فواد چوہدری سے عامر لیاقت تک

واصف ملک

Image result for wasif malik

یہ جولائی 2011ء کی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹیریٹ میں کیپٹن (ر) حسن کے ساتھ موجود تھا۔ وہ میرے ساتھ چئیر مین پی ٹی آئی کے ویژن اور ملکی سیاست میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر ینگ انٹلکچوئیلز کا ایک تھنک ٹینک قائم کیا جائے تاکہ پاکستان کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر پالیسیز بنائی جائیں اور نوجوانوں میں سے بہترین دماغوں کو آگے لایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہی نوجوان پاکستان اور یہاں کی سیاست کا چہرہ بنیں۔ یہ تھنک ٹینک نوجوانوں کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کرے تاکہ پاکستان تحریکِ انصاف ان سفارشات کی روشنی میں پالیسیز مرتب کرکے نئے پاکستان کی تشکیل کر سکے۔ عمران خان نئے پاکستان میں پرانے گھسے پٹے سیاست دانوں کا کوئی کرداردیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اور وہ فرسودہ نظامِ سیاست کو یکسر بدل کر رکھ دینا چاہتے تھے۔

ینگ انٹلکچوئلز کی ٹیم تشکیل دینے کا کام انہوں نے کیپٹن حسن کو سونپا تھا، کیپٹن حسن کو اس سلسلے میں مدد درکار تھی۔ میرے لئے یہ بڑی خوشی کی بات تھی کہ آخر کار پاکستان نے ایک ایسا لیڈر پا لیا ہے جوروایت سے ہٹ کر سوچ سکتا ہے اور اس کے لئے عملی کام کر رہا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عمران خان، شیخ رشید احمد ایسے” کامیاب “سیاستدان بننے کی نسبت ناکام ہونا پسند کرتے تھے۔ تب وہ شیخ رشید کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ تو دور انہیں اپنا چپڑاسی بنانے لائق بھی نہ سمجھتے تھے۔

بعد ازاں کیپٹن حسن نے میری ملاقات عمران خان سے بھی کروائی۔ چند منٹ کے لئے ہونے والی یہ ملاقات قریب پون گھنٹہ جاری رہی۔ عمران خان نے ینگ انٹلکچوئیل پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کوئی کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں تو آپ کو خواب دیکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے فاسٹ باؤلر بننے سے لے کر ورلڈ کپ جیتنے تک اور پھر شوکت خانم اسپتال کے قیام تک سب لوگ اس کو ناممکن کہتے رہے۔ لیکن وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے جتے رہے۔ اور انہوں نے سب کر دکھایا۔ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی اس لئے انہیں زندگی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اب لوگ کہتے ہیں کہ بڑے بڑے ناموں کے بغیر تحریکِ انصاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن وہ نوجوانوں کی مدد سے ملکی سیاست کے چلن کو ہمیشہ کے لئے بدل دیں گے۔ وہ کسی طور اپنے اصولوں کو قربان نہیں کریں گے۔ اس ملاقات نے مجھے بڑا متاثر کیا۔

عمران خان کی اِن باتوں نے مجھے 1992ء کی وہ صبح یاد دلادی جس روز فاتح کپتان، سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال کے اسمبلی ہال میں ہمارے سامنے موجود تھا۔ اسی جذباتی انداز میں انہوں نے شوکت خانم اسپتال کے لئے باتیں کی تھیں۔ پھر انہوں نے اسپتال بارے جو خواب قوم کو دکھائے انہیں سچ کر دکھایا۔ اس ملاقات کے بعد مجھے پورا یقین ہو گیا کہ عمران خان پاکستان اور پاکستانیوں کی تقدیر بھی ضرور بدل دیں گے۔
لیکن اب کی بار میں غلط تھا، یہ مجھے 30 اکتوبر 2011ء کو پتہ لگا۔ اس دن نے عمران خان اور تحریک انصاف دونوں کا رخ بدل دیا۔ تحریک انصاف نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔ تحریکِ انصاف صفِ اول کی جماعت بن گئی اور عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہنما ہو گئے۔ پاکستانی سیاست کے کرپٹ اور گھسے پٹے چہرے جن سے عمران خان کو شدید نفرت تھی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر عمران خان کی جھولی میں گرنے لگے۔ عمران خان نے بھی “فرشتے کہاں سے لاؤں” کہہ کر انہیں سینے سے لگا لیا۔ جاگیر داروں، وڈیروں، پیروں اور سابق وزیروں کی یہ پلٹن تحریک انصاف کے سر کا تاج ہوئی۔ عمران خان روائیتی سیاست کا حصہ بن گئے۔ ہو سکتا ہے ان” منجھے” ہوئے سیاستدانوں کی انجمن سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ بھی پہنچا ہو لیکن ان کی شمولیت نے عمران خان کولاکھوں مخلص نوجوانوں سے دور کر دیا جو عمران خان کو نئے پاکستان کا سرخیل سمجھتے تھے۔

30 اکتوبر 2011ء سے عمران خان نے ‘ہیروں’ کی تلاش شروع کر دی ، ان کی یہ ہیروں کی تلاش فواد چوہدری اور عامر لیاقت پر آکر رکی۔ کہتے ہیں انسان کو خوش گمان ہونا چاہئیے لیکن اب انسان کتنا بھی خوش گمان ہو جائے تب بھی یہ گمان کیسے کئے جا سکتا ہے کہ فواد چوہدری اور عامر لیاقت جیسوں کے سنگ نئے پاکستان کی تعمیر کر لی جائے گی۔

پی ٹی آئی کا سارا ووٹ بنک عمران خان کی شخصیت ہی کی وجہ سے ہے، پھر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لئے اس کرپٹ ٹولے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ ابھی بھی عام انتخابات میں کچھ وقت پڑا ہے۔ عمران خان نوسربازوں سے جان چھڑوا کر نوجوانوں کی نئی ٹیم بنائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو پھرآنے والے انتخابات میں انہیں کسی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں رہے گی اور نہ ہی کوئی دھاندلی انہیں شکست دے پائے گی۔ عمران خان کو یاد رکھنا ہو گا کہ ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم جیسا ورلڈ کلاس اسپتال بنانے میں اس لئے کامیاب ہوئے کیونکہ تب انہوں نے اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا تھا، اس لئے انہیں سمجھوتہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔


Courtesy:http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=5714

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *