک دوسرے کیس میں سی ڈی اے نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں بہت سے لے آوٹ پلان کی خلاف ورزیون کا ذکر کیاگیا تھا جو بحریہ ٹاون کے مختلف فیز میں دیکھی گئی تھیں اور کورٹ نے ایمنٹی لینڈ پر تعمیر کے خلاف سٹے آرڈر جاری کیا تھا۔ یہ رپورٹ جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے روبرو پیش کی گئی اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ گرین ایریا کا 69 کنال کا علاقہ اور بحریہ ٹاون فیز 3 کا قبرستان کا علاقہ ایک کمرشل پلازا کو الاٹ کر دیا گیا ہے۔ بحریہ ٹاون فیز 7 میں قبرستان کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں باوجود اس کے کہ سوسائٹی کی تعمیر کے نقشہ پر قبرستان کی جگہ مختص کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گرین ایریا میں ایک پارٹ اور ایک گراونڈ کو بھی رہائشی پلاٹوں کے لیے مختص کر لیا گیا۔ بحریہ ٹاون گارڈن سٹی میں بالترتیب35اور 50 کنال کا علاقہ جو قبرستان کے لیے مختص کیا گیا تھا اسے بھی پلاٹس کے لیے استعمال کر لیا گیا ہے۔ پٹٰشن میں ہائی کورٹ سے اپیل کی گئی کہ سی ڈی اے کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ محکمہ کی طرف سے منظور شدہ لے آوٹ پر عمل کریں اور عوامی سہولتوں کے لیے مختص زمین کو رہائشی اور کمرشل پلاٹ کے لیے استعمال نہ کریں۔ دوسری طرف بحریہ ٹاون انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہاوسنگ سوسائٹی میں کسی قسم کی غیر قانونی تعمیرات
نہیں کی گئیں ہیں اور پٹیشنر کا دعوی بے بنیاد ہے۔ ریٹائرڈ لیفٹینٹ کرنل خلیل جو ایک سینئر بحریہ ٹاون انتظامیہ کے اہلکار ہیں نے کہا کہ مینیجمنٹ نے کبھی
گولفرز کے لیے 2 کورس بنانے کا وعدہ نہیں کیا۔ اگر کسی نے 18 ہول گولف کورس کھیلنا ہے تو وہ گولف سٹی یا مری روڈ جائے جو یہاں سے صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 36 ہول والا گولف کورس بنایا گیا ہے۔ لوگ وہاں جا کر بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ سوسائٹی لوگوں کو رہائشی سہولیات دینے کے لیے بنائی گئی ہے نہ کہ گولف کھیلنےوالوں کو خوش کرنے کے لیے

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *