باجوہ ڈاکٹرائن کا تجزیہ

کچھ دن قبل باجوہ ڈاکٹرائن عوام کے سامنے آیا۔ لیکن ابھی تک کسی سیاسی جماعت نے اس بیانیہ کا جواب اس کی حمایت میں یا اس کے خلاف نہیں دیا۔ یہ بیانیہ کم اور آرمی چیف کی پالیسی سٹیٹ منٹ زیادہ محسوس ہوتا ہے جس میں قمر جاوید باجوہ نے گورننس کے ہر مسئلے جیسے ڈیفنس، خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی اور تعلیم و ترقی کے لیے اقدامات پر اپنی آراء پیش کی ہیں۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ بیانیہ آرمڈ فورسز کی طرف سے ملکی تاریخ کا مطالعہ اور ریسرچ کے بعد ترتیب دیا گیا ہے ۔ اس بیانیہ میں بہت سے عقلمندی کی باتیں موجود ہیں جن کا بہت توجہ سے تجزیہ کرنا ضروری ہے تا کہ بیانیہ کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ اس کے باوجود یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سیاسی جماعتیں جنرل باجوہ کے اس ڈاکٹرائن کے جواب میں اپنا موقف سامنے لائیں گی خاص طور پر وہ جماعتیں جنہوں نے مل کر 18 ویں ترمیم کو منظور کروایا ۔ لیکن ابھی تک ہر طرف سے خاموشی ہی اختیارکی گئی ہے اور صرف کچھ اخباری کالمز کے ذریعے صحافیوں کی طرف سے یا پھر سوشل میڈیا پر تبصرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن کی 18 ویں ترمیم پر رائے میرے الفاظ کے مطابق کچھ یوں ہے: اس ترمیم کی وجہ سے صوبائی اور مرکزی حکومت کے بیچ ایک عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ صوبے اس پوری اور بھاری ذمہ داری کو اٹھانے کی قابلیت نہیں رکھتے ۔ یہ ترمیم مجیب الرحمان کے چھ نکاتی فارمولا سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کی وجہ سے فیڈریشن ایک کنفیڈریشن میں تبدیل ہو گئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایسا کہنے سے ترمیم تو ختم نہیں ہو گی کیونکہ ترمیم ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ لیکن محرک سپریم کورٹ جو پچھلے کچھ عرصہ سے زیادہ ہی محرک ہے کسی بھی وقت اگر باجوہ ڈاکٹرائن سے متفق ہو جاتی ہے کہ تو ایک ہی حکم سے اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے۔ شیخ مجیب الرحمان کا جو چھ نکاتی فارمولا تھا اس میں پاکستان کو کنفیڈریشن بنانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ اس کا مقصد پاکستان کو یونیٹری ریاست سے ایک حقیقی فیڈریشن میں بدلنا تھا۔ سچ یہ ہے کہ اگر جنرل یحیی اگر مجیب الرحمان کی تجویز مان لیتے تو بنگلہ دیش کا وجود ہی دیکھنے کو نہ ملتا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات جاننے کے لیے میرے دوست بابر ایاز کا کالم پڑھیں جو 17 جنوری 2018 کو شائع ہوا تھا۔ خو د بھی سوچ لیں کہ جس شخص نے پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ کیسے پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ جس قدر محنت شیخ مجیب نے پاکستان کے قیام کے لیے کی اس کی مثال کوئی بھی پنجابی سیاستدان پیش نہ کر پایا۔ 18 ویں ترمیم کے ذریعے فیڈریشن اور صوبوں کے بیچ عدم توازن کے معاملے کی تردید کرتے ہوئے ایک ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے 20 مارچ کو ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا: این ایف سی ایوارڈ پر حملہ ' اور یہ کالم بزنس ریکارڈر میں شائع ہوا۔ معاشیات کے بارے میں علم رکھنے والوں میں اس ملک میں ڈاکٹر پاشا کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ اب تک150سے زیادہ کتابیں اور مضامین شائع کر چکے ہیں جن میں گورننس، پبلک فائنانس، اربن اور ریجنل اکنامکس، غربت اور سماجی ترقی، انڈسٹری، انرجی اکنامکس، وغیرہ جیسے اہم معاملات پر بحث کی گئی ہے۔ اپنے اس مضمون میں ڈاکٹر پاشا فیڈریشن اور ترمیم کی بدولت آنے والے فرق کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مجموعی طور پر اس آئینی ترمیم سے پاکستان کی فیڈریشن مضبوط ہوئی ہے۔ اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فیڈرل گورنمنٹ کے ٹوٹل ریونیو میں صرف ٹیکس ریونیو نہیں بلکہ نان ٹیکس ریونیو بھی شامل ہیں۔نان ٹیکس ریونیوز مکمل طور پر فیڈرل حکومت کے پاس جاتے ہیں اور اس میں سے محض چند براہ راست ٹرانسفر ہی منہا ہوتے ہیں۔ جنرل پاشا نے کہا: اس لیے یہ ریونیو نہ صرف قرض اتارنے کے لیے کافی ہے بلک ہاس سے دفاعی اخراجات بھی پورے کیے جا سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر 2016-17 میں نیٹ ریونیو رسید کے مطابق کل 2528 بلین روپے فیڈرل حکومت کے پاس جمع ہوئے۔ ڈیٹ سروسنگ اور ڈیفنس کے لیے صرف 2237 بلین درکار تھے۔ اس طرح دوسرے اخراجات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس 347 بلین روپے
موجود تھے۔ ڈاکٹر پاشا کے مطابق فیڈرل حکومت میں اس وقت 41 ڈویژن ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر 18ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہیں۔ ترمیم کی منظوری کے بعد تعلیم اور صحت اور دوسرے ترقیاتی پروگرام صوبوں کے ہاتھ میں چلے جانے چاہیے تھے ۔ اپنے آرٹیکل کے اختتام پر ڈاکٹر پاشا لکھتے ہیں: 18 ویں ترمیم کے مطابق مرکزی حکومت کی طرف سے صوبوں کو اختیارات اور معاشی ذمہ داریون کی منتقلی پر ایک تفصیلی بحث کی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف صوبائی حکومتوں کو زیادہ کردار اور اختارات ملیں گے بلکہ فیڈرل گورنمنٹ کو بھی محدود کیا جا سکے گا۔

source : https://dailytimes.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *