مقدمہ فراڈ ہے، ہم بھاگنے والے نہیں

اسٹار وٹنیس کو دنیا نے دیکھ لیا اور سن لیا، ایک ایک کرکے تمام الزامات کو وکیل صفائی نے دھلوا دیا، یہ مقدمہ بدعنوانی کا نہیں بلکہ فراڈ ہے، جس میں بہت ساری قوتوں کا ہاتھ ہے، ثابت ہو رہا ہے سب کچھ سیاسی ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اس مقدمے میں تو سزا دی نہیں جاسکتی، اگر سزا دینی ہے تو ان کا نام کوٹیکنا، حج اسکینڈل، این ایف سی، ای او بی آئی میں ڈال دیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تماشا زیادہ دیر نہیں چل سکتا ، فراڈ عدالت میں ثابت ہوتا جا رہا ہے اور معاملہ منطقی انجام تک پہنچ رہا ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ جو کام چیف جسٹس صاحب کا نہیں وہ اس طرف نہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بھاگنے والے نہیں اور نہ ایسا سوچا، ورنہ اس مقدمے کے لیے کیوں آتا، میری اہلیہ بیمار ہیں مجھے وہیں رہنا چاہیے، میں گیا اور پھر واپس آیا، اب جانا چاہتا ہوں لیکن جانے نہیں دیا جارہا۔نواز شریف نے کہا کہ ہم پر مقدمہ بدعنوانی کا نہیں، یہ فراڈ ہے جو میرے اور فیملی کے ساتھ ہورہا ہے اس میں بہت ساری قوتوں کا ہاتھ ہے، یہ مقدمہ سیاسی مخالفین نے دائر کیا اور جس طرح کی سیاسی زبان اس بینچ نے ہمارے خلاف استعمال کی اس سے ثابت ہورہا ہے کہ سب کچھ سیاسی ہے، اس میں کچھ نہیں نکل رہا، جنہوں نے یہ دائر کیا انہیں شرمندگی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات پر نوازشریف نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔میاں نوازشریف نے کہا کہ چیف جسٹس جس طرح پچھلے کئی ماہ سے مختلف معاملات پر بات چیت کرتے ہیں، اسپتالوں میں گئے ہیں، انہوں نے پرائیوٹ اسپتال اور کالجز کے بارے میں جو جائزہ لینے کی کوشش کی، اس کا ٹارگٹ بھی ہم تھے، یہ وثوق سے نہیں کہہ سکتا لیکن یہ میرا خیال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں مقصد یہ تھا کہ ہم پر ہاتھ ڈالا جائے، کچھ ہوتا تو ہاتھ ڈالا جاتا، چیف جسٹس سڑکوں، سیکیورٹی، دودھ اور پینے کے پانی کی بات کرتے ہیں میں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی، مقننہ کا کردار بدقسمتی سے دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا، قانون کو نیچے کیا گیا ، سیاسی جماعتوں کو ختم کیا گیا اور مجھے بھی صدارت سے اتارا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشنوں نے ایگزیکٹو کا کرداراپنے قابو میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یہ ضرور کریں لیکن ان اٹھارہ لاکھ مقدموں کا کچھ کریں جو زیر التوا ہیں، لوگ پریشان ہیں اس وقت کا انتظا رکرہے ہیں کہ کب وہ وقت آئے گا ہمیں انصاف ملے گا، مقدمے بھگتتے ہوئے لوگوں کی نسلیں گزر گئیں۔مسلم لیگ ن کے قائد نے چیف جسٹس سے متعلق کہا کہ جو آپ کا کام نہیں آپ اس طرف نہ جائیں،یہ میرا نکتہ نظر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس کو جو کام نہیں کرنا چاہیے وہ نہیں کرنا چاہیے اور جو کرنا چاہیے وہ میں نے بتادیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *